Home » ڈینیئل پرل کیس:نظربندی کےحکم امتناع میں ایک دن کی توسیع

ڈینیئل پرل کیس:نظربندی کےحکم امتناع میں ایک دن کی توسیع

by ONENEWS

Supreme Court of Pakistan

فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ حکومت کو ڈینیئل پرل کیس کے ملزمان کو کل تک رہا کرنے سے روک دیا ہے، جب کہ اٹارنی جنرل کی ملزمان کی رہائی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

سپریم کورٹ میں یکم فروری بروز پیر سندھ حکومت کی جانب سے دائر نظر ثانی درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر  3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ آج ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل خالد محمود وفاق کی جانب سے پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومت سے جاننا چاہتے ہیں کیا کسی شہری کو یوں حراست میں رکھا جا سکتا ہے؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے قتل کے مرکزی مقدمے میں وفاق کو نوٹس جاری نہیں کیا، جہاں قانون کی تشریح کرنا ہو وہاں اٹارنی جنرل کو نوٹس لازمی ہوتا ہے۔ جسٹس عطا نے کہا کہ مرکزی اپیلوں کی آرڈر شیٹ کا جائزہ لیں گے۔

فائل فوٹو: مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کے وکیل

اس موقع پر احمد عمر شیخ کے معاون وکیل نے عدالت سے کہا کہ احمد عمر کے وکیل محمود شیخ بیمار ہیں۔ محمود شیخ کا کرونا ٹیسٹ کرایا ہے رپورٹ کا انتظار ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ بہتر ہوگا سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کی جائے۔ عمر شیخ 10 ماہ سے غیر قانونی حراست میں ہیں۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ جائزہ لیں گے کہ ملزم کو حراست میں کیوں رکھا گیا ہے۔ فکر نہ کریں محمود شیخ کو سن کر ہی کوئی فیصلہ کرینگے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ملزمان کو اتنے عرصے سے حراست میں رکھنے کا جواز کیا ہے۔ جسٹس عمر نے پھر ریمارکس دیئے کہ ملزمان کی حراست کے احکامات میں بار بار توسیع ہوتی رہی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر ملزمان کو حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ جس پر جسٹس سجاد نے سوال کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کا ملزمان کی رہائی کا فیصلہ کیسے معطل کر دیں؟۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطا کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ملزمان نہیں حکومت کٹہرے میں ہے۔ اس کیس کے بین الاقوامی اثرات بھی ہونگے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت ملزمان کو حراست میں رکھنے کا مزید حکم نامہ بھی جاری نہیں کر سکے گی۔ جس پر خالد محمود نے عدالت سے کہا کہ ملزمان کی رہائی کا فیصلہ معطل نہ ہوا تو نتائج سنگین ہوسکتے۔ عدالت نے سندھ حکومت کو کل تک ملزمان کو رہا کرنے سے روکتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

رہائی کا حکم

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 جنوری بروز جمعرات امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم احمد عمر شیخ سمیت دیگر ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تین رکنی بینچ میں ایک جج نے عدالتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے حساس معلومات کا سربمہر لفافے کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ احمد عمر شیخ کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں۔ شواہد موجود ہیں لیکن ایسے نہیں کہ عدالت میں ثابت کرسکیں، ریاست کیخلاف جنگ کرنے والا ملک دشمن ہوتا ہے۔

اس موقع پر جسٹس عمر عطا کا کہنا تھا کہ جو مواد سپریم کورٹ کو دیا وہ پہلے کسی فورم پر پیش نہیں ہوا، جو معلومات کبھی ریکارڈ پر نہیں آئیں ان کا جائزہ کیسے لیں؟ ریاست کے پاس معلومات تھیں تو احمد عمر شیخ کیخلاف ملک دشمنی کا کیس کیوں نہیں چلایا؟۔

جسٹس منیب اختر نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ حکومت نے احمد عمر شیخ کو کبھی دشمن ایجنٹ قرار ہی نہیں دیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، یہ جنگ کب ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا۔ شاید آئندہ نسلوں تک چلے، ریاست کا اپنے شہریوں کو ملک دشمن قرار دینا بھی خطرناک ہے۔

۔27 جنوری کی سماعت

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ نے الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صحافی کے اغوا اور قتل میں عطاالرحمان نامی شخص ملوث ہے۔ بدھ 27 جنوری کو ہونے والی سماعت میں احمد عمر شیخ کے وکیل نے مرکزی ملزم کا خط سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا۔ عدالت میں پیش کے گئے خط میں احمد عمر شیخ نے لکھا تھا کہ عطاالرحمان پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے اور اسے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

امریکا کا رد عمل

امریکی محکمہ خارجہ کے سیکریٹری اینتھونیو بلنکن نے مقتول امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم احمد عمر شیخ سمیت دیگر ملزمان کی سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہائی کے احکامات پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول صحافی کے اغوا اور قتل پر انصاف چاہتے ہیں۔ ملوث افراد کو بری کرنے کے فیصلے پر تشویش ہے۔ امریکا ماضی میں احمد عمر شیخ کی پاکستانی حکام کی جانب سے گرفتاری کے عمل کو سراہتا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی حکام سے اپیل کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فیصلہ پر نظرثانی کرے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔

وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے یہ بھی کہا کہ امریکا پاکستان کی اعلیٰ عدالت کی طرف سے صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے مقدمے میں رہا ہونے والے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چلانے پر تیار ہے۔ ہم ڈینئل پرل کے خاندان کے لیے انصاف کے حصول اور دہشت گردوں کے احتساب کے لیے پرعزم ہیں۔

کیس کا پس منظر کیا ہے؟

امریکا کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کو کراچی میں جنوری سال 2002 میں اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش اسی سال 2002 میں مئی میں برآمد کی گئی تھی۔

اس کیس میں پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان میں سے 3 ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو قتل اور اغوا کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

چاروں ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ جب کہ استغاثہ کی جانب سے مجرموں کی سزاؤں میں اضافے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

مرکزی ملزم عمر شیخ کی فائل فوٹو

تاہم اس کیس میں اپیل پر فیصلہ آنے میں 18 برس کا عرصہ لگ گیا کیوں کہ ملزمان کے وکلا نہ ہونے کی وجہ سے اپیلوں کی سماعت تقریباً 10 برس تک بغیر کارروائی کے ملتوی ہوتی رہی۔

سندھ ہائی کورٹ نے 4 فروری 2020 کو 18 سال بعد اپیل پر فیصلہ سنایا تھا جس میں عدالت نے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کو بری جب کہ مرکزی ملزم کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملزم احمد عمر سعید شیخ 18 برس سے جیل میں ہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈینئل پرل امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جنرل’ کے جنوبی ایشیا ریجن کے بیورو چیف تھے جو کراچی میں 23 جنوری 2002 کو اغوا ہوئے تھے۔

You may also like

Leave a Comment