Home » کراچی کے شہری غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا

کراچی کے شہری غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا

by ONENEWS


گرمی کی آمد کے ساتھ ہی کے الیکٹرک نے شہر کے تقریباً ہر علاقے میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔

گرمیوں میں شاید ہی کوئی علاقہ ہو جو بجلی کی بندش کا شکار نہ ہو، کے الیکٹرک کی جانب سے ان علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے استثنیٰ رکھنے والے علاقے وہ ہیں جہاں سے ادارے کو 100 فیصد بل وصول ہوتے ہیں، جس کے باعث انہیں لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔

لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں گلشن اقبال، گلستان جوہر، کلفٹن، ڈیفنس، نارتھ ناظم آباد، بہادر آباد، پی ای سی ایچ ایس، محمود آباد، فیڈرل بی ایریا، بفر زون اور نارتھ کراچی شامل ہیں۔

حالیہ دنوں میں کراچی کے شہریوں کو یومیہ 4 سے 5 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔

لوڈ شیڈنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شاہ فیصل کالونی، کورنگی، سرجانی ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، لیاقت آباد، ایف بی ایریا، فیڈرل سی ایریا، لیاری، کیماڑی اور اولڈ سٹی ایریا شامل ہیں۔

شہر کے ایسے بھی علاقے ہیں جہاں عوام کو 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگتنا پڑ رہا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں 4 سے 5 گھنٹے بجلی کی فراہمی بند رکھی جارہی ہے۔

جماعت اسلامی کراچی کے چیف حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک سخت گرمی کے موسم اور کرونا وائرس کی وباء کے دوران بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کرکے جرم کا ارتکاب کررہی ہے،

انہوں نے کہا کہ وباء کے دوران 30 فیصد انڈسٹریز، شادی ہال، ریسٹورنٹس بند پڑے ہیں لیکن کراچی میں لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہورہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے الزام لگایا کہ کے الیکٹرک سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کی سرپرستی کا لطف اٹھارہی ہے، کیونکہ وہ بدترین لوڈ شیڈنگ پر بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی کے رہنماء نے سوال اٹھایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ کے الیکٹرک کی نااہلی اور غفلت پر آواز کیوں نہیں اٹھا رہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کے الیکٹرک کو مافیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست میں ریاست کے انداز میں کام کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کے الیکٹرک کی حمایت کی باتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاج کے طور پر ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی نے جمعرات کو ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

امین الحق کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کا بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے کیونکہ انہوں نے اس میں بہترین کیلئے حالیہ سالوں میں کوئی کام نہیں کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کے الیکٹرک کو پاور پلانٹس چلانے میں فرنس آئل یا گیس کی کوئی کا سامنا نہیں، اس کا مقصد صرف کراچی کے لوگوں کو پریشان کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر فرنس آئل کی کمی تھی تو کے الیکٹرک کو مارچ میں اس صورتحال کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کرنے چاہئے تھے۔

وفاقی وزیر نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کی غفلت اور نااہلی پر اس کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

سماء ڈیجیٹل نے کے الیکٹرک کی ٹیم سے ان کا مؤقف جاننے کیلئے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم کے الیکٹرک کی کمیونیکیشن ٹیم کے زیادہ تر ممبران نے بار بار فون کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

کئی بار فون کرنے پر کے الیکٹرک کی کمیونیکیشن ٹیم کے نئے سربراہ رانا عمران سے رابطہ ہوا۔ سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں انہوں نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجوہات سے متعلق کہا کہ ادارے کو پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے فرنس آئل کی مسلسل فراہمی نہیں ہورہی۔

انہوں نے بتایا کہ کے الیکٹرک کی فرنس آئل کی طلب 2800 میٹرک ٹن ہے تاہم پی ایس او کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر 2000 میٹرک ٹن فراہم کیا جارہا ہے۔ رانا عمران کا کہنا ہے کہ ہمیں تقریباً 20 روز سے روزانہ کی بنیاد پر 1400 میٹرک ٹن فرنس آئل کی کمی کا سامنا ہے، جو کراچی میں لوڈ شیڈنگ میں اضافے کی وجہ بنا۔

کے الیکٹرک کے نمائندے نے مزید کہا کہ بجلی کی پیداوار کیلئے ادارہ فرنس آئل کی کمی کو گیس سے پورا کرنے کی کوشش کررہا ہے، تاہم ایس ایس جی سی کی جانب سے کے الیکٹرک کو 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جارہی ہے جو موجودہ دنوں میں بجلی کی مطلوبہ پیداوار تک پہنچنے کیلئے ناکافی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے جمعرات کو گیس کی فراہمی ڈھائی سو سے بڑھا کر 290 ایم ایم سی ایف ڈی کردی، جس سے یقیناً بجلی کی پیدوار اور لوڈ شیڈنگ میں کمی میں کچھ مدد  ملے گی۔

کے الیکٹرک ہیڈ آف کمیونیکیشن رانا عمران نے امید کا اظہار کیا کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال چند دنوں میں بہتر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پی ایس او کو فرنس آئل کی درآمد کی اجازت دیدی، جس سے بجلی کی فراہمی کے نظام میں بہتری میں کافی مدد ملے گی۔

کراچی میں بجلی کی پیداوار اور فراہمی میں کمی سے متعلق سوال پر کے الیکٹرک کے ہیڈ آف کمیونیکیشن نے اعداد و شمار دینے سے گریز کیا۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں بجلی کی موجودہ طلب 3 ہزار 400 میگاواٹ یومیہ ہے جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے صرف 2 ہزار 700 میگاواٹ ہی فراہم کی جارہی ہے، جس کا مطلب شہر قائد کو حالیہ دنوں میں روزانہ کی بنیاد پر 700 میگا واٹ کی بجلی کی کمی کا سامنا ہے، جو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ ہے۔



Source link

You may also like

Leave a Comment