Home » کورونا وائرس کے ہنگامے میں نئی پریشانی صوبائی حکومت جانے کا خطرہ کتنے وزرا نے استعفے بھیج دیئے ؟تعداد سامنے آگئی

کورونا وائرس کے ہنگامے میں نئی پریشانی صوبائی حکومت جانے کا خطرہ کتنے وزرا نے استعفے بھیج دیئے ؟تعداد سامنے آگئی

by ONENEWS


کورونا وائرس کے ہنگامے میں نئی پریشانی، صوبائی حکومت جانے کا خطرہ، کتنے وزرا …

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان حکومت کے مابین اختلافات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں اور 4 صوبائی وزرا نے اپنے استعفوں پر دستخط کردیے ہیں جبکہ ایک وزیر پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں۔

ہم اور 24 نیوز نے  بتایاکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر صوبائی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے4 صوبائی وزرامٹھا خان کاکڑ، نور محمد، سردار مسعود لونی اور محمد خان نے وزیر اعلیٰ سے اختلافات پر اپنے استعفے تیار کرکے وزیراعلیٰ جمال کمال کو بھجوادیئے ۔ چاروں وزرا کاکہناتھاکہ ان کی وزارتوں میں بے جا مداخلت کی جارہی ہے ، ان کا تعلق پشتون بیلٹ سے ہے ،انہیں فنڈز بھی فراہم نہیں کیے جارہے ، خود وزیراعلیٰ کا تعلق بلوچ بیلٹ سے ہے ، صوبائی وزیر سردار سرفراز ڈومکی پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ناراض  صوبائی وزرا سے رابطہ کرکے انہیں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ناراض ارکان کے تحفظات دور کردیے جائیں گے۔ادھر سینئر تجزیہ نگار نوید چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی کارگردی پر وزرا عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں، کافی عرصے سے صورتحال ڈانواں ڈول ہے ، باپ اور اس کی اتحادی جماعتیں بھی کام نہ ہونے کی باتیں کررہی ہوتی ہیں، دلچسپ صورتحال ہے کہ چاروں وزرا نے ایک ہی دفعہ بیٹھ کر استعفے تیار کیے اور بھجوادیئے، اب صورتحال اس طرف جارہی ہے جہاں حکومت دبائو میں آئے گی ، پہلے تو کبھی کبھار کسی نہ کسی طرف سے ایک آدھ بیان آجاتا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف وزیراعلیٰ خود بھی نہیں بلکہ بیوروکریسی کو بھی کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں، وزرا بھی دعوے کررہے ہیں کہ ان کی وزارتوں میں مداخلت ہورہی ہے ، پتہ نہیں وہاں معاملات کون کنٹرول کررہاہے؟ عجیب و غریب فیصلے بلوچستان میں ہورہے ہیں، ایک طرف کورونا کے وار جاری ہیں تو دوسری طرف ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کیاگیا، یہ الگ بات کہ خبروں کی بہائو میں یہ واقعہ دب کر رہ گیا۔

مزید :

اہم خبریںسیاستعلاقائیبلوچستانکوئٹہ





Source link

You may also like

Leave a Comment