0

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس    (1)

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس    (1)

میں اگلے روز (13اگست) ٹیلی ویژن پر ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس دیکھ اور سن رہا تھا۔ کورونا وبا کی وجہ سے کافی ماہ بعد انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو اس کانفرنس میں آنے کی دعوت دی۔ اس کا دورانیہ تقریباً پون گھنٹے کا تھا اور جنرل صاحب نے مختلف موضوعات و معاملات پر افواج پاکستان کا نقطہ ء نظر پیش کیا۔ میں ان موضوعات کا ذکر تو بعد میں کروں گا۔ پہلے ان کے اسلوبِ گفتار پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔

مجھے وہ وقت یاد ہے جب آرمی آفیسرز میسوں (Messes) میں اردو میں بات کرنے کی ممانعت تھی۔ میں نے تو 1968ء میں آرمی جوائن کی اور اگرچہ اس وقت تک برف کافی پگھل چکی تھی لیکن پھر بھی اگر کسی آفیسر کے کمرے میں اردو کا اخبار یا کوئی میگزین وغیرہ دیکھا جاتا تھا تو اس کی باقاعدہ شکائت کمانڈنگ آفیسر تک پہنچتی تھی۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اگست 1947ء میں انگریزسے جو آزادی حاصل کی اس میں زبان کی آزادی شامل نہ سمجھی۔ جو زبان برٹش انڈین آرمی میں افسروں کی سطح پر مروج تھی وہی ہمیں ورثے میں ملی۔ اور وہ انگریزی تھی۔

دوسری وجہ پیشہ ء سپہ گری کی تکنیکی اور پروفیشنل دشواریاں تھیں۔ افسروں اور جوانوں کی زبانوں میں فرق نہیں تضاد تھا۔ جوان صرف حکم ماننے کے پابند تھے۔ افسرانِ بالا براہ راست اپنے جوانوں سے شاذ ہی مخاطب ہوا کرتے تھے۔ ایسا کرنے کے لئے ایک تقریب منعقد کی جاتی تھی جسے ”دربار“ کہا جاتا تھا۔ جوانوں، این سی اوز اور جے سی اوز کو مطلع کیا جاتا تھا کہ فلاں دن، فلاں وقت اور فلاں جگہ پر کمانڈنگ آفیسر (C.O) کا ”دربار“ منعقد ہو گا۔ (میرا خیال ہے آج بھی اس اجتماع کو ”دربار“ ہی کا نام دیا جاتا ہے) وہاں دربار میں کہنے کو تو ہر سولجر اٹھ کر اپنے دل کی بات کہہ سکتا تھا لیکن ایسا کرنے پر بھی اَن دیکھی پابندی تھی۔ سولجر کا سینئر جے سی او پہلے اس کے سوال کو سنتا اور دیکھتا تھا اور پھر Vettingکے بعد اجازت ہوتی تھی کہ دربار میں زبان کھولے۔ سپاہی کا یہ سوال (یا حالِ دل) اردو زبان میں ہوتا تھا اور انگریز یا دیسی کمانڈنگ آفیسر، جانتے بوجھتے ہوئے بھی اردو الفاظ کو بگاڑ کر بولتا تھا۔ یہ سب کچھ پاک فوج کو ورثے میں ملا تھا۔ پھر بہت جلد حالات بدلتے گئے۔تاہم 1965ء کی جنگ تک افسروں اور سپاہیوں کی زبانوں میں  یہ تضاد برقرار رہا۔ تمام چھوٹے بڑے ہتھیاروں کے نام، ان کے حصوں پرزوں کے نام اور ان کے استعمالات وغیرہ کی تفصیلات انگریزی میں ہوتی تھیں۔ تمام ملٹری آپریشنوں کی پلاننگ، بریفنگ، ڈی بریفنگ اور ان کے تکمیلی مراحل کی تفصیلات بھی انگریزی زبان میں ہوتی تھیں۔ آفیسرز لیول کی تمام ٹریننگ انگریزی میں تھی۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں صرف اور صرف انگریزی کو بار تھا۔مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ بہت سے آفیسرز جو پروفیشنل اعتبار سے صاحبِ عقل و شعور اور ذہین تھے وہ اس لئے سینئر رینکس میں نہ جا سکے کہ ان کی انگریزی بولنے اور لکھنے کی اہلیت کمزور تھی۔

تاہم جوں جوں وقت گزرتا گیا، یہ حقیقت سینئر افسران پر آئنہ ہونے لگی کہ جن اقوام نے 20ویں صدی کی دو عظیم جنگیں لڑی تھیں ان کی ٹریننگ، آپریشنوں کی پلاننگ اور ان کی تکمیل (Execution) کے سارے مراحل ان کی قومی زبانوں میں ہوتے تھے۔ جرمن، فرانسیسی، روسی، جاپانی اور اطالوی افواج کی کارکردگی ان دونوں جنگوں میں کھل کرسامنے آ گئی تھی۔ وقت کا تقاضا تھا کہ پاکستان آرمی بھی اپنی قومی زبان اردو میں پروفیشنل موضوعات کو سیکھے، روزانہ کی فوجی زندگی میں ان کو استعمال کرے اور دوسری ترقی یافتہ اقوام کی تقلید کرے۔ آج پاکستان کو آزادی حاصل کئے 73برس ہو چکے ہیں لیکن ہماری افواج میں زبان و بیان کا وہی تضاد اور قدغنیں کسی نہ کسی سکیل پر موجود ہیں جو برٹش آرمی کا ورثہ ہیں۔ لیکن آج الحمدللہ ایک تو پاکستان آرمی کی اوسط تعلیمی قابلیت کا گراف بہت اوپر جا چکا ہے اور دوسری طرف آفیسرز کی سطح پر اردو سے سوتیلی ماں والا سلوک نہیں کیا جاتا۔ ہر ریکروٹ کم از کم میٹرک سیکنڈ ڈویژن ہو تو آرمی جوائن کر سکتا ہے۔ لیکن سپاہی رینک میں آج بی اے، ایم اے اور ایم ایس سی سولجرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اپنے مافی الضمیر کو اردو انگریزی کی ملی جلی ڈکشن میں ادا کر سکتی ہے۔

دیکھا جائے تو ”اردو“ کا لغوی معنی ہی ”تشکر“ اور ”لشکر کی زبان“ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جب اردو کو بڑے پیمانے پر لشکر کی زبان بنانے کا وقت آیا تو ہم انگریز کے غلام تھے اور برٹش آرمی کو اپنے سولجر کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے جس زبان کا سہارا لینا پڑتا تھا، وہ اردو تھی۔ چنانچہ برطانوی دور ہی میں اردو کی باقاعدہ سکھلائی اور پڑھائی آرمی میں شروع ہو چکی تھی۔ برصغیر کے طول و عرض میں درجنوں زبانیں بولی جاتی تھیں لیکن ایک مشترکہ زبان (لنگوا فرانکا) جو برصغیر کا ہر فرد بشر کسی نہ کسی حد تک جانتا تھا، وہ اردو زبان تھی۔

میں نے بات جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس سے شروع کی تھی۔اس کانفرنس کی زبان اردو تھی کیونکہ یہ پاکستانی عوام کو افواجِ پاکستان کی کارکردگی اور ان کا نقطہ ء نظر بتلانے کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ جو آفیسر بھی بطور ڈی جی آئی ایس پی آر تعینات کیا جاتا ہے، اس کی ساری ٹریننگ اور پروفیشنل لائف تو انگریزی زبان کے ماحول میں گزرتی ہے۔ پی ایم اے سے لے کر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج تک اور پھر مختلف ملکی اور غیر ملکی کورسوں پر تعیناتی کے دوران، انگریزی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے اس لئے وہ آفیسر اردو اور انگریزی زبانوں میں ”احوالِ دل“ سنانے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ مجبوری پروفیشنل اور عوامی حدود  وقیود کے مابین ایک طرح کی رسہ کشی بن جاتی ہے۔ یہ دیکھئے ناں کہ کورکمانڈرز کانفرنسیں ساری کی ساری انگریزی زبان میں ہوتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے منصب کے تقاضوں کے پیش نظر میجر جنرل ہو کر بھی لیفٹیننٹ جنرلوں کے جھرمٹ میں بیٹھتا ہے۔ لیکن اس جنرل آفیسر کو جب ٹیلی ویژن پر آکر انگریزی سے نابلد عوام کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور موضوعِ سخن فوج اور اس کی کارکردگی ہوتی ہے تو پھر اس آفیسر کو ایک ایسے اسلوبِ گفتار کا سہارا لینا پڑتا ہے جو فوج اور عوام دونوں کے لئے قابلِ تفہیم ہو۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ افواجِ پاکستان اٹھا نہیں رہیں۔ اس لئے جب بھی آئی ایس پی آر کی بریفنگ ہوتی ہے تو اس میں ازراہِ مجبوری ان انگریزی اصطلاحات (Terms) کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اکثر ایک عام ٹی وی ناظر اور سامع کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔

مثلاً 13اگست کی اس نیوز کانفرنس ہی کو لے لیجئے۔ اس میں جنرل بابر افتخار نے انگریزی کے جو الفاظ،تراکیب اور اصطلاحات استعمال کیں وہ یہ تھیں۔

1۔ فائر کرو

2۔Violations  (خلاف ورزیاں)

3۔Hegemonic (حاکمانہ)

4۔Racialism (نسلی منافرت)

5۔External Failures (بیرونی ناکامیاں)

6۔انتظامات (ارادے)

7۔ حل کریں

8۔ڈومین

9۔ تفریق

10. عمل عمل

11۔Time Frame(وقفہ)

12۔ اسٹیک ہولڈرز

13۔ Intelligence based operations(مبنی بر انٹیلی جنس آپریشنز)

14۔Recover (برآمد کرنا)

15۔Border Management (سرحد کی دیکھ بھال)

16۔فینسنگ

17۔Forts (قلعہ بندیاں)

18۔IED  (خانہ ساز بارودی آلہ)

19۔ویژن

20۔ اسٹیٹ آف آرٹ (تازہ ترین)

21۔SOPs (معیاری طریقہ ہائے کار)

22۔فیس ماسک

23۔Locust (ٹڈی دل)

24۔Expression (اظہار)

25۔Intent (ارادہ)

26۔ اندرونی سلامتی

27۔Insolate (الگ کرنا)

28۔ یوتھ (نوعمر نسل)

29۔سندرستی

30۔Elements of National Powar (قومی قوت کے اجزائے ترکیبی)

31۔میاں معلومات (غلط خبریں)

32۔Dis- Information (جھوٹی خبر)

33۔Through (ذریعے سے)

34۔Compaign (مہم)

35۔ترک (سچ)

مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی ایک زبان کی اصطلاح کا کماحقہ ترجمہ کسی دوسری زبان میں نہیں ہو سکتا۔ اس مشکل کا آسان ترین حل یہ ہے کہ اس اصطلاح کو اپنی زبان میں لکھ اور بول دیا جائے…… اور جنرل صاحب نے یہی کیا۔ درجِ بالا فہرست میں بعض ایسی اصطلاحیں بھی ہیں جن کا لغوی ترجمہ اگرچہ میں نے ان کے سامنے بریکٹ میں لکھ دیا ہے لیکن یہ ترجمہ اصل معانی اور مکمل مفہوم کے تناظر میں نامکمل اور ادھورا ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس اصطلاح کو جوں کا توں اردو میں لکھ اور بول دیا جائے۔ اس عمل کو انگریزی زبان میں Translitration کہا جاتا ہے اور یہی وہ اسلوبِ تحریر ہے جو جدید اردو بول چال اور نگارش میں استعمال کرنا چاہیے۔ جنرل بابر کے سامنے جو ابلاغی نمائندے بیٹھے تھے ان کو تو سمجھ آ گئی تھی کہ جنرل صاحب کیا کہہ رہے ہیں لیکن ٹیلی ویژن کے وہ ناظرین و سامعین جو ان انگریزی اصطلاحات کی تشریحات سے بالکل ناواقف یا کم کم آگاہ ہیں ان کے لئے جنرل صاحب کی یہ پریس کانفرنس اس تاثر کی حامل نہیں تھی جو ان کا مدعائے گفتگو تھا۔ انگریزی یا دوسری جدید زبانوں میں ابلاغی اصطلاحات کی ڈکشنریاں عام ملتی ہیں لیکن اردو زبان میں ابھی تک ایسی کوئی لغات میری نظر سے نہیں گزری جس میں اس مشکل کا حل موجود ہو۔ چنانچہ عام قاری کے لئے صرف ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ ان اصطلاحوں کو بار بار سنے اور سیاق و سباق کے تناظر میں ان کے معانی خود ہی تلاش کرنے کی کوشش کرے۔ یہ ایکسرسائز وقت طلب ہے لیکن اس کا اور کوئی دوسرا حل بھی نہیں۔

اب ہم ایک طائرانہ نظر ان مباحث پر بھی ڈالتے ہیں جن پر جنرل بابر نے گفتگو کی اور میڈیا اور ٹی وی کے ناظرین و سامعین کو انفارم کیا۔

(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں