Home » ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کی خبرغلط ہے

ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کی خبرغلط ہے

by ONENEWS

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی سے متعلق خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ ہر فوجی افسر اپنی مدت پر ریٹائر ہوتا ہے۔ رد الفساد پر بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آپریشن کا مقصد قیام امن تھا۔ طاقت کااستعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے۔ عوام کی مدد سے سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کو شکست دی۔ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔

راول پنڈی میں آپریشن رد الفساد کے 4 سال مکمل ہونے پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ میں 4 سالوں کے دوران ردالفساد کے تحت ہونے والی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے اگاہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کا بنیادی محور عوام ہیں۔ عوام کی مدد سے سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کو شکست دی۔ دہشت گردوں نے پاکستان میں زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی۔ آپریشن کے تحت قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔ آپریشن کا مقصد قیام امن تھا۔ طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے، جسے صرف عوام کے خلاف بڑھنے والے عناصر کیخلاف استعمال ہوگا۔ ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے متعلق بابر افتخار نے بتایا کہ رد الفساد کے تحت پنجاب میں 34ہزار اور سندھ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیے گئے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد معاشی بہتری بھی سامنے آئی۔ اس آپریشن کا مقصد ایک پر امن، مستحکم اور نارملائز پاکستان بنانا تھا، جس میں دہشت گردوں کے گرد گھرا تنگ کرکے انہیں مکمل بے بس کیا جائے۔ یہ آپریشن ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا، جب دہشت گردوں نے قبائلی علاقوں میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کے طویل وعرض میں پناہ لینے کی کوشش کی، عبادت گاہوں،اسکولوں، درس گاہوں، عوامی مقامات، بچوں، خواتین، بازار، اسکولوں میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے تحت ملک بھر میں دہشت گردوں کی سپورٹ بیس کا خاتمہ کیا گیا، قبائلی علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت ہوئی، شدت پسندی کے عوامل پر قابو پایا گیا۔ ہم نے یہ لڑائی کلیر، ہولڈ، بلڈ اور ٹرانسفر کے اصولوں کے تحت لڑی۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ ملکر 3 لاکھ 75 ہزار خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیے۔ جس میں پولیس، آئی جی، ایف سی، رینجرز، ایم ائی اور آئی بی نے بھرپور تعاون کیا۔ اس چار سالوں میں کئی ہائی پروفائل آپریشن بھی شامل ہیں۔

میجر جنرل بابر نے مزید بتایا کہ بلوچستان ، گوادر میں ہوٹل پر حملہ، پشاور میں ایگری کلچر یونیورسٹی پر حملہ، کراچی میں اسٹاک ایکسچیج اور چائنیز قونصلیٹ پر حملہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنایا۔ یہ پورا آپریشن پورے ملک پر محیط تھا۔ صرف سیکیورٹی فورسز ہی نہیں اس ملک کا ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے 4 ہزار سے زائد تھریٹ الرٹ جاری کیں۔ رد الفساد کے دوران ہی خیبر 4 آپریشن کا آغاز ہوا، جس میں راجگال وادی کو کلیئر کرانا تھا، اسی طرح شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال 2020 میں اپریشن دواگل کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رد الفساد کے دوران 750 میٹرکےعلاقے پر ان 4 سالوں میں ریاست کی رٹ بحال کی گئی۔ ہم نے اس دوران ایف سی کے اٹھاون مزید ونگ قائم کیے ہیں، جب کہ مزید 15 قائم کئے جائیں گے۔ جب کہ اگر پاک افغان بارڈر کی بات کی جائے تو 84 فیصد پاک افغان بارڈر پر کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ قبائلی حساس علاقوں میں ہم نے 48 ہزار مائنز ریکور کی ہیں۔ جب کہ جن چیک پوسٹوں سمجھا انہیں کم کرکے 250 سے کم کردی ہیں، جو ابھی ہیں وہ لوگوں کی حفاظت کی مد میں رکھی گئی ہیں۔

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال ہم بحیثیت ایک زندہ دل قوم کے 23 مارچ کو یوم پاکستان کا دن ملی جوش و خروش سے منائیں گے اور بھرپور ملٹری پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا، اس سال یہ دن “ایک قوم ایک منزل” کے نام سے منایا جائے گا۔

You may also like

Leave a Comment