Home » کرونا اور تعلیمی دہشت گردی

کرونا اور تعلیمی دہشت گردی

by ONENEWS

کرونا اور تعلیمی دہشت گردی

مت سمجھ لیجئے کہ میں کرونا کی ہلاکت خیزی کو ہلکا لے رہا ہوں، یا یہ کہ مجھے کرونا سے پیدا شدہ مسائل کی آگہی نہیں ہے۔ابھی پیر کے دن اپنے سگے چچا کی میت کو کندھا دے کر اپنے ہاتھوں سے مٹی کی امانت، مٹی کے حوالے کر آیا ہوں۔ اسی کرونا کی پہلی لہر میں میری اپنی سگی بہن اس نامراد مرض کے مراحل سے الحمدللہ بحسن و خوبی گزر چکی ہیں۔ یہ میرے اپنے گھر کی  دو مثالیں ہیں، ورنہ دیگر عزیزوں کی ایک قطار ہے،کچھ فوت ہو گئے اور کچھ صحت یاب۔ میں بھی تو اس مرض کا شکار ہو سکتا ہوں۔ کیوں، کیا میں عمر خضر لے کر آیا ہوں؟ کیا میرا زندہ رہنا ناگزیر ہے؟ اللہ کے چہیتے ترین پیغمبر کیا اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے؟ تو پھر اپنے رائے ساز کیوں چیخ و پکار اور بندش بندش کا واویلا کیے جا رہے ہیں۔ چاہیے  تو یہ کہ کرونا سے پیدا شدہ خطرے اور ہلاکت خیزی کے پیش نظر لوگ اپنے معاملات سمیٹ کر مختصر کر لیں، لوگوں کا لیا دیا،کھایا پیا ایک دوسرے سے معاف کرا لیں۔ اور “دنیا آخرت کی کھیتی ہے” کے الہامی فرمان پر عمل کرتے ہوئے بقیہ مہلت عمل کو آخرت کی کاشتکاری کی نذر کریں۔شاید کئی لوگ یہ کام کر چکے ہوں، کچھ کر رہے ہوں گے،لیکن تماشا یہ ہے کہ رائے سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شریک افراد وہی ایک ہی راگ ملہار گائے جارہے ہیں۔ بندش، بندش، لاک ڈاؤن۔

کراچی کی آبادی 1998ء میں 98لاکھ تھی. تب ایک بین الاقوامی ادارے کی سروے رپورٹ بتا رہی تھی کہ کراچی کے 30 لاکھ افراد وہ ہیں جو پوری زندگی میں کراچی سے باہر کبھی نہیں گئے۔ اس سروے کو باقی شہروں اور آج کی آبادی پر پھیلا کر دیکھیں۔ ایک صاحب کراچی سے نکل کر پہلی دفعہ اسلام آباد آئے تو گولڑہ گاؤں جا نکلے۔شام کو ملے تو انتہائی خوش اور پرجوش تھے۔”شہزاد بھائی آج ہم نے گندم کے پیڑ دیکھے“ ملک کی ستر بہتر فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔ شہروں کے اندر پرانی بستیوں کی حالت بھی دیہی علاقوں جیسی ہی ہے۔  راجہ بازار، بھاٹی گیٹ، لوہاری، بوہری بازار اور رتہ امرال میں لوگ جس حالت میں رہتے ہیں اور  جس طرح ان کے روز وشب گزرتے ہیں، ہمارے رائے سازوں اور فیصلہ سازوں کو اس کا رتی برابر اندازہ نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ کی جملہ اقسام پر گرفت رکھنے والے اور اقتدار کے گلی کوچوں میں اٹھنے بیٹھنے والے بیشترافراد وہ ہیں جو کسی اچھی بستی میں واقع اپنے گھر سے ان مذکورہ جگہوں پر جانے اور باہم ملنے کے علاوہ کسی اور شے کے روادار نہیں ہوتے۔ یہی وہ معززین ہیں جنہوں نے نہ تو کبھی گندم کے ”پیڑ“ دیکھے، نہ انہیں گوالوں کی بستی میں کبھی جانے کا اتفاق ہوا۔ نہ انہیں گاؤں دیہات اور شہروں کے اندر پرانی بستیوں کے رہن سہن اور وہاں کے بودوباش کا علم ہے۔مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ ملکی معیشت پر بات کے لئے ان کے سامنے اسٹاک ایکسچینج, فیڈرل بورڈ آف ریونیو, چیمبر آف کامرس، اسٹیٹ بینک اور ایسے ہی چند اداروں کے اعداد و شمار تو ہوتے ہیں، لیکن کھیتوں کھلیانوں اور فیکٹریوں کارخانوں کے اندر ان انسانی احساسات کی انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی جو ہر روز معیشت کو دھکے دے دے کر رواں رکھے ہوئے ہیں۔

اب صورت یہ ہے کہ جمہور اور جمہور کے نمائندے، قطع نظر اپنی سیاسی وابستگی کے، ملک بھر میں بے دھڑک جلسے اور اجتماعات کر رہے ہیں۔ کرونا کی دوسری لہر  بتدریج طاقت پکڑ رہی ہے، لیکن دس ماہ میں اموات؟ صرف آٹھ ہزار! چاہیے تو یہ تھا کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ اسمبلیاں اور عوامی نمائندے کرتے، لیکن ہوا کیا؟چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم، تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف تھے، لیکن اسی ایک سگنل نے ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کرا دیے جس نے پچھلی دفعہ وزیراعظم کو بے خبر رکھ کر پنجاب بند کرایا تھا۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ دوپہر کو وزیراعظم نے مخاطبین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پنجاب بند نہیں کرایا جارہا اور شام کی خبروں سے انہیں معلوم ہوا تھا کہ پنجاب میں بندش تو نافذ کی جا چکی ہے۔ اور میری معصومیت ملاحظہ ہو کہ کتاب آئین کھولے غور کر رہا ہوں جس کے تحت تعلیم صوبائی معاملہ ہے اور صوبائی وزرائے تعلیم یک زبان ہو کر تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف تھے۔

اب اس فیصلے کے نتائج ملاحظہ ہوں۔ ٹاٹ والے اور وہ عام سرکاری و نجی اسکول ملک بھر میں بند ہیں جن میں عام اور غریب مخلوق خدا پڑھتی ہے۔ چنانچہ تعلیمی بندش کے بعد 22 کروڑ آبادی کے بچے گلیوں میں آوارہ پھر رہے ہیں۔ اشرافیہ کے بچے جن اسکولوں میں پڑھتے ہیں، وہ آن لائن کے نام پر مکمل طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ یوں 95 فیصد بچے برباد اور آوارہ ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف اشرافیہ کے پانچ فیصد بچے جدید تعلیمی سہولتوں کی مدد سے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہی آن لائن بچوں نے بڑے ہو کر ملک سنبھالنا ہے۔ رہے عام سرکاری و نجی اسکول جو وسائل کی کمی کے باعث آن لائن نہیں چل سکتے تو ان بچوں کی پڑھائی پر فاتحہ پڑھیں یا نہ پڑھیں، اپنے مستقبل پر ضرور پڑھ لیں۔ ریاضی اور سماجیات کے دو ماہرین سے  جمع تفریق کرا لیں کہ ان لاکھوں کروڑوں آوارہ بچوں میں سے کتنے بچے جاہل رہ کر دہشت گرد،جرائم پیشہ، قاتل، ڈکیت، جواری اور دیگر پیشوں کے ماہرین بنیں گے۔ یہ بھی پوچھ لینا ان مجرموں کا شکار کون لوگ ہوں گے۔ میں بتائے دیتا ہوں، وہی آن لائن بچے اور وہی گندم کے پیڑ گننے والے افراد جو ملکی مسائل سے لاتعلق، لیکن  وسائل پر قابض ہوں گے، جی ہاں۔یہ تحریر اس امید پر لکھی گئی ہے کہ شاید کسی کے دل میں میری بات اتر جائے۔ ملک کے لئے نہ سہی، اسے اشرافیہ کے اپنے مستقبل کے لئے ہی سمجھ لیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment