0

کراچی کی بارشیں اور ملیر کے باغات

ملیر گارڈن

فوٹو: عبیداللہ کیہر

میری پیدائش سندھ کے شہر خیرپور کی ہے۔ سن 70 کی دہائی میں جب ہمارا خاندان خیرپور سے کراچی منتقل ہوا تو میری عمر صرف 6 سال تھی۔ کراچی میں لالوکھیت اور لانڈھی کے علاقوں میں کچھ عرصہ گزار کر ہم ملیر آگئے اور پھر اگلے کئی سال یہیں گزرے۔ جہاں کراچی کے اس دور کی عیدیں، تفریحات اور رسم و رواج میرے لیے یادگار ہیں وہیں اس دور کی بارشیں بھی بڑی سہانی ہوا کرتی تھیں۔ اس زمانے میں اکثر گھر کھلے صحن والے اور ایک منزلہ ہوا کرتے تھے۔ کمروں کی چھتیں بھی کنکریٹ کی بجائے نالی دار جستی چادروں کی ہوتی تھیں اور ان کی ڈھال صحن کی جانب رکھی جاتی تھی تاکہ بارش کا پانی چھت پر رکے بغیر سیدھا صحن کی طرف آ کر بہہ جائے۔ ان جستی چادروں کی چھتوں کی وجہ سے اس بات کا تو امکان ہی نہیں تھا کہ بارش کا پہلا قطرہ مکان کی چھت پر گرے اور مکینوں کو پتہ نہ چلے۔ بادلوں سے زمین کی طرف لپکنے والے ابتدائی قطروں سے ہی جستی چادروں کی چھتوں پر جلترنگ بجنا شروع ہو جاتے اور لوگ خوشی سے جھومتے ہوئے کمروں سے نکل کر کھلی جگہوں کی طرف لپکتے۔ بچے زور زور سے تالیاں بجاتے شور مچاتے دروازوں سے باہر نکل کر گلیوں اور میدانوں کی طرف دوڑ لگا دیتے۔ بارشیں برستیں اور خوب برستیں۔ کئی کئی دن تک جھڑی لگی رہتی اور جل تھل ایک ہو جاتا۔

ملیر کا علاقہ ملیر ندی کے اطراف میں آباد ہے۔ ملیر ندی ہر سال برساتی پانی کے ریلوں سے بھر جاتی اور یہ بپھرا دریا کئی کئی روز بہتا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے قافلے بنا کر ملیر ندی کے کناروں پر پہنچتے اور ملیر ندی میں بہتے پُرزور و پُرشور پانی کا ہیبت ناک نظارہ کرتے۔ کچھ من چلے اپنی تیراکی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس خطرناک پانی میں بھی چھلانگ لگا دیتے اور اپنی تیراکی کے جوہر دکھانے کی کوشش کرتے۔ اس خطرناک حرکت کے نتیجے میں کچھ تو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔

کراچی میں ملیر ندی کے علاوہ کئی اور بھی ندی نالے ہوا کرتے تھے جو بڑی سے بڑی برسات کے پانی کو آناً فاناً سمندر تک پہنچا دیتے تھے۔ لیاری ندی، تھدو ندی،جھڈو نالا، گجر نالا ۔ ۔ ۔ اور یہ سب ندی نالے بڑے وسیع، کچرے سے پاک اور خودرو پودوں یا عارضی باغبانی و کھیتی باڑی کا مرکز ہوتے تھے۔ کراچی کے نکاسی آب کیلئے یہی ندی نالے استعمال ہوتے تھے اور اس وقت ان کی وسعت کی وجہ سے ان کے اندر بہنے والے برساتی پانی کو سمندر تک پہنچنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی۔ ان نالوں کے اندر نہ کوئی کچرا پھینکتا تھا اور نہ ہی ان میں قبضہ کر کے مکانات بنانے کی اجازت تھی۔

ملیر گارڈن

فوٹو: عبیداللہ کیہر

بارشیں عام طور سے گرمیوں میں ہی ہوتی تھیں اور یہ آموں کا بھی موسم ہوتا تھا۔ درختوں پر جگہ جگہ کوئل کوکتی سنائی دیتی تھی۔ آم تو خیر بارش سے پہلے ہی بازار میں آ جاتے تھے لیکن لوگ زیادہ رغبت سے اس وقت کھاتے تھے جب ان پر ایک برسات گزر جائے۔ اس وقت لوگوں کا خیال یہ ہوتا تھا کہ بارش کے بعد آنے والے آم زیادہ میٹھے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بارش ہوتے ہی آموں کے ٹھیلوں پر خریداروں کی یلغار ہو جاتی تھی۔ آموں کے ساتھ کالے کالے جامن بھی کھائے جاتے تھے۔ آم کھانے کے بعد اس کے مضر اثرات سے بچنے کیلئے دودھ کی کچی لسی ضرور پی جاتی۔ ہر گھر کے صحن میں کم از کم ایک درخت ضرور ہوتا تھا جس میں بارش ہوتے ہی رسی کا جھولا بندھ جاتا۔

مرد، بچے اور بچیاں تو بارش کے مزے لینے میں مگن ہو جاتے اور عورتیں چولہوں کی طرف متوجہ ہوتیں۔ اب پکوڑے تلے جا رہے ہیں، سوجی کا حلوہ پک رہا ہے، پوریاں بن رہی ہیں، کڑکڑاتے تیل سے کچوریاں اتر رہی ہیں، نرم گندھے ہوئے میدے سے میٹھا مال پُڑا تیار ہو رہا ہے، میٹھی اور بیسنی روٹیاں بن رہی ہیں اور ہر گھر سے اشتہا انگیز خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں۔ بچوں کا بازار دوڑایا جا رہا ہے کہ وہ جلدی سے جا کر گرما گرم جلیبیاں اور سموسے لے کر آئیں۔ اب پوریوں کچوریوں سے نمٹ کر لوگ شام کی چائے پی رہے ہیں۔ شام ہوتے ہی اس بات کا خدشہ سر اٹھانے لگتا کہ بلب کی روشنی پر خوب پتنگے آئیں گے اور جینا حرام کریں گے۔ چنانچہ ہر بلب کے اوپر مومی لفافہ چڑھایا جاتا، تاکہ روشنی کی تیزی کم ہو جائے اور پتنگے نہ آئیں۔

برسات کئی کئی دن جاری رہتی، حتیٰ کہ بچے نہا نہا کر اور بڑے چھتریاں اٹھائے اٹھائے تھک جاتے۔ بالآخر ساون بیت جاتا اور بارشیں ختم ہوتیں۔ برسات کے چند ہی دن بعد کراچی کی سرزمین سر سبز ہو جاتی۔ کھلے میدان، سڑکوں کے کنارے، ریلوے لائنوں کے اطراف اور سارے خالی پلاٹ ہری بھری نرم گھاس سے ڈھک جاتے۔ شہر کے مضافات میں ملیر اور گڈاپ کے ویرانے اور نشیب و فراز سوات اور کاغان کی وادیوں کا منظر پیش کرنے لگتے اور اس سرسبزی و شادابی کو دیکھ کر اہلیانِ کراچی کا دل بھی باغ باغ ہو جاتا۔

ملیر ندی کے اطرف اور کراچی کے مضافات میں بے شمار کنویں ہوا کرتے تھے جن کے میٹھے پانی سے کھیتی باڑی اور باغبانی ہوا کرتی تھی۔ ان کنوؤں میں پانی ہونے کا دارومدار انہی بارشوں پر ہوتا تھا۔ ندی نالوں میں سال میں کم از کم ایک مرتبہ برساتی پانی کا بھر کر بہنا ان کنوؤں میں پانی ہونے کیلئے ضروری ہوتا تھا۔ چنانچہ بارشیں بھی خوب ہوتی تھیں اور کنویں بھی سارا سال ٹھنڈے میٹھے پانی سے بھرے رہتے تھے۔ کون سا پھل اور کون سی ایسی سبزی تھی کہ جو کراچی کےباغات میں پیدا نہ ہوتی ہو۔

ملیر گارڈن

فوٹو: عبیداللہ کیہر

پھلوں میں آم، کیلا، پپیتا، امرود، شریفہ، ناریل، شہتوت، جامن، کھجور، چیکو، تربوز، خربوزہ، انگور، بادام، لسوڑا، جنگل جلیبی، املی، آملہ، بیر، انار، کٹھل، ککروندا، بیلگری، پیٹھا اور لیموں وغیرہ شامل ہوتے۔

سبزیوں میں بھنڈی، توری، ٹماٹر، ہری مرچ، پالک، دھنیا، پودینہ، پیاز، گوبھی، کدو، شلجم، گاجر، مولی، کھیرا، ککڑی، کریلا، ٹنڈے، گوارپھلی، شملہ مرچ، بینگن، لہسن، سیم کی پھلی، سلاد کے پتے وغیرہ بھی اگتے۔

پھر طرح طرح کے پھول، گلاب، چمبیلی، گیندا، رات رانی، دن کا راجہ، بوگن ولیا، سدابہار، نازبو، سورج مکھی، گل داؤدی بھی اپنی بہاریں دکھاتے۔

اس ساری باغبانی اور کھیتی باڑی کا انحصار انہی بارشوں پر ہوتا تھا۔ تاہم ان تمام فصلوں میں سے بیشتر اب بھی وہاں کاشت ہوتی ہیں۔

برسات کے دنوں میں اکثر ہم دوستوں کے ساتھ مل کر ان باغات کا رخ کرتے، باغات میں پھل درختوں سے توڑ کر کھاتے، باغ کے ٹیوب ویل پر ٹھنڈے اور تیز رفتار پانی سے خوب نہاتے اور گھر واپس آتے ہوئے باغ کے بلوچ رکھوالے سے گھر کیلئے بلا معاوضہ سبزی بھی لیتے۔

کراچی کی وہ مہینوں مہینوں جاری رہنے والی بوندا باندی اور بارشیں تو خواب ہوئیں۔ سال میں بس ایک یا دو دن کی موسلادھار بارش ہی اس شہر کے سارے سرکاری انتظامات کی قلعی کھول دینے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ کراچی کے وہی باسی جو کسی دور میں بارش ہونے کیلئے دعائیں کرتے تھے اب بارش کی پہلی بوند سے ہی گھبرا جاتے ہیں۔ والدین بچوں کو اسکول بھیجنے سے کتراتے ہیں اور کام کرنے والے اپنے کام پر جانے سے گھبراتے ہیں۔ کہیں بارش نہ ہو جائے اور ہم واپسی میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے شام کو گھر ہی نہ پہنچ پائیں۔

عبیداللہ کیہر مکینکل انجینئر ہیں اور ساتھ ہی ادیب، سیاح، سفرنامہ نگار، فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر بھی ہیں۔ آپ کی اب تک 9 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے۔ بیشتر ماہ و سال کراچی میں گزارے اور اب اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں