Home » کراچی: مسکن چورنگی پر دھماکا،5جاں بحق،28زخمی

کراچی: مسکن چورنگی پر دھماکا،5جاں بحق،28زخمی

by ONENEWS

ریسکیو ٹیمیں روانہ

کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 7 میں مسکن چورنگی کے قریب عمارت میں دھماکے سے 5 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے جبکہ کچھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ دھماکے کے18زخمی پٹیل اسپتال اور4زخمی عباسی شہید اسپتال میں زیرعلاج ہیں جبکہ 3زخمی جناح اسپتال میں منتقل کئے گئے۔3لاشیں عباسی شہید اسپتال منقتل کی جاچکی ہیں۔

بدھ کی صبح مسکن چورنگی پر کراچی یونی ورسٹی کے گیٹ کے سامنے قائم النور اپارٹمنٹ کی عمارت کے گراؤنڈ فلور میں ممکنہ طور پر بینک میں دھماکا ہوا۔ اپارٹمنٹ کی عمارت کے نیچے بینک سمیت کئی دکانیں موجود ہیں۔دھماکے سے 2 منزلہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔عمارت میں کئی افراد رہائشی تھےجبکہ دھماکے کے وقت بینک میں 18 رکنی عملہ اور دیگر افراد موجود تھے۔

پولیس اور رینجرز نےعلاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکھٹے کرنے اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا۔ دھماکے کے بعد عمارت کا ملبہ نیچے کھڑی گاڑیوں پر گرنے سے بھی نقصان ہوا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ گیس کا دھماکا ہے۔ تاہم ابھی کوئی واضح بات کہنا قابل ازوقت ہے۔ زخمیوں کوعباسی شہید اسپتال اور جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی اورعلاقےمیں بھگدڑ مچ گئی،قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ عوام اور طلباء کی بڑی تعداد جائے حادثہ پرپہنچ گئی جن کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی اپیل کی جارہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے متاثرہ عمارت خستہ حال ہونے کی وجہ سے لرز رہی ہے اور اس کے گرنے کا اندیشہ ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا ہے کہ سید مرادعلی شاہ نے مسکن چورنگی دھماکے کا نوٹس لے لیا ہے اور کمشنر کراچی سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے زخمیوں کےلئےفوری طبی امداد کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی ہے اور جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

صوبائی وزیرسعید غنی نے بتایا ہے کہ تمام افراد کو ٹریس کرنے کے بعد عمارت کا ملبہ مکمل ہٹانے کا کام شروع کردیا جائے گا۔ تخریب کاری سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ دھماکے سے آگ نہیں لگی اور نہ ہی باردو کی بو آئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ دھماکے کی وجہ سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔

دھماکے سے مرنے والوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے تاہم ان میں بینک کا سیکورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔

ترجمان سوئی سدرن گیس نے بتایا ہے کہ عمارت کی ساری گیس لائنیں محفوظ ہیں اور اس میں گیس کے 3 ڈومیسٹک میٹرز عمارت کی پچھلی طرف لگے ہوئے تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ عمارت میں گیس دھماکے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور گیس کی سپلائی کو بند کردیا گیا ہے۔

گلشن اقبال میں پٹیل اسپتال کے سینئر ڈاکٹرطارق چندریگر نے بتایا کہ اس اسپتال میں دھماکے کے 18 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 5 کی حالت تشویش ناک ہے،ان کا آپریشن بھی کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو چھرے کے زخم نہیں ہیں، دھماکے کی شدت کے زخم ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے۔ اس اسپتال میں کوئی لاش نہیں لائی گئی ہے تاہم زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم جائے وقوعہ پر موجود ہے۔ٹیکنیکل کمیٹی کی سیکریٹری انجنیئر بینش شبیر ٹیم کی قیادت کررہی ہیں۔ ڈائریکٹرگلشن اقبال محمد رقیب اورڈپٹی ڈائریکٹر ڈیمولیشن محمد ریحان بھی موقع پر موجودہیں۔ ایس بی سی اے حکام نے بتایا ہے کہ ٹیم عمارت کی ڈیمولیشن اورخطرناک ہونے کے بارے میں رپورٹ مرتب کرے گی اورایس بی سی اے حکام معائنے کے بعد ہی عمارت کو خطرناک قرار دے سکتے ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے بعد ٹیم عمارت کا تفصیلی معائنہ کرے گی۔

You may also like

Leave a Comment