Home » کورونا: ایک عارضی حماقت اور ایک دائمی موت!

کورونا: ایک عارضی حماقت اور ایک دائمی موت!

by ONENEWS

کورونا: ایک عارضی حماقت اور ایک دائمی موت!

کورونا پاکستان میں بارِ دگر سر اٹھا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ تک کورونا کی وجہ سے اموات کا گراف بہت حد تک گر چکا تھا۔ روزانہ تین چار لوگوں کی وفات تک معاملہ آ چکا تھا۔ اس حوالے سے کئی بیرونی ممالک پاکستان کی مثال دے رہے تھے کہ اس ملک میں اس وبا کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے کھل گئے تھے اور بازاروں گلیوں میں بعض لوگوں نے ماسک پہننے بھی شروع کر دیئے تھے۔ تاہم ہماری آبادی کا ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو کورونا کی ہلاکت آفرینی پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ دیہات اور قصبوں کے لوگ تو بالکل اس کی پروا نہیں کرتے تھے اور وہاں گویا بالکل کورونا سے اموات کا کوئی وجود نہ تھا۔ لیکن شہروں میں ہزاروں لوگ اس کا شکار تھے۔ جتنا بڑا شہر تھا اتنی زیادہ اموات اس میں رپورٹ ہوتی تھیں۔ ٹیسٹنگ کا معاملہ  بھی عجیب تھا۔جہاں زیادہ ٹیسٹ ہوتے تھے وہاں Positive کیسوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہسپتالوں میں بھی مریضوں کا رش زیادہ تھا۔ لاہور میں ایک پرائیویٹ لیب نے کورونا کی اس وبا میں کروڑوں اربوں کا بزنس کر لیا تھا۔ حکومت نے  NCOC کا قیام عمل میں لا کر روزانہ مریضوں کی تعداد اور اموات کا حساب کتاب سائنسی بنیادوں پر استوار کر لیا تھا۔ میڈیا نے اس بیماری کی روک تھام اور پیشگی احتیاطوں کا جونقارا بجایااس کو ہر جگہ، ہر کسی نے سراہا اور یہاں تک کہ ہمارے ہمسایوں نے بھی ہماری تقلید کی۔ یہ بات دوسری ہے کہ ان کو پاکستان جیسی کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔ بلاشبہ ہماری قوم پر ربِ کریم کا خصوصی اکرام و انعام تھا!

پھر یکایک گزشتہ دنوں کورونا سے اموات کا گراف بڑھنے لگا۔ جہاں روزانہ اموات کی تعداد 3،4 تھی وہاں 30،32 تک چلی گئی…… یہ اعداد و شمار حواس باختہ کرنے والے تھے۔ حکومت نے اس کا سخت نوٹس لیا اور کورونا کی اس دوسری ’ارتقائی لہر‘ کو گلوبل لہروں کے مقابل رکھ کر روک تھام کا ایک نیا پروگرام (یانظام) روبہ عمل لانے پر کمرباندھ لی۔ بچوں کے سکولوں کی بندش زیرِ غور لائی گئی، موسمِ گرما کی رخصتوں کو موسمِ سرما میں دینے کا نظام زیرِ غور آیا جس پر صوبوں کی تعلیمی وزارتوں نے صاد نہ کیا۔ وزیراعظم کورونا کے سلسلے میں اول روز ہی سے ایک عاجل اور حساس رویہ رکھتے ہیں۔ان کے روک تھام کے سابقہ پروگرام وغیرہ چونکہ بار آور ثابت ہوتے رہے اس لئے ان کا خیال تھا کہ تعلیمی اداروں کو فی الفور بند کرکے موسمِ گرما کی جگہ موسمِ سرما کی طویل تعطیلات متعارف کروا دی جائیں۔ اب آخری فیصلہ 23نومبر کو متوقع ہے۔ دیکھا جائے گا کہ دورانِ ہفتہ کورونا کی ضربیں کس سمت کا رخ کرتی ہیں۔

عمران خان نے شادی ہالوں پر بھی بعض پابندیاں لگا دی ہیں، مہمانوں کی اِن / آؤٹ ڈور تعداد بھی 300تک محدود کر دی ہے اور عوامی جلسے جلوسوں کو ختم کرنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ خود PTI نے رشکئی میں ہونے والا 21 نومبر کا اجتماع منسوخ کر دیا ہے۔ حکومت نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم میں اپنی فتح کی خوشی میں جشن منانے کا پروگرام بنایا ہوا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے اسے بھی ختم کرنا پڑے گا۔ اپوزیشن نے حکومت کی طرف سے عوامی جلسوں کی بندش کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔اس کا خیال ہے کہ بڑے بڑے جلسے کرکے اور کثیر التعداد لوگوں کو ان جلوسوں میں لا اور دکھا کر شاید حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا ہے!…… کاش ایساہو سکتا!!…… لیکن ابھی پاکستانی قوم اتنی بے وقوف نہیں بنی کہ سیاسی جلسوں کی محض کثرتِ تعداد کو ناکامی یا کامیابی کا بیرومیٹر بنا لیا جائے۔ جس دن ایسا ہو گیا وہ پاکستان کا بدقسمت ترین دن ہوگا۔

تقریباً 8،10 ماہ سے کورونا کی عالمگیر وبا کا دور دورہ ہے۔ قارئین نے اس موضوع پر اتنا کچھ دیکھا، سنا اور پڑھ رکھا ہے کہ اس پر مزید کچھ کہنے، سننے اور لکھنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم دو تین سوال ایسے ہیں اور اتنے سادہ اور براہ راست قسم کے ہیں کہ ان کے جواب بھی اسی طرح کی سادگی اور دوٹوک جوابات کا تقاضا کرتے ہیں۔ میرے سوا، میرے خاندان کے کئی قریبی عزیزوں کو گزشتہ مہینوں میں کورونا کی Positivity کا سامنا ہوا لیکن الحمدللہ وہ تمام شفایاب ہو گئے۔ کورونا وبا کے سلسلے میں درج ذیل سوالات اساسی اور اہم نوعیت کے ہیں:

1۔ کیا عام نزلہ و زکام اور کورونائی مرض کے آغاز والے نزلہ و زکام میں فرق معلوم کرنے کا کوئی ایسا فارمولا ہے جو مسکت اور مجرب ہو؟

2۔ کن لوگوں کے لئے کورونا جان لیوا ہو سکتا ہے اور ایسے لوگ کون سے ہیں جو کورونا کا شکار ہو کر بھی 100%شفایاب ہو جاتے ہیں؟

3۔کورونا سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟

اس سے پہلے کہ درجِ بالا سوالات پر کوئی بحث کروں یاکوئی حکم لگاؤں بصد ادب یہ بتانا چاہوں گا کہ میرے بیٹے کے سسرال میں چار ڈاکٹر ایسے ہیں جو شکاگو، ملواکی اور وسکانسن (امریکہ) میں اعلیٰ سطحی ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کرتے رہے ہیں۔ میرے نواسے کا سسرال بوسٹن(امریکہ) میں ہے اور وہ بھی اسی پیشہ ء طب سے وابستہ ہے۔ اسی طرح برمنگھم اور پیرس میں کئی قریبی عزیز میڈیکل شعبے میں (بطور سندیافتہ ڈاکٹرز) کام کر رہے ہیں۔ ان سے گاہے بگاہے فون پر اس موضوع پر طول طویل باتیں ہوتی رہتی ہیں …… یہ کہانی دراز ہے…… عرض یہ کرنی ہے کہ جو کچھ کالم میں لکھ رہا ہوں وہ کوئی اٹکل پچو اور سنی سنائی باتیں نہیں ہیں بلکہ ان کو امریکہ اور یورپ کے ان مستند ڈاکٹروں کی آراء کی سپورٹ حاصل ہے جن کے شفاخانوں میں روزانہ درجنوں مریض داخل ہوتے  اور درجنوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان ممالک میں مرنے والوں کی تعداد (اس کرونائی مرض کی وجہ سے) کیوں زیادہ ہے،یہ ایک الگ موضوع ہے جس کے بارے میں اپنے ایک گزشتہ کالم میں مختصراً ذکر کر چکا ہوں۔ اب آگے جو کچھ عرض کر رہا ہوں وہ نہ صرف مغربی دنیا کے اطبّا کے مشوروں کا نچوڑ ہے بلکہ پاکستان اور مشرقی دنیا کے پیشہ ور ڈاکٹر حضرات و خواتین کی Findings بھی یہی ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ کورونائی نزلہ و زکام اور معمول کے موسمی نزلہ و زکام اور الرجی میں کیا فرق ہے؟…… اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ سال میں بالعموم آتی جاتی سردیوں گرمیوں میں نزلہ و زکام کا شکار ہوتے رہے ہیں تو آج کے نزلہ و بخار سے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ یہ کورونائی فلُو نہیں ہوگا۔ جو علاج آپ پہلے کرتے رہے ہیں، وہی آج بھی کریں اور خواہ مخوا کورونائی خوف کا شکار نہ ہوں …… ہاں اگر تین سے پانچ دن گزرنے کے بعد بھی بخار نہ اترے بلکہ شدت اختیار کر جائے تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اس کو بتائیں کہ آپ فلاں فلاں دوائیاں کھا چکے ہیں۔ وہ ڈاکٹر جو کچھ تجویز کرے، اس پر عمل کریں۔ لیکن گھر آکر اپنے آپ کو قرنطینہ ضرور کرلیں۔ قرنطینہ کے دوران وہ تمام احتیاطی تدابیر بھی عمل میں لائیں جو ڈاکٹر بتائے اور جس کو ہمارا میڈیا بھی بالعموم بتاتا رہتا ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کون لوگ کورونا کا زیادہ شکار ہوتے ہیں؟…… اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں، اگر بلڈ پریشر (ہائی یا لو) کا شکار ہیں، اگر سینے کے عمومی امراض کا شکار ہیں اور چار پانچ دن تک معمول کی ادویات کھانے کے بعد بھی علامات میں کمی نہیں آئی تو سب سے پہلے کسی ماہرِ امراضِ سینہ سے چیک کروائیں کہ آیا آپ کو کورونا ہے یا معمول کی سینے اور سانس کی کوئی تکلیف ہے…… برسبیل تذکرہ پچھلے دنوں میری ایک عزیزہ کو یہی علامات ہوئیں تو میں نے گوگل پر تلاش کرکے انہیں بتایا کہ مسلم ٹاؤن (لاہور) میں زمان چیسٹ کلینک میں چلے جائیں۔ (اس کا فون نمبر0304-4287733ہے۔ اور لینڈ لائن کا نمبر042-35864817ہے) وہ عزیزہ وہاں گئی اور مجھے فون کرکے بتایا کہ وہ ان سے خاصی مطمئن ہیں۔ ان کی تشخیص یہ تھی کہ مجھے کورونا نہیں۔ دوائی انہوں نے تجویز کر دی (آج ہی ان سے میں نے فون کرکے پوچھا ہے تو بتایا گیا ہے کہ ان کو ایک ہفتے کی دوائی کھانے سے 80% افاقہ ہوا ہے)۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے بھی بات کی اور معلوم ہوا ہے کہ وہ آرمی کے ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں۔ اور ان کا بیٹا بھی اس شعبے (Pulmonology) میں پروفیسر ڈاکٹر ہے۔ میں عزیزہ کی مکمل صحت یابی کے لئے دعاگو ہوں۔ تاہم مجھے ایک روحانی اور نفسیاتی سکون کا بھی احساس ہو رہا ہے کہ میری ذرا سی کاوش (Effort) سے اللہ کریم نے ایک مریض کو افاقہ عطا کیا!

تیسرا سوال یہ ہے کہ کورونا سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟…… یہ اتنا گھسا پٹا سوال ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا اور 20سیکنڈز تک بار بار ہاتھوں کو صابن سے مل مل کر دھونا اس مرض کی احتیاطی اور اساسی تدابیر ہیں …… قارئین محترم! آپ کو کورونا ہے یا نہیں۔یہ احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔ یہ نہ سمجھیں کہ فلاں شہر یا فلاں گاؤں والوں نے تو ان پر عمل نہیں کیا لیکن ان میں کوئی ”کورونا شورونا“ نہیں ہے…… یہ ایک ایسی عارضی حماقت ہو سکتی ہے جس کا انجام دائمی موت ہے!!!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment