Home » کورونا پر سیاست

کورونا پر سیاست

by ONENEWS

بھتیجی عائشہ اعظم کا ونیکوور کینیڈا سے فون آیا، کورونا کی صورت حال کا پوچھا، احتیاطی تدابیر کے بارے میں سوالات کئے اور ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اپوزیشن جلسے کرنے پر بضد ہے، حالانکہ پوری دنیا کوروناکی دوسری لہر کے بارے میں انتہائی خوف کا شکار ہو چکی ہے۔ اس نے بتایا کہ یہاں تو دوسروں کے گھروں میں ملاقات کے لئے جانا بھی خلاف قانون قرار دیا جا چکا ہے اور اسے قابلِ دست اندازی پولیس بنا دیا گیا ہے۔ مَیں نے کہا بھتیجی کیا پوچھتی ہو، ہمارے ہاں تو ماسک پہننے کو ہی یقینی نہیں بنایا جا سکا،  اب بھی صرف پانچ فیصد لوگ ماسک پہنتے ہیں۔ اس نے کہا مَیں نے سوشل میڈیا پر وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کی ایک وڈیو دیکھی ہے،جس میں وہ بازاروں میں ماسک کی پابندی کرانے کے لئے خود نکلے ہوئے ہیں، یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ مَیں نے کہا ہاں یہ وڈیو مَیں نے بھی دیکھی ہے اور آزاد کشمیر میں لاک ڈاؤن بھی نافذ کیا گیا ہے، خاصی سختی بھی کی جا رہی ہے،لیکن پاکستان میں صورتِ حال کو غیر سنجیدہ بنا دیا گیا ہے۔ اس دوران مجھے کینیڈا میں مقیم اپنے بھائی رائے فاروق کی بات یاد آئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میڈیا صرف یہ بتاتا ہے کہ کورونا سے اتنے لوگ ہلاک ہو گئے، حالانکہ بتانا یہ چاہیے کہ کورونا سے مرنا کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے، پل پل سانس بند ہوتی ہے اور انسان خود کو موت کے عذاب میں مبتلا دیکھتا ہے۔

کیا یہ باتیں ہمارے ہاں کوئی سمجھنے یا سننے کو تیار بھی ہے؟ یہاں تو ٹی وی پر بیٹھ کر یہ کہا جا رہا ہے کہ کورونا ہو یا کوئی دوسرا عذاب، ہمارے جلسے جاری رہیں گے۔ سب کو یہ جلدی ہے کہ حکومت کو گھر بھیجا جائے، اس بات کی کسی کو پروا نہیں کہ جو لوگ کورونا میں مبتلا ہو کر دنیا سے جا رہے ہیں، ان کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو کیا ہو گا؟ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، آج کی صورتِ حال دیکھ کر اس پر یقین ہو چکا ہے۔ ہر صبح اخبار میں یہ خبر چھپی ہوتی ہے کہ کورونا سے نشتر ہسپتال ملتان میں مزید 5یا6مریض مر گئے۔ ہر صبح دل کانپ جاتا ہے کہ نشتر جیسے ہسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے ایک بار پھر وارڈز خالی کرا لئے گئے ہیں۔ یہ اس شہر کا سب سے بڑا ہسپتال ہے، جہاں اپوزیشن 30نومبر کو ہر قیمت پر جلسہ کرنا چاہتی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے اور کیسز بڑھنے پر مزید علاقوں میں لاک ڈاؤن کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ خدارا اب اس بیانیہ کو بند کیا جائے کہ حکومت کورونا کی دوسری لہر کا پروپیگنڈہ اس لئے کر رہی ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کو روکا جا سکے۔ لوگ تو سامنے مر رہے ہیں، کورونا مریضوں کی تعداد تو ہسپتالوں میں بڑھ رہی ہے، مگر اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن دسمبر کے گزرنے سے پہلے حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ یہ ایسا بھیانک منصوبہ ہے  جس میں اپوزیشن کو کامیابی ملے یا نہ ملے،کورونا کو ضرور اپنی حشر سامانی دکھانے کا موقع مل جائے گا۔ سردی کا موسم اور کورونا کا پھیلتا ہوا جال اگر موت بانٹنے لگے گا تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

اُدھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، البتہ اس نے این سی او سی کے اس فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ 300سے زائد افراد کو اکٹھا نہیں ہونا چاہیے۔اُدھر حکومت نے اس فیصلے کے بعد کہہ دیا ہے کہ اب کوئی اجتماع ہوگا تو وہ غیر قانونی کہلائے گا اور اگر اس کی وجہ سے کورونا پھیلا اور اموات ہوئیں تو ذمہ داری منتظمین پر عائد ہو گی۔ یہ فیصلہ بھی ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں کہ اجتماع ہونے دیا جائے اور اموات کی صورت میں قانون حرکت میں آئے۔ کسی اجتماع میں تو لوگ کورونا کا شکار ہو کر فوراً نہیں مریں گے، یہ وائرس تو رفتہ رفتہ مارے گا۔ پھر یہ فیصلہ کیسے ہو گا کہ جس کورونا سے بندے مرے، وہ اجتماع سے ہوا تھا یا بعد میں کسی اور جگہ سے اس نے  مرنے والوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ حکومت کی یہ بے بسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر اجتماعات پر پابندی لگائی ہے، تو پھر سختی سے اس پر عمل بھی کرایا جانا چاہیے۔ ”آدھا تیتر آدھا بٹیر“  سے معاملات خراب نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا یہ بات بڑی دل خوش کن نظر آتی ہے کہ جمہوریت میں تحریک چلانے کی آزادی ہے اور احتجاج پر سب کا حق ہے، مگر دنیا بھر میں جہاں جہاں جمہوریتیں ہیں، وہاں آج کورونا کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا تک موقوف قرار دے دیا گیا ہے، تحریکوں اور جلسوں کی اجازت تو دور کی بات ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بالکل درست کہا ہے کہ حکومت کی کمزوریاں قدم قدم پر نظر آ رہی ہیں، بلکہ خود حکومت نے کورونا کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ گلگت بلتستان میں وزراء جلسے کرتے رہے، اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت نے دھرنا دیئے رکھا، وزیراعظم خود بھی جلسوں سے خطاب فرماتے رہے۔ اب اپوزیشن یہ الزام دے رہی ہے کہ جب حکومت کے تمام مقاصد پورے ہو گئے تو جلسوں پر پابندی لگا دی، اس لئے ہم اس پابندی کو نہیں مانتے۔ کیا این سی او سی اپوزیشن کے بڑے رہنماؤں کو بلا کر ایک بریفنگ نہیں دے سکتی، جس میں پورے اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ یہ ثابت کرے کہ کورونا سے بچاؤ کے لئے اجتماعات پر پابندی کیوں ضروری ہے؟ کیا صرف ٹی وی پر بیٹھ کر وزراء اپوزیشن کو یہ طعنے دیتے رہیں گے کہ وہ کورونا پر سیاست نہ کرے، حالانکہ یہ کام تو دونوں طرف سے ہو چکا ہے اور اب بھی جاری ہے۔ اب صرف سپریم کورٹ ہی ایک ایسا ادارہ رہ گیا ہے جو سوموٹو ایکشن لے اور اس صورتِ حال سے ملک کو نکالے، وگرنہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈلاک تو کسی بڑے سانحے کی بدخبری سنا رہا ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment