0

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی اللہ کی طرف لوٹ گئے!

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی اللہ کی طرف لوٹ گئے!

ہر ذی روح نے موت کامزہ چکھناہے۔ ہر شے نے فنا ہوجانا ہے باقی صرف اللہ کی ذات کو ہی رہناہے۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ سے بڑی عقیدت ومحبت رکھنے والا، فون پر گہرے دکھ سے کہاکہ ڈاکٹر صاحب فوت ہوگئے، شک تو پڑ گیا لیکن میں نے وضاحت کے لیے پوچھا کون ڈاکٹر صاحب؟ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ،انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ منظور احمدخان، سلطان احمد ججہ،ذوالفقار چوہدری کے بعد مغیث الدین شیخ بھی رخصت ہوگئے، ان دنوں میں بیماری کی بھی اطلاع نہیں تھی، کچھ ہی دن پہلے فون پر طویل بات ہوئی۔ یہ اطلاع سن کر سکتہ سا ہوگیا، یقین نہ آ رہاتھا لیکن یہ تو سب کے ساتھ ہونی ہے حق مغفرت کرے، آمین۔

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے ساتھ 1973/1972ء سے رابطہ تھا اور ہر آنے والا دن اس تعلق میں اخلاص اور محبت کی گہرائی پیداکرتا چلا گیا۔ دھرمپورہ میں اُن کی رہائش گاہ چند دوستوں کے اجتماع کا خصوصی مرکز بن گیا، اُن کی والدہ مرحومہ بھی اسلامی جمعیت طلبہ کے احباب سے بڑی محبت اور شفقت کرتیں بہت ہی نیک خاتون تھیں۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے پنجاب یونیورسٹی میں طویل وقت گزارا، قرآن کے قاری، مقرر و خطیب، سیاسی محاذ پر طلبہ کی رہنمائی اور قیادت گر شخصیت تھے۔ جرأت اظہار میں کمال حاصل تھا، حق سچ کہہ دینا نتائج جوبھی ہوں اُس کی پرواہ نہیں تھی۔ ایم اے صحافت کے بعد گومل یونیورسٹی میں سلیکشن ہوگئی، ذہانت اور خطابت، اثر انگیز لیکچر، طلبہ وطالبات کو اُن کاگرویدہ بنا دیتاتھا۔ پھر پنجاب یونیورسٹی میں سلیکشن ہوگئی، پنجاب یونیورسٹی سے غالباً پہلے استاد تھے

جوصحافت کی اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ گئے اور پی ایچ ڈی مکمل کرکے لوٹ آئے، ریسرچ پیپرز، کانفرنسوں میں شرکت، عالمی سطح پر تو انہوں نے اپنا مقام بنا یا ہی لیکن پنجاب یونیورسٹی، سنٹرل یونیورسٹی آف پنجاب،سپریئر یونیورسٹی اور یوایم ٹی کے شعبہئ صحافت کو حقیقی معنوں میں ذرائع ابلاغ کے جدید تقاضوں سے مزین کیا اور کمال انقلابی تبدیلیاں لائے، ایم فل،پی ایچ ڈی، پرنٹ،الیکٹرانک، سوشل میڈیا میدان کے لیے عملی تربیت اور طالب علموں کی تیاری کے لیے اُن میں جنون سا پیداہوگیاتھا۔ کھڑاک پیداکرنابھی طبیعت میں تھا لیکن تعلیمی،تحقیقی محاذ پر جواں مردی سے ڈٹے رہے۔ بے شمار طلبہ و طالبات ڈاکٹر مغیث الدین مرحوم کے براہ راست تربیت یافتہ ہیں۔ حقیقی معنوں میں صحافت کے محاذ پر وہ بڑے استاد تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید،ڈاکٹر مسکین حجازی، پروفیسر وارث میر،ڈاکٹر مہدی حسن کے شاگرد بھی تھے اور اسی پایہ کے استاد بھی بنے اور کئی اعتبار سے بہت بہتر شاگرد ثابت ہوئے۔

یہ صدمہ بھی ہمیشہ رہے گا کہ قرطبہ اسلام آباد میں ہونے کی وجہ سے نماز جنازہ میں شریک نہ ہوسکا۔ سیداحسان اللہ وقاص صاحب، پروفیسر حافظ محمداقبال صاحب، میاں عبدالشکور صاحب، فرید احمدپراچہ صاحب، مسعود احمد کھوکھر صاحب،حفیظ اللہ نیازی صاحب،جاوید اختر چوہدری صاحب اور سلیم خالد صاحب کے ساتھ ہماری پنجاب یونیورسٹی، اسلامی جمعیت طلبہ اور طلبہ سیاست میں طویل یادیں وابستہ ہیں، ان شاء اللہ کبھی تحریر ہوں گے۔ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے لیے ذرائع ابلاغ تک رسائی کے لیے بڑی عملی توجہ دلاتے اور کہیں منفی بات ہوتی تو فوری رہنمائی کرتے۔ جیل ہو یا دوران ملازمت مشکلات،مخالفت اور معاصرانہ چشمک ہر محاذ پر پوری استقامت سے کھڑے رہے اور سرخرو ہوئے۔ گزشتہ رات ہی پنجاب یونیورسٹی کی سابقہ ڈین ڈاکٹرطاہرہ بشارت صاحبہ نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ڈاکٹر مغیث الدین صاحب کی طبیعت اچھی نہیں، وینٹی لیٹر پر ہیں، میں قرطبہ اسلام آباد میں تھا۔ اگلے ہی روز تقریباً 10:30بجے اورنگ زیب نے ان کی وفات کی اطلاع دی۔

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے ساتھ اسلامی، دینی اور تحریکی تعلق کے ساتھ ساتھ اُن کی والدہ اور بھائیوں کے ساتھ بھی بڑا محبت والا تعلق پیداہوا۔ کیا عجب اتفاق کہ ہمارے ایک اور بہت ہی عزیز دوست سید احمدنبی مرحوم نے ذمہ داری لگائی کہ ہمشیرہ کی شادی کے لیے کوئی اچھا رشتہ ہو تو رہنمائی کریں۔ انہیں دنوں میں ڈاکٹر صاحب کی والدہ محترمہ نے بھی کہاکہ مغیث کی اب شادی کرناہے کوئی اچھا گھر ڈھونڈکردو، دونوں طرف رشتہ تجویز کردیا، شادی ہوگئی، ماشاء اللہ بہت کامیاب زندگی گزاری، بیٹا اور دوبیٹیاں اللہ انہیں سلامت رکھے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی مغفرت کردے،آمین۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں