0

کراچی سپرہائی وے پر مویشی منڈی فری زون قرار

KARACHI, MANDI

سپرہائی وے کراچی پر 22 جون سے قائم ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں تمام کیٹیگریز ختم کرکے بیوپاریوں کیلئے منڈی کو ’’فری زون‘‘ قرار دیدیا گیا، بیوپاری وی وی آئی پی بلاکس سمیت کسی بھی جگہ اپنے جانور کھڑے کرکے فروخت کرسکتے ہیں۔

ترجمان سپر ہائی وے مویشی منڈی ذکی ابڑو کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے خریداروں اور بیوپاریوں کی سہولت کیلئے ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی کو فری زون قرار دیتے ہوئے تمام کیٹیگریز کا خاتمہ کردیا ہے۔

ملک بھر میں عید الاضحیٰ ہفتہ یکم اگست کو منائی جائے گی، جس کیلئے ہر سال کی طرح شہر قائد میں ایشیاء کی سب سے بڑی مویشی منڈی سپرہائی وے پر قائم کی گئی ہے، شہری قربانی کیلئے بڑی تعداد میں جانوروں کی خریداری کیلئے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ملک کے چاروں صوبوں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے لاڑکانہ، شہداد کوٹ، میرپورخاص، حیدرآباد، کوٹری، جامشورو، دادو، سیہون، سکھر، خیرپور، ٹنڈوآدم، نوابشاہ، نوشہروفیروز، لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ، بہاولپور، اوکاڑہ، رحیم یارخان، گوجر خان، ساہیوال، گوادر، سبی، پشاور اور دیگر شہروں سے 6 لاکھ سے زائد قربانی کے جانور مویشی منڈی لائے جاچکے ہیں، شہر کی دیگر منڈیوں سے بھی جانوروں کی سپرہائی وے منتقلی جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک ہزار ایکڑ رقبے اور اڑتالیس بلاکس پر مشتمل اس مویشی منڈی میں 22 وی وی آئی پی اور دیگر جنرل بلاکس مختص کئے گئے تھے، جہاں کھانے پینے کی اشیا کے اسٹال، خرید و فروخت کیلئے پھیری والوں سمیت لائیو اسٹاک اسٹال کیلئے شہریوں اور بیوپاریوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی گئی۔

ترجمان مویشی منڈی یاور رضا چاؤلہ نے بتایا کہ مویشی منڈی میں 24 گھنٹے بلا تعطل پانی اور بجلی کی فراہمی جاری ہے، فی جانور 16 لیٹر پانی مفت فراہم کیا جارہا ہے، منڈی کا 20 ایکٹر رقبہ صرف پارکنگ کیلئے مختص ہے، شہریوں اور بیوپاریوں کو کھانے پینے کی سہولیات سمیت جانوروں کیلئے چارے، پینے کیلئے صاف پانی، سیکیورٹی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے اور سیکیورٹی اہلکار سمیت یہاں آنیوالوں کو ہر سہولت میسر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے بیوپاریوں کی سہولت کیلئے ہر بلاک میں 300 سے زائد بیت الخلاء اور نماز کیلئے مساجد اور وضو خانے بھی تعمیر کئے گئے، مویشی منڈی میں ملک کے مختلف شہروں سے عیدالضحیٰ کی رات تک قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ترجمان مویشی منڈی نے کہا کہ 2019ء میں ملکی معیشت کو سہارا دینے والی یہ مویشی منڈی 900 ایکڑ رقبے پر قائم تھی اور یہاں 5 لاکھ قربانی کا جانور لایا گیا، جس سے ملکی اکانومی کو 10 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔

یاور رضا چاؤلہ نے بتایا کہ ہم شہریوں سے قربانی کا جانور خریدنے کے عوض کوئی ٹیکس وصول نہیں کررہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کتنا جانور اب تک فروخت ہوچکا ہے مگر لوڈر گاڑیوں کی انٹری کے ذریعے ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک تقریباً 4 لاکھ قربانی کا جانور فروخت ہوچکا ہے اور خرید و فروخت کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

میڈیا کو آرڈینیٹر ذکی ابڑو کا کہنا تھا کہ یہ مویشی منڈی جہاں بیوپاریوں اور شہریوں کیلئے قربانی کے جانور کی خرید و فروخت کا سبب بن رہی ہے وہیں ملکی معیشت کیلئے ایک گیٹ وے ثابت ہورہی ہے، تاحال مویشی منڈی میں 6 لاکھ سے زائد قربانی کا جانور جن میں اونٹ، گائے و بیل، بکرے و بکریاں، دنبے اور بھیڑ شام ہیں، لائے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار کرونا وائرس کے تحت احتیاطی تدابیر پر عمل کرانے کیلئے منڈی کو ایک ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر وسعت دے کر 7 لاکھ قربانی کے جانوروں کی گنجائش رکھی گئی اور اب تک 6 لاکھ سے زائد قربانی کا جانور اس مویشی منڈی کی زینت بن چکا ہے۔

میڈیا کوآرڈینیٹر ذکی ابڑو نے بتایا کہ آخری دنوں میں ہم نے پوری مویشی منڈی کو تمام بیوپاریوں کیلئے فری زون قرار دیدیا ہے، بیوپاری اپنا جانور وی  وی آئی بلاک میں کھڑا کرکے بھی فروخت کرسکتے ہیں، مویشی منڈی صبح 7 بجے سے رات 11 بجے تک بیوپاریوں اور خریداروں کیلئے کھلی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال اگر 6 لاکھ سے زائد قربانی کا جانور فروخت ہو تو ملکی معیشت کو 10 ارب روپے سے زائد کا ریونیو حاصل ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں