Home » کمزور طبقہ

کمزور طبقہ

by ONENEWS

کمزور طبقہ کی بات ہمیشہ ہی طاقتور طبقہ نے کی ہے شاید کمزور طبقے کی اپنی زبان نہیں ہوتی یا وہ صبر کرنے والوں میں سے ہونا چاہتا ہے۔ویسے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہاتھ پاؤں دیئے ہیں اور وہ  ان کا استعمال بھی خوب کرتا ہے، لیکن وہ بھی دوسروں کے لئے۔ یہ دوسرے ہیں جو بات اس کمزور طبقہ کی کرتے ہیں لیکن نمائندگی طاقتور طبقے کی کرتے ہیں، کاش نمائندگی اپنی اپنی کی جاتی تو طبقاتی نظام ویسے ہی دم توڑ جاتا۔ ابن آدم ایک ہی جگہ کھاتے پیتے اور ایک ہی جگہ رہتے۔ صورت حال کچھ یوں ہے کہ جھونپڑیوں میں رہنے والے محلوں میں رہنے کے خواب دیکھتے ہیں اور محلوں میں رہنے والوں کی نیندیں اس لئے اڑ گئی ہیں کہ وہ کیسے دنیا جہان پر حکمرانی کر سکتے ہیں؟ یہ سارے خواب ہیں اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی،  پھر خواب تو پھر خواب ہیں۔یہ جنون ہے جو خوابوں کو بھی حقیقت میں بدل دیتا ہے، یقینا زور لگانے سے ایک دن غلامی کے رسے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ بھوک، افلاس اور غربت کی رات دن میں بدل جاتی ہے، لیکن رات کو دن میں بدلنے کے لئے ستاروں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور قربانی کے لئے کمزور طبقے کو خوابوں کی دنیا سے نکلنا پڑتا ہے۔

اب یہ بات غور طلب ہے کہ یہ کام کون کرے گا؟ کمزور طبقہ یا طاقتور طبقہ؟ مزے کی بات ہے کہ مواخرالذکر اول الذکر کو جوش دلا رہا ہے اور اول الذکر خوب نعرے مارے جارہا ہے۔ اس کو کون سمجھائے کہ بات آگے بڑھنے سے بنتی ہے اور آگے بڑھنے کے لئے جوش اور ہوش میں توازن قائم رکھنا بہت ہی ضروری ہے۔ ضروری تو یہ بھی ہے کہ ریاست مدینہ کا نظریہئ مواخات فوری طور پر نافذالعمل کیا جائے اور وسائل آپس میں برابر تقسیم کر دیئے جائیں۔ طبقاتی نظام سپرد خاک اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر اس طبقاتی نظام پر خاک اور اس کی بات کرنے والوں کے منہ میں خاک۔ خدا کرے کمزور طبقہ کوئی ایسی خاک شفا لے کہ اس کی آنکھ کھل جائے اور حقیقت اس پر عیاں ہو جائے ماضی میں کچھ تجربے کئے گئے ہیں تاکہ کمزور طبقے کی سرکارے دربارے نمائندگی ہو اور نمائندگان کمزور طبقہ پوری شدومد سے اپنی آواز بلند کرسکیں، اسی لئے شاید انگریز حکومت نے سول سروس کے مقابلے کے امتحان متعارف کروائے اور ایسے افسران کی تعلیم وتربیت اس انداز سے کی گئی  تاکہ غریب کا بچہ پڑھ لکھ کر جاگیردار اور سرمایہ دار کے سر چڑھ کر بات کرے گا،

لیکن بدقسمتی سے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی بجائے اپنے آپ کو گورا بنا لیا۔ پھر اس کو گورے اور کالے میں واضح فرق نظر آنا شروع ہو گیا، اس طرح وہ اپنی اصل سے دور ہوتا چلا گیا اور پھر ایک دن وہ بھی طاقتور طبقے کا حصہ بن کر کمزور طبقے کی خوبصورت گفتگو کرنے لگا۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے سے مزدور کسان اور عام آدمی کو سیاست کی راہداریوں سے ایسے گزارا گیا کہ ان کو بھی “ہوش” آگیا۔  انہوں نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور پھر ایک دن ایوانوں میں پہنچ کر کمزور طبقے کی ایسی نمائندگی کی کہ رہے خدا کا نام۔ صوفیا نے ہمیشہ ذکر اذکار کے ساتھ معاشرتی اصلاح کا بھی کام کیا ہے۔  بعض صوفیا نے طبقاتی نظام کو توڑنے کے لئے کمزور طبقے کے بعض باصلاحیت افراد کو خرقہ خلافت سے نوازا تاکہ معاشرے میں کمزور طبقے کو روحانی لباس پہنا کر معزز و محترم کر دیا جائے۔  اس طرح چراغ سے چراغ جلیں گے تو طبقے ختم ہو جائیں گے اور انسانیت رہ جائے گی، یہ خواب بھی صوفیوں اور خلیفوں کی آنکھیں بند ہوتے ہی چکنا چور ہو گیا۔ وارثان مذکوران مسند پر بیٹھتے ہی درویشی سلطانی میں بدل گئی۔یقینا طبقہ بدلنے سے خیالات بدل جاتے ہیں، اور بقول اقبال:

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا

طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں  سیاسی، سماجی اور معاشی ناہمواریوں کو پیدا کرنے میں اصل کردار ہمارے طاقتور طبقوں کا ہے جن کی وجہ سے وسائل پر محض انہی طبقوں کا قبضہ ہے اور کمزور طبقے کو ان قبضہ گروپوں نے چکرا کر رکھ دیا ہے اس طبقاتی نظام کے خاتمے کے لئے سب سے پہلے   علم کی شمع روشن کرنا ہوگی۔ بھائی چارے کی فضا انسانی بنیادوں پر قائم کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ حکومتی سطح پر اداروں تک ہر خاص و عام کی رسائی کو یقینی بنانا بھی بہت  ضروری ہے۔ معاشرے کی تشکیل مبنی بر انصاف اور مبنی بر اخلاص کی بنیاد پرہونی چاہئے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم وقت کی اشد ضرورت ہے کمزور طبقے میں ان کے حقوق کے سلسلے میں آگاہی مہم کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہیں۔ تعلیمی اداروں میں غریب اور نادار بچوں کے لئے مفت تعلیم کا بندوبست کیا جائے اور قانون سب کے لئے ایک اور آزادی رائے کا حق یقینی بنایا جائے، ان سارے اقدامات کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ کمزور اور طاقتور طبقات کے درمیان فاصلے باقی رہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment