Home » کلے کورٹ کنگ رافیل نڈال کا 13واں فرنچ اوپن ٹائٹل

کلے کورٹ کنگ رافیل نڈال کا 13واں فرنچ اوپن ٹائٹل

by ONENEWS

فوٹو: اے ایف پی

کرونا وائرس کی وجہ سے فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ اس بار مختلف ماحول میں ہوا لیکن ہسپانوی کلے کورٹ کنگ رافیل نڈال کیلئے رولینڈ گیروس کی سرخ کلے کورٹ پر اس ٹورنامنٹ کا نتیجہ معمول جیسا رہا اور اس بار 34 سالہ رافیل نڈال اپنے روایتی سربین حریف 33 سالہ نواک جوکووچ کے خلاف فائنل میچ بآسانی تین اسٹریٹ سیٹ میں 6-0,6-2,7-5 سے جیت کرنا صرف 13 فرنچ اوپن ٹائٹل اپنے نام کیا بلکہ اس کورٹ پر اپنی فتوخات کی سنچری بھی مکمل کرلی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر کا سب سے زیادہ 20 گرینڈ سلام جیتنے کا ریکارڈ برابر کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ نڈال فرنچ اوپن ویمنز سنگلز کی فاتح ایگا سواٹیک کی طرح  پورے ٹورنامنٹ میں اپنے حریف کھلاڑیوں سے کوئی سیٹ نہیں ہارے۔ ان کے حریف کھلاڑی سات میچوں میں ان سے صرف 53 گیمز ہی جیت سکے۔ انہوں نے فائنل میں اپنے روایتی جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوکووچ کو مکمل طور پر بے بس کر دیا تھا جو پہلے سیٹ میں ایک گیم بھی نہیں جیت پائے اور ہسپانوی ٹینس کنگ نے پہلا سیٹ 6-0 سے اپنے نام کر لیا تھا۔ 34 سالہ رافیل نڈال 1972 میں فرنچ اوپن چیتنے والے اینڈرس گیمینو کے بعد سب سے زیادہ عمر والے فرنچ اوپن چیمپئن ہیں۔ 2005 کے بعد نڈال  نے 16 مرتبہ فرنچ اوپن میں شرکت کی اور 13 مرتبہ فاتح کے روپ میں سامنے آئے۔ صرف دو مرتبہ ہارے اور ایک بار زخمی ہونے کی وجہ سے دوسرا راؤنڈ جیتنے کے بعد دستبردار ہوگئے تھے۔ رولینڈ گیروس پر ان کی یہ شاندار کامیابیاں ایک ناقابل تسخیر ریکارڈ ہے۔

رافیل نڈال نے پہلے سیٹ میں انتہائی جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور اپنے حریف کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ ان کے برق رفتار شاٹس کا جوکووچ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ہسپانوی کھلاڑی نے انتہائی تیزی کے ساتھ پہلا سیٹ 6-0 سے جیت کر اپنے خطرناک ارادوں کا اظہار کر دیا تھا۔ یہ نواک جوکووچ کے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام فائنل تھا جس میں وہ سیٹ میں کوئی گیم نہیں جیت پائے۔ رافیل نڈال نے دوسرے سیٹ میں بھی اپنی فاتحانہ کارکردگی کا سلسلہ برقر رکھا اور یہ سیٹ 6-2 سے جیت کر اپنی فتح کو مزید قریب کر لیا۔ جوکووچ کا موثر ترین ہتھیار سلو شاٹس بھی پرعزم نڈال کی جارحیت کو نہ روک پائے۔ تیسرے سیٹ میں جوکووچ نے کم بیک کرتے ہوئے مزاحمت کی لیکن نڈال نے انہیں حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا اور وہ  تیسرا سیٹ 7-5 سے جیت کر 13 ویں مرتبہ فرنچ اوپن اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے 92 سالہ تاریخ میں پہلی بارفرنچ اوپن انڈور اور چھت تلے کھیلا گیا تھا۔ ایک ہزار تماشائیوں کو میچ دیکھنے کی اجازت  تھی۔ فائنل میں بارش کی وجہ سے کورٹ کی چھت بند کر دی گئی تھی۔

نڈال کا کہنا ہے کہ بالکل مختلف اور نئے ماحول میں یہ ٹورنامنٹ میرے لیے بڑا چیلنج تھا کیونکہ میں کبھی ایسے ماحول میں ٹورنامنٹ نہیں کھیلا تھا۔ رولینڈ گیروس پر جیتنا میرے لیے انتہائی اہم تھا کیونکہ اس سے میری خاص وابستگی ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے 20 واں گرینڈ سلام جیت کر راجر فیڈرر کا ریکارڈ برابر کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میری سوچ کا محور صرف فرنچ اوپن ٹائٹل جیتنا تھا۔ میں نے اس کورٹ پر  کیریئر کے اہم ترین لمحات گزارے ہیں۔ یہاں کھیلنا باعث فخر ہے۔ اس شہر اور کورٹ کے ساتھ میری محبت کی کہانی ناقابل فراموش ہے۔ نڈال نے یوایس اوپن میں شرکت نہیں کی تھی اور وہ کئی ماہ مقابلوں میں حصہ نہیں لیا تھا اس لیے معمول کی تیاری نہ ہونے سے انہیں اس بار فرنچ اوپن مشکل ترین ایونٹ لگ رہا تھا کیونکہ یہ ٹورنامنٹ روایتی طور پر مئی جون میں منعقد ہوتا ہے جب موسم گرم ہوتا ہے لیکن کرونا وائرس کی وبا کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا تھا تاہم یوایس اوپن کے انعقاد پر فرنچ اوپن کو اکتوبر میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا جب کھلاڑیوں کیلئے موسم کافی سرد تھا۔ نڈال سمیت کئی کھلاڑیوں نے شدید سرد موسم میں اپنی پریشانی کا اظہار بھی کیا۔ ایک میچ میں وقفے کے دوران وکٹوریہ آزارینکا سردی سے کانپ رہی تھی۔  نڈال کا کہنا تھا کہ  شکر ہے میں نے تمام چیلنجز کاپامردی سے  مقابلہ کیا اور فاتح کے روپ میں کورٹ سے باہر نکلا۔

آسٹریلین اوپن چیمپئن اور عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ کی روا سال میں کورٹ میں کسی کھلاڑی کے ہاتھوں یہ پہلی شکست تھی۔ انہوں نے 2020 میں آسٹریلین اوپن ٹائٹل کے ساتھ 37 میچ جیتے جبکہ یو ایس اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں انہیں ڈرامائی انداز میں ڈس کوالیفیکیشن کا سامنا کرنا پڑا تھا جب بے دھیانی میں پیچھے ان کی جانب سے پھینکی گئی گیند لائن امپائر کے نرخرے پر لگی تھی اور وہ شدت درد سے کراہتے  ہوئے زمین پر گر گئی تھی۔ اس میچ میں ان کے حریف کھلاڑی پابلو سیرینو بسٹا  کو فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔ سربیا کے ٹینس اسٹار نے سال رواں میں دبئی ٹینس کپ‘ سنسناٹی ماسٹرز ٹورنامنٹ اور اٹالین کپ کے اعزازات اپنے نام کیے ہیں۔ نڈال اور جوکووچ کے مابین مجموعی طور پر 56 میچ کھیلے گئے جن میں 29 فتوحات کے ساتھ جوکووچ کا پلہ بھاری ہے جبکہ نڈال نے 27 میچ جیتے ہیں۔

رافیل نڈال کا کہنا ہے کہ میں اپنے کیریئر کا اختتام سب سے زیادہ گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے والے کھلاڑی کی حیثیت سے کرنا چاہتا ہوں۔ میں کھیل کیلئے مکمل فٹ ہوں اور مزید کئی سال تک ٹینس کورٹ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتا ہوں۔  نڈال نے  اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعے جوکووچ کے کوچ اور سابق ومبلڈن چیمپئن گوران ایوانسووچ کے اس دعوے کو یکسر غلط ثابت کر دیا کہ اس بار فرنچ ٹائٹل  صرف اور صرف جوکووچ کا ہے۔ انہوں نے سیمی فائنل  میچز کے بعد یہ بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ نڈال کا کوئی چانس نہیں ہے لیکن فائنل کے بعد انہوں نے فوری یہ اعتراف کیا کہ میں غلطی پر تھا۔ رفا نے جس اعلیٰ پائے کا کھیل پیش کیا اس کا کوئی بھی کھلاڑی جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ وہ کلے کورٹ اور رولینڈ گیروس کا حقیقی چیمپئن ہے۔ میچ کے اختتام پر کرونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں لوگوں کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے نڈال آبدیدہ ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں ٹورنامنٹ کے انعقاد پر منظمین کی کاوشی قابل ستائش ہیں لیکن ہمیں ان لوگوں کو بھی  یاد رکھنا چاہیے جو اس مہلک وبا کا شکار ہو گئے۔ قرنطینہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لوگو کو کس صورت حال کا سامنا ہے۔ رافیل نڈال نے امریکی باسکٹ بال  اسٹارز کے ساتھ ملکر کوویڈ19 متاثرین کیلئے خطیر رقم جمع کی ہے اور وہ مختلف چیرٹیز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

رافیل نڈال نے پہلی مرتبہ 19 سال کی عمر میں 2005 میں فرنچ اوپن میں شرکت کی تھی اور اپنی اولین کوشش میں ہی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ فرنچ اوپن چیمپئن بن گئے تھے۔ وہ 1982 میں سویڈن کے میٹس ویلنڈر کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے مرد کھلاڑی تھے۔ انہوں نے فائنل میں ارجنٹینا کے ماریانو پیورٹا کو چار سیٹ کے سخت مقابلے میں شکست دے کر اپنا پہلا فرنچ اوپن ٹائٹل جیتا تھا۔ اس فائنل میں نڈال کو پہلے سیٹ میں 7-6 سے شکست ہوئی تھی جس کے بعد ہسپانوی کھلاڑی نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے باقی تین سیٹ 6-3,6-1,7-5 سے جیت کر اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام حاصل کیا تھا۔ رافیل نڈال نے سیمی فائنل میں راجر فیڈررکو زیر کیا تھا جو اس وقت تک تین گرینڈ سلام ٹورنامنٹ اپنے نام کر چکے تھے۔ پہلے ٹائٹل تک پہنچنے کیلئے نڈال نے اپنے سے زیادہ تجربہ کار اور معروف کھلاڑیوں ڈیوڈ فیرر‘ سباستین گروسژاں‘ رچرڈ گیسکوئٹ‘ ژیویئر ملیسی کو ہرایا۔

رافیل نڈال 2005 سے 2008 تک فرنچ اوپن ٹورنامنٹ میں اپنے حریفوں کو شکست سے دو چار کرتے رہے۔ انہوں نے 2006 کے فائنل میں سوئس اسٹار راجر فیڈرر کو شکست دے کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا۔ انہوں نے کوارٹر فائنل میں جوکووچ اور سیمی فائنل میں ایوان لوبچچ کو شکار کیا۔ 2007 کے فرنچ اوپن فائنل میں نڈال نے پھر راجر فیڈرر کو چارسیٹ کے مقابلے میں زیر کر کے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہونے والے سرکردہ کھلاڑیوں میں چوتھے راؤنڈ میں سابق عالمی نمبر ایک آسٹریلین کھلاڑی لیٹن ہیوٹ کوارٹر فائنل میں ہموطن کارلوس مویا اور سیمی فائنل میں نواک جوکووچ شامل تھے۔ 2008 میں رافیل نڈال نے فائنل میں  پھر راجر فیڈرر کو تختہ مشق بناتے ہوئے 6-1,6-3,6-0 سے فرنچ اوپن کو چوتھی بار اپنے نام کرنے کا کارنامہ انجام دیا اور اپنے کلے کورٹ کنگ ہونے کی مہر ثبت کر دی۔ ایک بار پھر سیمی فائنل میں نواک جوکووچ ان کے ہاتھوں شکار ہوئے۔ اسی سال نڈال نے پہلی بار فرنچ اوپن کے علاوہ ایک اور گرینڈ سلام  ٹائٹل جیتنے کا کارنامہ انجام دیا اور بالکل مختلف گراس کورٹ پر ومبلڈن کے فائنل میں راجر فیڈررکو ہرا کر پہلا ومبلڈن ٹائٹل جیتا۔

رولینڈ گیروس پر رافیل نڈال کو اپنے کیریئر میں صرف دو مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلسل چار ٹائٹل جیتنے کے بعد دفاعی چیمپئن  نڈال کو پیرس کی اس کورٹ پر پہلی شکست کا مزا میں چکھنا پڑا جب انہیں  فرنچ اوپن  2009 کے چوتھے راؤنڈ میں سویڈن کے روبن سولڈرنگ نے زیر کیا تھا۔ اس میچ میں سولڈرنگ 6-2,6-7,6-4,7-6 سے فتحیاب ہوئے تھے اور سولڈرنگ کو ٹورنامنٹ کے  فائنل میں راجر فیڈرر نے شکست دی تھی۔  تاہم اگلے سال 2010 میں رافیل نڈال نے پھر رولینڈ گیروس کی کلے کورٹ پر اپنی بالادستی کے دوسرے دور کا آغاز کیا اور فائنل میں روبن سولڈرنگ کو 6-4,6-2,6-4 سے شکست دے کرنا صرف پانچواں فرنچ اوپن اعزاز جیتا بلکہ  سال گزشتہ سولڈنرنگ کے ہاتھوں شکست کا حساب بھی برابر کر دیا۔ اس کے بعد نڈال نے 2014 تک  فرنچ اوپن کے اعزازات بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے نام کیے۔ وہ 2015 میں فرنچ اوپن کی ڈبل ہیٹ ٹرک کرنے میں اس وقت ناکام ہوئے جب اس سرخ کلے کورٹ پر کوارٹر فائنل میں نواک جوکووچ کے ہاتھوں اپنی انہیں دوسری اور آخری شکست کا سامنا  کرنا پڑا تھا۔ اس میچ میں جوکووچ  7-5,6-3,6-1 سے فاتح  تھے۔2016 کے فرنچ اوپن  کے دوسرے راؤنڈ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئیوہ  تیسرے راؤنڈ میں پہنچ گئے تھے لیکن کلائی  پر چوٹ لگنے کی وجہ سے  انہیں ٹورنامنٹ سے  دستبردار ہونا پڑا تھا۔

سال2017  کے فرنچ اوپن فائنل میں سوئیزرلینڈ  کے سٹان واورنکا کو شکست دے کر انہوں نے رولینڈ گیروس پر بالادستی کے اپنے تیسرے دور کا آغاز کیا۔ 2018  اور 2019 میں مسلسل دو سال ان  کے ہاتھوں فرنچ اوپن فائنل میں آسٹریا کے ڈومینک تھیم کو شکست اٹھانا پڑی جنہوں نے دو ہفتے قبل  2020 کا  یوایس اوپن  جیت کر اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام حاصل کیا  تھا۔  ڈومینک  تھیم کو بھی کلے کورٹ کے ایک ماہر کھلاڑی ہیں۔

بیس گرینڈ سلام  جیتنے والے راجر فیڈرر کی عمر اس وقت 39 سال ہے  جبکہ 17 گرینڈ سلام  اپنے نام کرنے والے سربیا کے نواک جوکووچ کی عمر 33 سال ہے۔ جوکووچ اپنے حریفوں نڈال اور فیڈرر سے کم عمر ہیں۔ اس کے قوی امکانات ہیں کہ اگر جوکووچ  فٹنس مسائل کا شکار نہ ہوئے اور سپرفٹ رہے تو وہ زیادہ سے زیادہ گرینڈ سلام اعزازات کی دوڑ میں ان دونوں سے آگے  نکل سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ  مینز اور ویمنز کیٹیگری دونوں میں سب سے زیادہ 24 گرینڈ سلام اعزازات کا ریکارڈ  اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو اس وقت آسٹریلیا کی مارگریٹ کورٹ کے نام ہے اور امریکہ  23 گرینڈ سلام جیتنے والی 39 سالہ سرینا ولیمز اس ریکارڈ کو برابر کرنے کی مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔

.

You may also like

Leave a Comment