0

کورونا احتیاطی تدابیر بالکل نظر انداز!

کورونا، احتیاطی تدابیر بالکل نظر انداز!

لاک ڈاؤن ختم اور معاشی سرگرمیوں کی اجازت کے بعد ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا وبا کو نظر انداز کر دیا گیا اور وبا کنٹرول کمیٹی کی بار بار ہدایت اور درخواست کے بغیر احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ عوامی سطح پر پہلے ہی مکمل یقین نہیں کیا گیا تھا،لیکن نرمی کے بعد یہ تصور پختہ کر لیا گیا کہ کورونا موجود ہی نہیں تھا، تاہم پانچ دس یا زیادہ سے زیادہ 15فیصد لوگ عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی یہ احتیاط سماجی فاصلے کی کمی سے متاثر ہوتی ہے کہ ان کا ماسک تو کام آتا ہے،لیکن دوسرے حضرات کی طرف سے سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جاتا،اس کا ایک تجربہ تو آج ہمیں یوں بھی ہوا کہ ہم نے کافی عرصہ کے بعد دفتر آنا شروع کیا، صبح ماسک لیا اور سینی ٹائزر استعمال کر کے گھر سے نکلے کہ آج برخوردار کی ڈیوٹی صبح صبح تھی اور ہمیں لفٹ نہیں ملی، درد(شیاٹکا) کی وجہ سے تھوڑا چل کر رکشا لیا اور سپیڈو کے بس سٹاپ پر آ گئے، بس میں سوار ہوئے مسافر تو کم تھے تاہم یہاں بھی احتیاطی تدابیر والا مسئلہ تھا کہ چند مسافروں نے ماسک پہن رکھے تھے اور آدھے مسافر بغیر ماسک کے تھے۔دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ماسک والے حضرات کی اکثریت باہر سے ماسک کے ساتھ سوار ہوئی اور بس میں آ کر ماسک کو ناک اور منہ سے اتار دیا۔ایک بزرگ تو ماسک سے کچھ اور ہی کام لے رہے تھے۔انہوں نے منہ اور ناک ڈھاپنے کی بجائے ماسک کو آنکھوں  پر چڑھا کر کھوپوں کا کام لیا اور مزے سے سو رہے تھے، میرا خیال تھا کہ بس کنڈیکٹر مسافروں سے احتیاط کا تقاضہ کرے گا، لیکن وہ بھی نظر انداز کر رہا تھا، حیرت کا بڑا جھٹکا تو اُس وقت لگا جب مزنگ چونگی سے دفتر تک کے لئے15نمبر سپیڈو کا انتخاب کیا، اس بس میں بہت زیادہ لوگ تھے، سماجی فاصلہ اور ماسک اپنی جگہ یہاں بندہ بندے کے ساتھ پھنس کر کھڑا تھا اور کسی کو بھی ماسک اور سماجی فاصلے کی پروا نہیں تھی۔

یہ تو ایک تجربہ ہے تاہم کبھی کبھار جو بازار جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو ہم صاحبزادے کی گاڑی میں ہونے کے باوجود ماسک کی احتیاط کرتے ہیں، لیکن بازار میں ایسی کوئی احتیاط نظر نہیں آتی، دکانیں بدستور فٹ پاتھوں سے سڑک تک ہیں، گاہک احتیاط نہیں کرتے اور دکانیں بھی رات گئے تک کھلی رہتی ہیں، شاید تاجر بھائی کورونا کے تیزی والے دور میں لاک ڈاؤن کی کسر نکالنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس عرصہ میں آن لائن کاروبار کو بڑی وسعت ملی ہے، ہم ان حضرات سے جو آن لائن کاروبار شروع کر چکے ہیں گذارش کرتے ہیں کہ وہ اسے دیانت داری سے کریں، خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر دو نمبر مال نہ بیچیں کہ واپس کرنا تو شاید مشکل کام تصور ہو،لیکن بدنامی اور پھر کنزیومر عدالتوں سے رجوع ہو سکتا ہے۔عالمی ادارہئ صحت اور وفاقی حکومت کی طرف سے باقاعدہ آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کورونا وبا کم ضرور ہو گئی ہے،لیکن ختم نہیں ہوئی اس پر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ یہ اس کا کرم ہے،لیکن یہ امر نظر انداز نہ کریں کہ مزید احتیاط سے اس کی کسی اور لہر کو روکنا اور اسے ختم کرنا ممکن ہو سکے گا۔

یہ تو ہم نے عام حضرات کی بات کی کہ یوں بھی ہمارا سماجی رویہ اسی نوعیت کا ہے کہ ”فیر کیہہ ہویا“ تاہم ہماری اشرافیہ بھی ”نقاب پوشی“ (ماسک) سے شاید تنگ آ چکی ہے۔ گذشتہ روز جب راولپنڈی میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت ہوئی تو سابق صدر آصف علی زرداری تو کورونا کے معالجین جیسے احتیاطی لباس میں تھے، ان کی صاحبزادی آصفہ البتہ عام ماسک میں تھیں تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی اپنی گاڑی سے کسی ماسک اور احتیاطی تدابیر کے بغیر اُترے اور روائتی مسکراہٹ آمیز ہنسی کے ساتھ میڈیا والوں کے ساتھ جملوں کا تبادلہ کیا، صرف وہی نہیں، وہاں وکلاء سمیت کئی رہنما احتیاط نہیں کر رہے تھے۔ البتہ یہ بھی شاید خبر ہو کہ  ہمارے سیاسی رہنما جب میڈیا سے بات کرتے یا کسی ایسی تقریب میں حصہ لیتے ہیں،جس کی کوریج ہو تو وہ ماسک بڑے اہتمام سے منہ اور ناک پر لگاتے ہیں، بلاول بھٹو کا ماسک تو جوش میں اُتر جاتا اور وہ بار بار پھر سے اوپر کرتے ہیں،لیکن عام زندگی میں یہ حضرات بھی کوئی فکر  نہیں کرتے اور ماسک کو بُرا ہی جانتے ہیں، تو قارئین! مسئلہ یہ  ہے کہ کورونا تو ختم نہیں ہوا، پاکستانیوں نے اسے ”مُکا“ دیا ہے، ہم تو اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح اپنا کرم رکھے اور دُنیا بھر ہی سے یہ وبا ختم کر دے، کہ کاروبارِ حیات میں جو کچھ کمی رہ گئی وہ بھی پوری ہو جائے، تاہم بعض اور خبریں بھی ہیں جو دلچسپ لگتی ہیں، مثلاً وزیراعلیٰ پنجاب نے وفاقی ادارہ سے سفارش کی ہے کہ اب شادی ہال بھی کھول دیئے جائیں، ان کی یہ سفارش فوراً مان لینا چاہئے کہ اب تک سارے شادی ہال کھلے ہیں اور اکثر میں تقاریب بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ سب ایس او پیز کے بغیر ہو رہا ہے، سرکاری اجازت بہرحال ایس او پیز سے مشروط تو ہو گی،اِس لئے قانون پر عمل کرایا جائے کہ پنجاب حکومت گڈگورننس کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے، حتیٰ کہ تبادلوں کے حوالے سے تنقید بھی برداشت کر رہی ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں