Home » کنٹینرز سے کورونا روکنے کی حکمت عملی

کنٹینرز سے کورونا روکنے کی حکمت عملی

by ONENEWS

کنٹینرز سے کورونا روکنے کی حکمت عملی

حکومتی بیانیہ تو یہی ہے کہ ملتان میں جلسہ روکنے کی وجہ کورونا کے پھیلاؤ سے بچنا ہے، لیکن حکمت عملی ایسی اختیار کی جا رہی ہے کہ مجھے غلام عباس کا افسانہ ”آنندی“یاد آ رہا ہے۔اس افسانے میں میونسپل کمیٹی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ شہر کے ایک حصے میں بازار حسن کی وجہ سے فحاشی پھیل رہی ہے، اس لئے اسے ختم کیا جائے۔ بازار حسن تو ختم ہو جاتا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد اسی شہر میں کئی علاقے بازار حسن کی شکل اختیار کر لیتے ہیں …… ملتان جلسے کو روکنے کے لئے قلعہ کہنہ قاسم باغ کے اردگرد کنٹینرز لگا دیئے گئے ہیں، مقصد یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کرنے والے اس اسٹیڈیم کے اندر نہ پہنچ سکیں،اب اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ مختلف علاقوں سے جو قافلے اس جلسے میں شرکت کے لئے آئیں گے، انہیں مختلف جگہوں پر کنٹینرز کے ذریعے روک لیا جائے گا۔یہ شہر کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے،جس میں حسین آگاہی، دولت گیٹ، گھنٹہ گھر، حرم گیٹ، بوہڑ گیٹ وغیرہ جیسے علاقے شامل ہیں، جہاں تقریباً شہر کی آدھی آبادی رہتی ہے۔ کنٹینرز لگا کے ٹریفک بند کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پورا شہر جام ہو جائے گا۔یہاں عام دنوں میں بھی ٹریفک نہیں سنبھالی جاتی، اگر جلسے کی وجہ سے ہزاروں لوگ پہنچے تو جگہ جگہ پر جلسے ہو رہے ہوں گے، گویا کورونا قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم سے نکل کر شہر کے کونے کونے میں دندنا رہا ہوگا۔ اس سے تو صاف لگتا ہے کہ اس جلسے کو روکنے کا مقصد کورونا سے بچاؤ نہیں، بلکہ جنوبی پنجاب کے اس مرکز، یعنی ملتان میں ایک بڑے جلسے کو روکنا ہے تاکہ پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کو  سبوتاژ کیا جا سکے۔

حکومتیں لاکھ بدل جائیں،ان کی سوچ نہیں بدلتی، حتیٰ کہ تدبیر کاری بھی وہی رہتی ہے۔یہ کنٹینرز ڈرامہ تو پچھلے ایک دو عشروں کی بات ہے، پہلے کچھ اور کیا جاتا تھا۔ کنٹینرز آئے تو صنعتی ترقی کی علامت بن کر تھے، ہم نے انہیں تحریکیں اور دھرنے روکنے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔عقل حیران ہے کہ حکومت ملتان جلسے سے اتنا گھبرائی ہوئی کیوں ہے؟ کورونا کی وجہ سے پریشان ہے تو اس نے اپنا فرض پورا کر دیا، لوگوں کو بتا دیا اور اپوزیشن کو بھی یہ وارننگ دے دی کہ ان جلسوں کی وجہ سے کورونا میں تیزی آئی تو اس کی ذمہ دار وہ خود ہو گی۔ قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے،جو اچھی بات ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر اپوزیشن باز نہیں آتی اور عوام بھی گھر بیٹھنے کو تیار نہیں تو حکومت کیا یہی کر سکتی ہے کہ کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دے؟اگر مقصد ہجوم کو روکنا ہے تو اس حکمت علمی کے نتیجے میں تو جگہ جگہ ہجوم لگ جائے گا۔ لوگوں کو پریشانی علیحدہ لاحق ہو گی، دانشمندی تو یہی ہوئی کہ لوگوں کو اسٹیڈیم میں بلا رکاوٹ جانے دیا جائے، تاکہ وہ ایک جگہ جمع ہو جائیں، شہر میں جگہ جگہ مجمع نہ لگائیں۔ اسٹیڈیم میں احتیاطی تدابیر کے لئے بھی جلسے کی انتظامیہ سے بات ہو سکتی ہے، ہر داخل ہونے والے شخص کو دروازے پر ماسک دینے کی پابندی لگائی جائے اور شرکاء کو مجبور کیا جائے کہ وہ جلسے کے دوران ماسک نہ اتاریں تو جلسے کے دو تین گھنٹے بخیر و عافیت گزارے جا سکتے ہیں، مگر اس کی بجائے ضلعی انتظامیہ نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ کورونا کے خطرے کو بڑھا تو سکتا ہے، کم نہیں کر سکتا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ حکومت نے اگر باقی شہروں میں پی ڈی ایم کے جلسے نہیں روکے تو ملتان کا جلسہ کیوں روک رہی ہے؟ کورونا تو پشاور کے جلسے سے بھی پھیلا ہے اور خود بلاول بھٹو زرداری اس میں مبتلا ہوئے ہیں، مگر جلسہ تو جیسے تیسے گزر گیا۔ ملتان کا جلسہ تو کورونا کے علاوہ کسی بڑے سیاسی تصادم کا بھی پتہ دے رہا ہے، ایسا ہوا تو حکومت جلتی پر تیل ڈالنے کی غلطی کرے گی۔

ضلعی انتظامیہ اپنے طور پر ایسے اقدامات نہیں اٹھا سکتی، یقیناً یہ حکومت کی ہدایات ہیں، جن پر انتظامیہ عمل کر رہی ہیں، تاہم اپوزیشن کے لئے یہ سب کچھ کسی غیبی امداد سے کم نہیں۔ عام حالات میں ملتان کا جلسہ ہوتا  تو وقت گزر جانا تھا، مگر اب پورے ملک کی نظریں اس جلسے کی وجہ سے ملتان پر لگی ہوئی ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا ماحول بن گیا ہے۔ پی ڈی ایم اس جلسے کے حوالے سے کتنی پُرجوش اور سنجیدہ ہو چکی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ دادی کی وفاقت کے باوجود مریم نواز نے اس جلسے میں شرکت کو لازمی قرار دیا ہے اور پیپلزپارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کی کورونا کے باعث عدم شرکت کا خلا آصفہ بھٹو زرداری کے ذریعے پُر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر حکومت واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو جلسے کو اسٹیڈیم کی چار دیواری میں ہونے دے شہر کے طول و عرض میں لوگوں کو اکٹھا نہ ہونے دے تاکہ کورونا جگہ جگہ نہ پھیلے، مگر لگتا نہیں کہ موجودہ حالات میں حکومت کو یہ بات سمجھ آئے گی۔ اس وقت تو وزیر، مشیر، حتیٰ کہ وزیراعظم بھی ملتان کے جلسے کو ناکام بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،بیانات کی گولہ باری بھی جاری ہے اور انتظامیہ کو بھی یہ ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ وہ سرگرم کارکنوں کو گرفتار بھی کرے اور جلسے کے انعقاد کو بھی نا ممکن بنائے…… مَیں چشم تصور سے یہ دیکھ رہا ہوں کہ تیس نومبر کو ملتان کی سڑکیں کیا منظر پیش کریں گی۔ پولیس جگہ جگہ روکے گی اور کارکن جگہ جگہ متصادم ہوں گے۔ پیپلزپارٹی نے ایک معمولی سی ریلی نکالی تھی تو چوک گھنٹہ گھر میدانِ جنگ بن گیا تھا۔ اب ڈی جی خان، مظفر گڑھ، بہاولپور، وہاڑی، رحیم یار خان، خانیوال،ساہیوال اور گردو نواح سے جلسے میں شرکت کے لئے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے کارکن ملتان کا رخ کریں گے تو کہاں کہاں میدان نہیں لگے گا۔

اتنی سختی تو حکومت نے بازاروں میں کورونا ایس او پیز پر عمل کرانے کے لئے نہیں کی، جتنی وہ ملتان جلسے کو روکنے کے لئے کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقصد کورونا کو روکنا نہیں بلکہ اس جلسے کو ناکام بنانا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سیاسی جوا ہے جو اُلٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کنٹینرز سے کورونا روکنے کی حکمتِ عملی کہیں حکومت کے گلے نہ پڑ جائے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment