Home » کورونا لہر اور لاک ڈاؤن

کورونا لہر اور لاک ڈاؤن

by ONENEWS

کورونا لہر اور لاک ڈاؤن

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایک بار پھر کورونا کی لہر جاری ہے اور حکومت نے شادی ہالوں،دکانوں اور کاروباری اوقات پر ایک بار پھر پابندی کا اعلان کیا ہے، جس سے کاروباری طبقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے،کیونکہ ایک تو کورونا سے قبل بھی پاکستان کے معاشی حالات اتنے قابل رشک نہیں تھے کہ پاکستان جیسا ملک اس لاک ڈاؤن کو برداشت کر پاتا،پھر کورونا کی وبا نے رہی سہی کسر نکال دی۔ اس دوران اس وبا  نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔امریکہ و یورپ سمیت پاکستان جیسے ممالک میں بھی اس بیماری نے اپنے پر پھیلائے رکھے۔ اب حکومت ایک بار پھر  لاک ڈاؤن کرنا چاہتی ہے اور مختلف کاروباروں کو مخصوص وقت میں کھولنے یا مکمل بند کرنے پر غور کر رہی ہے،

جو پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت کے لئے زہر قاتل ثابت ہوں گے، شادی ہالز پر تو پابندی کا اعلان کیا جا چکا ہے، جس کی وجہ سے اس سے وابستہ لاکھوں لوگوں کے لئے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ اب تو ڈبلیو ایچ او نے بھی مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کر دی۔ ڈبلیو ایچ او نے بھی پاکستان اور ترقی پذیر ممالک کی کمزور معیشت کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن نہ کرنے کی تلقین کی ہے  احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو اس وبا  پر زیادہ اچھے طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ احتیاطی تدابیر کیا ہیں کہ ہر ایک شخص کو ہجوم میں جانے سے قبل ماسک پہننا چاہئے، ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ رکھنا چاہئے، ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال متواتر کرتے رہنا چاہئے، صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے تا کہ یہ موذی مرض انسانوں کے قریب نہ پھٹک سکے،کیونکہ ہماری اس بیماری کے حوالے سے اپنی پالیسی تو کوئی ہے نہیں جو پالیسی یا طریقہ کار دیگر ممالک نے اختیار کیا ہم نے بھی وہ اختیار کیا۔ وہ تو اللہ کا کرم ہوا۔ پاکستان میں یہ وبا اس طرح نہیں پھیل سکی، جس طرح دیگر ممالک میں اس نے لوگوں کو اپنے شکنجے میں جکڑے رکھا۔

اب جب ڈبلیو ایچ او کہہ رہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن غریب ملکوں کے لئے کورونا سے زیادہ خطرناک ہے تو اس پر حکومت وقت کو غور کرنا چاہئے،کیونکہ اگر مکمل لاک ڈاؤن ہو گیا تو جو رہا سہا کاروبار ہے اور جو لوگ ابھی اپنی کما کر کھا رہے ہیں،انہیں سڑکوں پر آتے دیر نہیں لگے گی،کیونکہ خدا خدا کر کے لاک ڈاؤن اور کورونا ختم ہو اتو لوگوں نے کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا تا کہ دوبارہ سے ٹوٹے ہوئے سلسلے جوڑے جائیں، جہاں سے کاروباری رابطے منقطع ہوئے تھے،وہاں سے دوبارہ سلسلے شروع کئے جائیں تا کہ ایک تو ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور دوسرا اپنے پیاروں کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے رزق حلال کما سکیں کیونکہ حکومت اگر لاک ڈاؤن کی جانب آتی ہے تو اس حکومت کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرانا چاہئے، جس پر وہ خود بھی عمل پیرا نہیں ہے۔  جب خود حکومتی لوگ یا وہ لوگ جو انتظامیہ میں شامل ہیں،وہ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کریں گے تو پھر عوام سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان کے احکامات پر من و عن عمل کریں …… ”خود گڑ کھاتے ہیں اور عوام کو میٹھے سے پرہیز کا مشورہ دے رہے ہیں“…… یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں چلیں گے، کیونکہ ابھی ہمارا شمار امیر کبیر ملکوں میں نہیں  اور نہ ہی ہماری معیشت امریکہ،چین یا برطانیہ کی طرح اتنی وسیع ہے کہ دو چار ماہ کیا ایک سال بھی لاک ڈاؤن لگا رہے تو فرق نہ پڑے۔

بہتر تو یہ ہے کہ آگہی مہم تیز کی جائے، تا کہ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور سب سے پہلے اس پر انتظامی مشینری کو عمل کرنا چاہئے تا کہ ان کی بات میں اثر بھی ہو، اس کے علاوہ جو غریب لوگ ہیں، مزدور طبقہ ہے یا جو چھوٹے طبقے کے کاروباری لوگ ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر کما کر کھانے والے ہیں، جن کی فیکٹریاں نہیں چل رہیں،  جن کے کارخانے نہیں، جن کے اکاؤنٹس میں اربوں کھربوں روپیہ نہیں پڑا ہوا کہ چلو کوئی بات نہیں لاک ڈاؤن ہو گیا تو کیا ہوا بینک بیلنس ہے، اسی کے بل پر باقی عرصہ بھی گزار لیں گے۔

اس طبقے کا ذکر اکثر عمران خان اپنی تقریروں میں بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے اس طبقے کا بہت خیال ہے تو اسی طبقے کا خیال کرتے ہوئے اب مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی کو چھوڑنا ہو گا کیونکہ وہ طبقہ آئے روز کی پابندیوں سے بیزار ہو چکا ہے، کیونکہ اگر وہ کاروبار کھولتے ہیں یا کچھ بھی معاشی سرگرمی کرتے ہیں تو دیگر انتظامی اداروں کے اہلکار آ دھمکتے ہیں اور ان سے کاروبار کرنے کے لئے بھتہ وصول کرتے ہیں۔اس حکومتی و انتظامی بدمعاشی سے ان کی جان چھڑانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں،ڈبلیو ایچ او کی بتائی ہوئی احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد کرانے کے لئے زور لگائیں اور جن مزدوروں کا یا مزدور طبقے کا ذکر ہر تقریر میں کرنا عمران خان ضروری سمجھتے ہیں، اس کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment