Home » کمبھ میلہ:کروناکےباوجود8لاکھ افراد دریا کنارے اشنان کیلئے موجود

کمبھ میلہ:کروناکےباوجود8لاکھ افراد دریا کنارے اشنان کیلئے موجود

by ONENEWS

بشکریہ اے ایف پی

دنیا میں کرونا سے اموات کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر آنے والے ملک بھارت میں صحت عامہ کے شدید خطروں کے باوجود لاکھوں ہندو یاتری کمبہ میلہ کے آغاز پر دریائے گنگا اور جمنا کے کنارے جمع ہوگئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کرونا وائرس کے بڑھتے خوف اور شرح اموات اس سال بھی ہونے والے کمبھہ میلہ نہیں روک سکیں۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں کمبھ میلے کے آغاز پر 8 لاکھ کے قریب ہندو یاتری دریا کے کنارے موجود ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ کمبھ میلہ کے منتطمین کا کہنا ہے کہ اس سال بھی لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین نے دریائے گنگا کی جانب ہاتھ کے اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہمیں امید ہے کہ ہماری گنگا ماں ہم سب کی حفاظت کرے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں ہر سال جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہونے والا کمبھ میلا دنیا بھر میں لوگوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ اسے کسی ایک جگہ پر دنیا میں سب زیادہ لوگوں کے اجتماع کا نام دیا گیا ہے۔

کمبھ میلا کیا ہے ؟

کمبھ میلہ ہندو مذہبی عقیدے کے مطابق ہر 4 سال بعد منعقد ہوتا ہے، تاہم اس میلے کا اہم اور بڑا میلہ ہر 12 سال بعد منعقد ہوتا ہے۔ اس اجتماع کے ہر 4 سال بعد منعقد ہونے والے میلے مرکزی میلے کا حصہ ہی ہوتے ہیں۔

کمبھ میلے کے دوران جو چار میلے منعقد ہوتے ہیں ان میں ’ہردوار کمبھ میلا، الہٰ آباد کمبھ میلہ، ناستک سنشٹھ میلہ اور اوجین سنشٹھ میلہ شامل ہیں۔ یہ میلے ہندو مہینوں کے مطابق ہوتے ہیں جو عام طور پر جنوری سے اپریل تک آتے ہیں اور ان ہی مہینوں میں ان کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

جنوری سے دریائے گنگا، جمنا اور اساطیری ندی سرسوتی کے سنگم پر شروع ہونے والے اس مذہبی میلے میں ہندو یاتری اور عقیدت مند غسل کریں گے۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اس سے ان کے گناہ دھل جائیں گے اور انھیں ‘موکش’ یعنی بار بار جنم لینے کے چکر سے نجات حاصل ہو جائے گی۔ یہ میلہ انڈیا کے شمالی شہر الہ آباد میں منعقد ہوتا ہے۔ اس شہر کا حال ہی میں نام بدل کر پریاگ راج رکھا گیا ہے۔

یہ میلے بھارت کی 4 ریاستوں اترا کھنڈ، مدھا پردیش، اتر پردیش اور مہارا شٹر کے چار شہروں کے قریب ہندوؤں کے لیے مقدس دریائے گنگا، جمنا اور سروسوتی کے کناروں کے قریب منعقد کیے جاتے ہیں۔

گزشتہ سال ہونے والے کمبھ کے انعقاد کیلئے 28 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جو 49 دنوں تک جاری رہا، جبکہ کہ یہاں برطانیہ اور اسپین کی مشترکا کل آبادی سے زیادہ لوگ یکجا ہوئے۔

خلا سے دیکھا جا سکتا ہے

یہ انسانوں کا اتنا بڑا اجتماع ہوتا ہے، جسے خلا سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

لوگوں کی رہائش

میلے میں شرکت کیلئے آںے والوں کو دریا کے مٹی والے ڈیلٹا پر خیموں کی بستی کی شکل میں مکمل شہر بسا کر ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہزاروں افسران دن رات اس کے لیے کام کرتے ہیں تاکہ تقریب بحسن و خوبی انجام پا جائے۔ اس سلسلے میں یہاں 1 لاکھ سے زائد بیت الخلا، کوڑے دان، نصب شدہ خیمے رکھے جاتے ہیں۔ جب کہ سیکیورٹی کیلئے 30 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہل کاروں کو تعینات کیا جاتا ہے۔

لوگوں کی آمد و رفت اور موبائل سنگلز

لوگوں کو یہاں تک پہنچانے اور آمد و رفت کیلئے رکشہ، ٹیکسی اور بسوں کا انتظام بھی کیا جاتا ہے، جب کہ موبائل سنگلز کا بھی بہترین انتظام کیا جاتا ہے۔ اگر کسی صورت حال میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس کیلئے یہاں 24 گھنٹے چلنے والے کلینک اور چھوٹے اسپتال بھی قائم کیے گئے ہیں۔ لوگوں کے غسل کیلئے مختلف مقامات پر اشنان گھاٹ بھی بنائی گئی ہیں۔

ناگا سادھو کون

اس تہوار میں سب سے زیادہ توجہ کے حامل ناگا سادھو ہوتے ہیں جو برہنہ جسموں پر راکھ مل کر رنگ برنگے جلوسوں میں یہاں آتے ہیں۔ میلے کے دوران موسیقی اور رقص کی محفلیں بھی سجائی جاتی ہیں، جب کے کرتب دکھانے والے، لوک موسیقار اور گلوکار بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

کمبھ میلہ الہ آباد میں صدیوں سے منعقد ہو رہا ہے لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے یہ ایک میگا ایونٹ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

یہاں تمام لوگوں کو مناسب سہولیات کے فراہمی کیلئے دریا میں پانی کے بہاو اور اس کی صفائی کا بھی خیال رکھا جاتاہے۔ ہر گھاٹ پر 45 منٹ کے دورانیے کے لیے اشنان کی اجازت ہوتی ہے، جب کہ ہر روز یہ سلسلہ صبح سے شام 4 بجے تک جاری رہے گا۔

You may also like

Leave a Comment