Home » کورونا اور سموگ ساتھ ساتھ امراض پھیل رہے ہیں

کورونا اور سموگ ساتھ ساتھ امراض پھیل رہے ہیں

by ONENEWS

کورونا اور سموگ ساتھ ساتھ، امراض پھیل رہے ہیں

کئی روز سے موسم خراب اور عجیب ہو رہا ہے۔ درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوا تو گلے اور سانس کی بیماریوں کے حملے بھی شروع ہیں، اس کی وجہ تو سیدھی سی ہے کہ دھان کی کٹائی ختم اور گیہوں کی بوائی شروع ہونے کے وقفے کے دوران کھیتوں میں دھان کی باقیات جلائی جاتی ہیں جو ہلکی دھند کے ساتھ مل کر سموگ بن جاتی ہے اور آسمان اور  زمین کے درمیان ایک گہری تہ آ جاتی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے محکمہ ماحولیات والے کہتے ہیں کہ ہماری فضا کا ماحول ”دشمن بھارت“ خراب کرتا ہے کہ بھارتی پنجاب کے کسان وہاں کی باقیات بہت بُری طرح جلاتے ہیں اور ہوا کے ساتھ یہ دھواں ہمارے ملک میں آکر سموگ بن جاتا ہے ہمارے نزدیک یہ منطق بہانہ سازی بھی ہے کہ صرف بھارتی کھیتوں والا دھواں ہی سموگ کا ذریعہ بنتا ہے۔ حالانکہ ہم خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں، پورے ماحول کی آلودگی کا ذریعہ ہم اور ہمارے متعلقہ محکمے ہیں جو آج تک اس آلودگی پر قابو نہیں پا سکے۔ بھارت کی طرف سے جس دھوئیں کا ذکر کیا جاتا ہے، اس سے تو لاہور اور قصور ہی کو متاثر ہونا چاہیے، لیکن یہاں راولپنڈی،  پشاور، فیصل آباد اور ملتان بھی بُری طرح سموگ کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ہم شہری اور ہمارے سرکاری محکمے ہیں جو خود اس کا ذریعہ بنتے ہیں۔

ہم کئی سال سے سیر صبح کے عادی ہیں، گزشتہ پانچ چھ ماہ تو کورونا کی وجہ سے قرنطینہ جیسی کیفیت میں گزرے کہ دفتر کا کام بھی گھر ہی سے کیا، تاہم جب اس وبا سے افاقہ ہوا اور دفتر آمد  ورفت شروع ہوئی تو ہم بھی آ گئے اور فرائض کی ادائیگی یہیں سے ہوئی، حالات ہی سے مستفید ہوئے تو سیر صبح والی ٹولی کا اصرار بھی بڑھا، چنانچہ قریباً تین ہفتوں سے ہم نے بھی سیر صبح کا سلسلہ بحال کیا اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد سیر شروع کر دی۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ یہ موسم خزاں ہے اور درخت اپنی ”تعمیر نو“ کے لئے اپنے پرانے پتے جھاڑنا شروع کر چکے ہیں، جبکہ ہمارے باغبان اور لیسکو بھی اسی موسم میں اپنے فرائض شروع کرتے ہیں۔ باغبان درختوں اور پودوں کی کانٹ چھانٹ کرتے ہیں تو لیسکو والے بجلی سپلائی والی لائنوں کے تحفظ کے لئے درختوں کی کٹائی بھدے اور بُرے طریقے سے شروع کر دیتے ہیں اب ان محکموں یا شعبوں کی ”فرض شناسی“ کا یہ عالم ہے کہ یہ باقیات وہاں کی وہاں پڑی رہتی ہیں اور ان کو اٹھا کر نہیں لے جایا جاتا اور پھر جو طریقہ ایجاد ہوا وہ یہ ہے کہ ان باقیات کو ڈھیروں کی صورت میں تبدیل کرکے نذرآتش کر دیاجاتا ہے، یوں یہ دھواں پھیل کر فضا میں شامل ہو کر سموگ بن جاتا ہے، شہر میں یہی نہیں ہوتا بلکہ کوڑا کرکٹ بھی اسی عمل سے گزارا جاتا ہے۔

یہ تو عمومی منظر ہیں، جو ڈیفنس کے نواح سے ماڈل ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور وحدت کالونی جیسے علاقوں میں نظر آتے ہیں، قارئین کی اطلاع کے لئے یہ بھی عرض کر دیں کہ ہماری مادر علمی پنجاب یونیورسٹی کی کافی اراضی لیز پر گوالوں کے پاس ہے، بہت سی اراضی ایسی بھی ہے جو یونیورسٹی کی چار دیواری کی حدود میں ہے۔ ہر دو جگہ گوالے ہیں اور ہر دو مقامات پر مسلسل باقیات جلتی ہیں اور دھواں پھیل کر فضا آلودہ کرتا رہتا ہے۔

دوسری طرف واہگہ سے لاہور کی طرف مناواں کے اردگرد، بند روڈ کے اندر سائیفن سے لے کر ٹھوکر نیاز بیگ اور چوہنگ تک مختلف فیکٹریاں ہیں، ان میں آلائشیں اور ٹائر تک جلائے جاتے اور چمنیوں سے دھوئیں کے بادل خارج ہوتے ہیں، یوں لاہور آلودہ سے آلودہ ترین ہوتا چلا جاتا ہے۔ کارخانوں اور فیکٹریوں کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں۔ ملتان روڈ، جی ٹی روڈ اور فیصل آباد تک میں بھی صنعتی علاقے ہیں اور یہ سب دھواں اگلتے ہیں۔ محکمہ صنعت، موسمیات اور ماحولیات آج تک ان کے حوالے سے کوئی موثر کارروائی اور انتظام نہیں کر سکا، ہر بار بیانات اور پریس ریلیزوں کے سہارے ”کارکردگی“ بنائی جاتی ہے۔

یہ سب اس لئے عرض کرنا پڑا کہ حکومت کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے نئے نئے انتظامات کر رہی ہے، لیکن سموگ کے انسداد کی فکر نہیں حالانکہ اس سموگ کی وجہ سے گلے اور چھاتی کے امراض ہوئے تو یہ کورونا کو باقاعدہ دعوت دینے والی بات ہے اور اس سے صورت حال مختلف ہو جاتی ہے۔ حکومت نئے سرے سے سمارٹ اور لوکل لاک ڈاؤن پر عمل پیرا ہو رہی ہے لیکن دھواں تو گھروں کے اندر تک گھسا ہوا ہے، کچھ قدرت کا اپنا نظام ہے کہ درجہ حرارت کم ہونے سے دھواں منجمد رہتا ہے اور ہوا نہ چلنے سے آبادیوں ہی میں گھومتا رہتا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ہفتے کے روز سے بارش کی توقع ہے اور موسلا دھار بارش ہی سموگ سے نجات دلائے گی۔ ہم خود کچھ نہیں کریں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment