Home » ڈسکے کا چسکا

ڈسکے کا چسکا

by ONENEWS

پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج سے تین باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادتوں کے درمیان جو تناؤ ہے وہ ان کے کارکنوں تک پہنچ چکا ہے اور اسی لئے ڈسکے کا ضمنی انتخاب ایک خونی انتخاب ثابت ہوا ہے۔ خاص طور پر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو چور چور اور ڈاکو ڈاکو کہہ کر سیاسی ماحول میں اس قدر تلخی بھردی ہے کہ اب مقامی سطحوں پر مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے کارکن ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آرہے ہیں۔

ڈسکہ انتخابات سے ہی دوسری بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب میں حکومت کرنے کا جواز کھو بیٹھی ہے اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہئے، کیونکہ عوام کی اکثریت نے ان کے خلاف عدم اعتماد کردیا ہے۔ پی ٹی آئی تسلسل سے یہ تاثر دے رہی تھی کہ کراچی میں پیپلز پارٹی نے اِس لئے نشستیں نکال لیں کہ وہاں صوبائی حکومت اس کی اپنی تھی، مگر جو کچھ ڈسکہ میں ہوا اس سے ثابت ہوگیا کہ پی ٹی آئی کا یہ تاثر غلط تھا اور ان کی معاشی پالیسیوں کے خلاف عوام کا غم و غصہ نتھر کر سامنے آگیا۔ اگر جیت کا معیار وہی ہوتا جو پی ٹی آئی صوبہ سندھ کے حوالے سے طے کرچکی تھی تو اس معیار کے مطابق تو پنجاب میں پی ٹی آئی کو جیتنا چاہئے تھا، مگر ڈسکہ کے نتائج یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ عوام سب جانتے ہیں اور اس سے بہتر کوئی اور جج نہیں ہوسکتا ہے۔

ان ضمنی انتخابات سے تیسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ پنجاب پولیس اورضلعی انتظامیہ نے ڈسکہ میں انتخابی عمل میں تعطل کی مذموم کوشش کی اعانت کرکے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کامیاب الیکشن کے انعقاد کو ایک چیلنج بنادیا۔ ستم یہ ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور معتمد خاص عثمان ڈار رنگ لیڈر بن کر پورا دن ڈسکہ کے عوام کے ووٹ کے حق میں مبینہ خلل ڈالنے کی کوشش کرتے رہے اور انتظامیہ یا تو خاموش تماشائی بنی رہی یاپھر معاونت کرتی نظر آئی۔ یوں انتخابات کے دوران گڈ گورننس کا جنازہ نکلتا رہا، مگر وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری یا آئی جی کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی ہوتی نظر نہیں آئی۔

انتخابات کے روزووٹنگ کے عمل کو سست روی کا شکار کرنے کی مذموم کوشش پہلی بار نہیں کی گئی۔ جن دنوں تمام ریاستی ادارے نون لیگ کے خون کے پیاسے بنے ہوئے تھے انہی دنوں یہاں حلقہ ایک سو بیس کے ضمنی انتخابات میں بھی ایسی ہی چار سو بیسی کی گئی تھی کہ جب مئی جون کی تپتی دوپہر میں  مسلم لیگ(ن) کے ووٹر مزنگ کے علاقے میں لمبی لمبی لائنیں لگا کر دھوپ میں جل بھن رہے تھے اور پولنگ اسٹیشن کے دروازے بوجوہ کھولے نہیں جا رہے تھے۔ تب بھی عوام کو اپنی رائے کے اظہار سے ایسے ہی روکا گیا تھا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ انتہائی کم ٹرن آؤٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ نون لیگ عوامی مقبولیت کھو چکی ہے۔بعد میں 2018ء کے عام انتخابات کے دوران بھی محترمہ ڈاکٹر یاسمین جوتیاں گھسانے کے باوجود بھی یہاں سے پی ٹی آئی کے لئے سیٹ نہ نکال سکی تھیں اور حلقہ 120کے عوام نے ثابت کردیا تھا کہ پنجاب مسلم لیگ(ن) کا گڑھ ہے، جس طرح کہ اب ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں ثابت ہواہے۔

یاران عقل و دانش ڈسکہ میں ہونے والی غنڈہ گردی کو کھینچ کھانچ کر اس تاثر سے جوڑنا چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم چاہتی ہے کہ انتخابات میں فوج کا عمل دخل ختم ہو جائے اِس لئے جو کچھ ڈسکہ میں ہوا ہے، پی ڈی ایم کی قیادت اب اس کو بھگتے۔ ایک محب وطن پاکستانی اورپاک فوج کے خیر خواہ کے طور پر ہمارا فرض ہے کہ ایسا تاثر پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، کیونکہ انہیں سوچنا چاہئے کہ اگر وہ سب کچھ پاک فوج کے جوانوں کی موجودگی میں ہوا جو کچھ 19فروری کو ڈسکہ میں ہوتا رہا تو کیا ان جوانوں کو پھولوں کے ہار پہنائے جاتے۔ نہیں، ہر گز نہیں، بلکہ پاک فوج جیسا معزز ادارہ ایک مرتبہ پھر بے توقیر ہوتا۔ اِس لئے ہمارے وہ معزز دوست جو ڈسکہ کے خونی انتخاب سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں کہ پاک فوج کے بغیر پرامن انتخابات ممکن نہیں،انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ذہن میں ر کھنا چاہئے کہ پولیس کے علاوہ موقع پر رینجرز کے نوجوان بہرحال موجود تھے، جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دنگا فساد کو بڑھنے سے روکا۔

تاہم یہ سوال اب بھی اہم ہے کہ پنجاب پولیس نے ان عناصر کے خلاف بروقت کارروائی، کیوں نہ کی جو سارا دن ڈسکہ کے گلی کوچوں میں بغیر نمبر پلیٹ والی موٹرسائیکلوں پر سوار ہوائی فائرنگ کرکے عوام کو خوفزدہ کرتے رہے تاکہ وہ پولنگ اسٹیشنوں کا رخ نہ کریں۔ اگر اس روش کو نہ روکا گیا تو عین ممکن ہے کہ کل کو سینٹ انتخابات کے موقع پر قومی اسمبلی کے سامنے بھی ہوائی فائرنگ کے واقعات ہوتے نظر آئیں۔ پاکستان میں جمہوریت کے نہ پنپنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں شرپسند عناصر کی فوری سرکوبی نہیں ہوتی اور ڈسکہ میں تو نظربظاہر لگ رہا ہے کہ ایسی کوشش سرکاری سرپرستی میں کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ ملکی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔

اب سے پہلے بھی تودیکھے ہیں  یہ منظر مری آنکھوں نے

اب سے پہلے بھی تو دل میرا بہت افسردہ ہوابے چین ہوا

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment