Home » کشمیر ہمارا ہے سارے کا سارا ہے

کشمیر ہمارا ہے سارے کا سارا ہے

by ONENEWS

کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے

”کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے“ تقسیم ہند کے منصوبے کے مطابق 2 مملکتیں ہندوستان اور پاکستان تخلیق کی گئیں اور ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ ان دو میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر لیں جو ریاستیں جغرافیائی طور پر ہندوستان کے اندر واقع تھیں ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھی کہ وہ بھارت کے علاوہ کسی اور کے ساتھ الحاق کر سکتیں اور ایسی ہی کچھ ریاستیں پاکستان میں تھیں جن کے پاس پاکستان کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا۔ لیکن ریاست جونا گڑھ اور کشمیر کا معاملہ اس کے برعکس تھا کشمیر میں مسلم آبادی زیادہ لیکن حکمران ہندو جبکہ جونا گڑھ میں ہندو آبادی زیادہ اور حکمران مسلمان تھا۔ جونا گڑھ کے نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن کانگریسی حکمرانوں نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ کیونکہ یہاں ہندو اکثریت ہے اس لئے اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہیں ہو سکتا،ہندوستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر ولبھ بھاٹی نے بزور طاقت اس ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر دیا پھر دسمبر کے مہینے میں ریفرنڈم کرایا تاکہ ریاستی باشندوں کی رائے لی جائے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 99 فیصد باشندوں نے الحاق ہندوستان کے حق میں ووٹ دیا۔

دوسری طرف 19 جولائی 1947ء کو کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے کا اعلان کیا۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی کشمیر پاکستانی تھا اور ہے لیکن ڈوگرہ راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسے ہندوستانی حکمرانوں نے قبول کرتے ہوئے سرینگر میں فوجیں اُتارنا شروع کر دیں۔ اس دن سے آج 73 سال گزرنے کو ہیں ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں اربوں نہیں کھربوں اور نجانے کتنے کھربوں ڈالرز کے وسائل اسلحے کی خریداری کی نذر ہو چکے ہیں دونوں ممالک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا،کشمیریوں نے 19 جولائی 1947ء کو جو فیصلہ کیا تھا وہ آج بھی اس پر قائم ہیں کشمیریوں کے دل بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کی سوچ خالصتاً پاکستانی ہے موجودہ کشمیری نسل کے اجداد نے 1947ء میں تقسیم ہند کی قرارداد کے مطابق جو فیصلہ کیا تھا، آج ان کی تیسری نسل حرف بحرف اسی فیصلے پر قائم ہے ہندو حکمرانوں کے ظلم و ستم اور تشدد، قتل و غارت گری نے انہیں اس فیصلے سے سرِِ مو منحرف نہیں ہونے دیا ہے 19 جولائی 2020ء کشمیریوں نے اپنے اجداد کے فیصلے کی یاد تازہ کرنے کے لئے ”یوم الحاق پاکستان“ منایا۔ بھارتی افواج کی سنگینیوں تلے اور گولیوں کے سامنے ”الحاقِ پاکستان“ کے اعلان کا مکرر اعلان کیا۔

گزشتہ سال اگست میں مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کو تبدیل کر کے اسے بھارتی یونین میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ ہی یہاں وادی میں کرفیو لگا دیا۔ کمیونیکیشن کے تمام ذرائع منجمند کر دیئے اور فوج کی تعداد 9 لاکھ تک بڑھا دی تاکہ کشمیریوں کے ممکنہ رد عمل سے بچا جائے۔ اس واقعے کو 11 ماہ سے زائد مدت ہو چکی ہے لیکن مودی سرکار ابھی تک کشمیریوں کے ردِ عمل کے خوف سے باہر نہیں نکل سکی،لاکھوں فوجیوں اور کڑی نگرانی و پابندیوں کے باوجود کشمیری مسلمانوں نے جذبہ حریت اور الحاق پاکستان کی تڑپ اور خواہش کو کمزور نہیں ہونے دیا، 19 جولائی کو کشمیری مسلمانوں نے جس انداز میں ”یوم الحاق پاکستان“ منایا پاکستان کے جھنڈے لہرائے، نعرے لگائے وہ اس بات کا کھلم کھلا اظہار ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے جذبہ حریت کو کسی طور بھی دبانا ممکن نہیں ہے۔ ان کی ٓآزادی کی خواہش اور اس کے لئے طویل جدوجہد اس بات کی غماز ہے کہ انہیں اب کسی طریقے سے بھی دبائے رکھنا ممکن نہیں ہے۔

ویسے اقوام عالم کی تاریخ حاضرہ بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ آزادی کا جذبہ ایک ایسی انسانی فطری خواہش ہے جسے دبانا یا کچلنا ممکن نہیں ہے اشتراکی ریاست، عظیم سوویت یونین کی تاریخ دیکھ لیں۔ اس کا کڑا، ظالمانہ نظام حکمرانی، جدید فوج، ظالم کے جی بی اور ایسے ہی جابر ریاستی ادارے مل جل کر بھی مختلف اقوام کو دبائے رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہیں بالآخر آزادی دینا پڑی، اشتراکی سلطنت مختلف اقوام کو بالجبر جوڑ کر بنائی گئی تھی 70 سالوں تک جبر اور ظلم کے باوجود آخر کار یہ سلطنت 15 ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ پھر بھارت کیا، مودی سرکار کیا، بھارتی ظلم و ستم کیا، بھارتی سینا کی کیا حیثیت ہے،بھارت میں درجنوں آزادی کی تحاریک چل رہی ہیں شرقاً، شمالاً جنوباً بھارت علیحدگی پسندوں میں گھرا ہوا ہے مودی سرکار تاریخی اعتبار سے ہندوستان کو ہندو ریاست بنانے کے مشن پر کام کر رہی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ہندوتوا کے ذریعے بھارت، صرف ہندوؤں کی ریاست کے طور پر باقی رہے گا، اس کے ساتھ جڑی دیگر اقوام، مذہب و ملت کے ماننے والے آزادی ہو جائیں گے پنجاب ہندوؤں کی حکمرانی سے نکل کر سکھ ریاست بن جائے گا۔

بھارتی کشمیر علیحدہ ہو کر پاکستان کے ساتھ شامل ہو جائے گا، ایسی ہی درجنوں قومیتیں اپنی اپنی آزاد ریاستیں قائم کر کے بھارتی یونین سے آزاد ہو جائیں گی ا ور آخر میں انہی ریاستوں کی طرح ہندوستان ایک ہندو ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر رہ جائے گا حالات اور واقعات ہندوستان کے ایسے ہی مستقبل قریب کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جبر و تشدد کے ساتھ قومیتوں کو اکٹھانہیں رکھا جا سکتا ہے نا انصافی تو سگے بھائیوں کے درمیان بھی نفرت اور علیحدگی کو پروان چڑھاتی ہے۔ پھر اقوام کے درمیان نا انصافی، تو اور بھی شدت سے ری ایکشن پیدا کرتی ہے مودی سرکار نے 11 مہینوں سے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ ہی نہیں کر رکھا ہے بلکہ بند کر رکھا ہے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے کرفیو لگا رکھا ہے صحافیوں کی آمد و رفت بھی بند ہے حتیٰ کہ بھارت نواز کشمیری رہنماؤں پر بھی مکمل پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ مودی سرکار اپنے حامی پارلیمنٹرینز کو بھی کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ آخر یہ سب کچھ کشمیریوں کا خوف نہیں تو اور کیا ہے۔

کشمیری مسلمانوں کی تیسری نسل جدوجہد کرتے کرتے صیقل ہو چکی ہے اب انہیں نہ تو فوج سے ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتوں سے جھکایا جاسکتا ہے اس وقت الحاقِ پاکستان کی داعی کشمیری قیادت میں سید علی گیلانی جیسے 80 سالہ جواں عزم و با ہمت لوگ بھی ہیں اور میر واعظ عمر فاروق جیسے جوان بھی شامل ہیں۔ کشمیری سفارتی و سیاسی جدوجہد بھی کرتے رہے ہیں اور ہندوستانی ریاستی جبر کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بھی بن کر کھڑے ہیں انہیں، ان کے موقف سے سرمو انحراف کرتے ہوئے نہیں پایا گیا ہے۔ مودی سرکار کی پالیسیوں کے باعث ”الحاق پاکستان“ کے سوا کشمیریوں کی دیگر آوازیں مکمل طو پر دب ہی نہیں گئیں بلکہ مکمل طور پر فنا ہو چکی ہیں اب کشمیر میں ایک ہی آواز ہے کشمیر ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment