Home » کراچی میں واٹر ٹینکر کے نرخوں میں اضافہ

کراچی میں واٹر ٹینکر کے نرخوں میں اضافہ

by ONENEWS

فوٹو: اے ایف پی

کراچی میں رہائشی اور کمرشل صارفین کے لیے واٹر ٹینکر کے نرخوں میں 300 سے 500 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبیو ایس بی) شہر میں پانی کی قلت والے علاقوں میں ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرتا ہے۔ کمرشل اور رہائشی دونوں کے لیے واٹر ٹینکرز کے نرخ الگ الگ ہیں۔

:نیلام شدہ ہائیڈرنٹس کے جنرل پبلک سروس (جی پی ایس) کے نئے نرخ یہ ہیں

ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 1300 روپے

دو ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 1820 روپے

تین ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 2340 روپے

پانچ ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 3250 روپے

:کمرشل کیٹیگری کے نئے نرخ

ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 2600 روپے

دو ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 3250 روپے

تین ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 4550 روپے

پانچ ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کی قیمت 5200 روپے

واٹر بورڈ 6 ہائیڈرنٹس سے واٹر ٹینکر فراہم کرتا ہے جوکہ کراچی کے 6 اضلاع میں قائم ہیں۔

ضلع غربی میں کرش پلانٹ ہائیڈرنٹ، ضلع کورنگی میں فیوچر کالونی ہائیڈرنٹ، ضلع جنوبی میں شیرپاو ہائیڈرنٹ، ضلع شرقی میں نیپا ہائیڈرنٹ، ضلع وسطی میں سخی حسن ہائیڈرنٹ اور ضلع ملیر میں صفورا ہائیڈرنٹ کے نام سے موجود ہے۔

ٹینکروں کی قیمت میں اضافے کے ساتھ واٹر بورڈ نے 10کلو میٹر سے زیادہ فاصلے کے لیے نرخ میں فی کلو میٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے تحت ایک ٹینکر صرف 10 کلو میٹر کے دائرے میں پانی کی فراہمی کے لیے مقررہ قیمت وصول کرے گا جبکہ اس دائرے سے باہر کسی بھی صارف کو اضافی چارجز ادا کرنا ہوں گے۔

:جنرل پبلک سروس (جی پی ایس) کیٹیگری کے فی کلو میٹر اضافی چارجز

ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 56 روپے

دو ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 64 روپے

تین ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 72 روپے

پانچ ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 136 روپے

:کمرشل کیٹیگری کے لیے فی کلو میٹر اضافی چارجز

ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 61 روپے

دو ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 69 روپے

تین ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 78 روپے

پانچ ہزار گیلن والے پانی کے ٹینکر کے لیے 148 روپے

کے ڈبیو ایس بی کے واٹر ہائیڈرنٹ سیل کے چیف سپرنٹنڈنٹ انجینیئر نعمت اللہ مہر کا کہنا ہے کہ جائزہ کمیٹی کی سفارشات پر نرخوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈبلیو ایس بی ہائیڈرنٹس کی نیلامی کے بعد سے ہی نئے نرخوں کا نفاذ کیا جا چکا ہے۔ ہائیڈرنٹس کی نیلامی ہر دو سال بعد ہوتی ہے۔

واٹر بورڈ کی 3 رکنی جائزہ کمیٹی میں سینیئر افسران منظور کھتری، سردار شاہ اور منیر بھٹی پر بنائی گئی تھی۔

سردار شاہ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ 4 سال بعد قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے کس طریقہ کار کے تحت نرخوں میں اضافہ کیا۔

سردار شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 4 سال میں ڈیزل اور واٹر ٹریف کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کا  موازنہ کرکے نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ واٹر ٹیرف میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 2016 سے کم زیادہ ہوتی رہی ہے۔

You may also like

Leave a Comment