0

چین نےلداخ میں3 مقامات پرکنٹرول حاصل کرلیا

چین کی فوج نے لداخ میں 3 اہم اسٹریٹجک مقامات پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جب کہ مزید 2 بھارتی فوجی ہلاک بھی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے لداخ میں 3 اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جب کہ چین اور بھارتی فوج کے درمیان اس موقع پر جھڑپ میں مزید 2 بھارتی فوجی ہلاک بھی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے ایل اے سی پر مزید 3 ٹیکٹیکل پوزیشنز پر کنٹرول حاصل کیا ہے، جس میں دولت بیگ اولڈی، گلوان ویلی کے اہم حصے شامل ہیں۔ اس عمل کے بعد بھارتی فوج پینگانگ میں فنگرٹو تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

چینی فوج نے علاقے میں مشقیں بھی کیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق چین نے15 جون سے پہلے علاقے میں اپنے فوجیوں کی ٹریننگ کے لیے مارشل آرٹ کے 20 ٹرینرز بھیجے تھے۔

لداخ تنازعہ: بھارت اور چین نے لڑاکا طیارے پہنچا دیئے

سال 1996 میں ہونے والے معاہدے کے مطابق دونوں ممالک علاقے میں بندوق اور آتشی مواد نہیں رکھ سکتے ہیں۔

چین اور بھارت تنازعہ ہے کیا؟

وادی گلوان لداخ اور اکسائی چین کے درمیان انڈیا اور چین کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔ یہاں پر اصل کنٹرول لائن (ایل اے سی) اکسائی چین کو بھارت سے جدا کرتی ہے۔ یہ وادی چین کے جنوبی شنجیانگ علاقے اور بھارت کے علاقے لداخ تک پھیلی ہے۔

اس کے بعد بھارت نے وہاں فوج کی تعیناتی بڑھا دی۔ دوسری جانب چین نے الزام عائد کیا ہے کہ انڈیا وادی گلوان کے قریب سکیورٹی سے متعلق غیر قانونی فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔

اس سے قبل 9 مئی کو شمالی سکم کے ناتھو لا سیکٹر میں بھارت اور چین کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ لداخ میں کنٹرول لائن کے قریب چینی فوج کے ہیلی کاپٹر دیکھے گئے تھے۔ اس کے بعد بھارتی فضائی فوج نے بھی جنگی طیاروں کی پیٹرولنگ شروع کر دی تھی۔

بھارت اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ڈویژن کمانڈر سطح پر ہونے والی مذاکرات کے کئی دور ناکام رہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کنٹرول لائن پر موجودہ صورت حال اور چین کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک اعلیٰ درجے کی بریفنگ کا اجلاس کیا تھا۔ اس اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل وپن راوت اور تینوں افواج کے سربراہ بھی شامل تھے۔

علاقے کا جغرافیہ

سکم کا ناکو لا سیکٹر جہاں چین اور بھارت کے مابین پہلی جھڑپ ہوئی، یہ ہمالیہ میں سطح سمندر سے 5 ہزار میٹر (16،400 فٹ) سے زیادہ بلند ہے۔دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد 3 ہزار 400 کلومیٹر (2،100 میل)ہے۔ چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے البتہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے 20 مرتبہ ملاقات کی تھی لیکن کوئی بھی اہم پیشرفت نہ ہو سکی تھی۔

چکن نیک

بھارت اور چین کی سرحدیں ہندوستان کے انتہائی اہم اہمیت کے حامل علاقے سلگری کوریڈور سے ملتی ہیں، جسے چکن نیک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ چکن نیک کے علاقے میں موجود بھارت کی 7 ریاستوں کی سرحدیں چین، بھوٹان اور نیپال سے ملتی ہیں، اور اس خطے کی اہم ریاست سکم ہے، جس کی سرحدیں بیجنگ اور نئی دہلی کو ملاتی ہیں۔

بھارتی ریاست سکم کی سرحدیں چین کے علاقے تبت سے ملتی ہیں،ریاست سکم انڈیا کی آبادی کے لحاظ سے دوسری چھوٹی ترین ریاست ہے، مگر اس کی اسٹریٹجک اہمیت نہایت ہی اہم ہے۔

چین بھارت کی شمال مشرقی ریاست آندھرا پردیش پراپنا حق تسلیم کرتا ہے، کیوں کہ وہاں تبتی نسل کے افراد کی آبادی زیادہ ہے اور اسی علاقے سے ہی بھارتی یاتری تبت کے علاقے میں مذہبی عبادات کے لیے جاتے ہیں، گزشتہ ہفتے بھی تبت جانے والے ہندوستانی یاتروں کو بیجنگ نے 

چین کے صدر کا جنگی تیاری کا حکم

قبل ازیں چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدترین صورت حال نمٹنے کا بندوبست کرلیا جائے، جب کہ چینی صدر نے فوج کو بھی جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا تھا۔ فوج کو اسٹینڈ بائی پر رکھنے کا فیصلہ بھی اہم سیکیورٹی اجلاس میں کیا گیا۔ چین کے صدر کا کہنا تھا کہ ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا، جب کہ سکم بارڈر پر بھی مزید 5000 چینی فوج تعینات کردی گئی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے متنازع علاقہ کا اسٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ علاقے میں بھارت کی جانب سے بڑھتی خفیہ کارروائیوں اور جارحیت روکنے کیلئے چینی فوج نے زمین دوز بنکر بھی بنانے شروع کردیئے ہیں، جب کہ وادی گالوان کے اطراف میں چینی فوج کے 8 سو خیمے دیکھے گئے ہیں، جب کہ بھارت کی جانب 60 ٹینٹس لگائے گئے ہیں۔

دونوں اپنے دفاع کی تیاری کر رہے ہیں اور چینی ٹرکز علاقے میں آلات کی نقل و حرکت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آمنا سامنا ہونے کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’چین اپنی علاقائی خود مختاری کا تحفظ سمیت چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے پر عزم ہے، تاہم بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی رائے سامنے نہیں آئی۔

متنازعہ علاقے سے متعلق چین کا کہنا ہے کہ بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔ چينی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار کر لیا جسے بعد میں رہا کر دیا گیا۔ جس پر بھارتی آرمی چیف نے کارروائی کو بھارت کیلئے شدید جھٹکا قرار دیا ہے۔

بھارتی میڈیا نے ایسی تصاویر جاری کیں ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں پہلے ہندوستانی فوج موجود تھی، وہاں اب چینی فوج موجود ہے۔ یہ معاملہ 5 مئی کو شروع ہوا تھا، جب مشرقی لداخ کی سرحد پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے آ گئے تھے۔

ادھر بھارت کا نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ نیپالی وزیراعظم نے نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں کالا پانی، لمپیا دھورا اور لیپو لیکھ کے علاقے کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحدی تنازع پر کشیدگی بھارت کی نئی سڑکوں اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی وجہ سے سامنے آئی۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں