Home » چوکنڈی: سیاحتی کشش رکھتا ہے

چوکنڈی: سیاحتی کشش رکھتا ہے

by ONENEWS

فوٹو: شکیلہ سبحان

جب تاریخی ورثے کی بات ہوتی ہیں سندھ کے متعدد مقامات ذہن میں آجاتے ہیں جیسے ٹھٹہ، مکلی، موئن جودڑو اور بھی کٸی مقامات لیکن ایک قومی ورثہ ایسا بھی ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ شہر قائد میں ٹھٹہ کی جانب جانے والے راستے پر قائدآباد سے تقریباً 8کلو میٹر کے فاصلے پر رزاق آباد سے پہلے مرکزی راستے پر محکمہ آثار قدیمہ کا بورڈ آویزاں ہے جس پر جلی حروف میں ’’چوکنڈی مقبرا‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اسی طرف الٹے ہاتھ پر شمال کی طرف ایک روڈ ہے، جو سیدھا چوکنڈی قبرستان کے دروازے کی طرف جاتا ہے یہ 75 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ایک قدیم قبرستان ہے جہاں صدیوں پرانے مقبرے موجود ہیں۔

گزشتہ اتوار کو  ٹیم ’’میں عوام‘‘ نے شہر قائد میں موجود اس قدیم ورثے پر جانے کا پروگرام بنایا تو ہم بھی انکے ساتھ وہاں پہنچے جہاں ہماری ملاقات ایک صاحب  فاروق احمد سے ہوئی جو محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے اس قبر ستان میں تعینات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 30 سال سے اس قومی ورثے کی حفاظت پر مامور ہیں ان صاحب کے مطابق چوکنڈی کی قبریں دو قبیلوں ’جوکھیوں‘ اور ’بلوچوں‘ سے منسوب کی جاتی ہیں۔ چوکنڈی کے لغوی معنی ’چار کونوں‘ کے ہیں۔ چونکہ یہاں موجود تمام قبروں کے چار کونے ہیں غالباً اسی وجہ سے اسے ’چوکنڈی قبرستان‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ قبرستان 600 سال قدیم  ہے 15ویں صدی سے 18ویں صدی تک کی درمیانی مدت میں بنی قبریں آج بھی اپنی جگہ پر بہترین حالت میں موجود ہیں جس میں اس دور کی عظیم الشان شخصیات مدفون ہیں۔ یہاں کی تمام قبریں پیلے رنگ کے پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں جس میں سنگ مرمر کی طرح کسی بھی قسم کی سفیدی یا رنگ و روغن کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 6 صدی قبل بنی چوکنڈی کی یہ قبریں موسموں کی انگنت سختیاں بارش، دھوپ جھیلنے کے باوجود قائم و دائم ہیں۔ چوکنڈی کی عموماً قبریں ڈھائی فٹ چوڑی، پانچ فٹ لمبی اور چار سے چھ فٹ تک اونچی ہیں۔ ان تمام قبروں پر خاص نقاشی کی گئی پھول بوٹے، مختلف ڈیزائن، مصری بادشاہوں کے تاج سے ملتے جلتے سرہانے اور جالیاں تعمیر کی گئی ہیں۔ عورتوں کی قبروں میں خوبصورت زیورات کنندہ کئے گئے ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کچھ خواتین کی قبروں پر ڈولی اور جنازے کی علامت گہوارے سے مشابہہ نقوش بھی موجود تھے جن کا مطلب تھا کہ یہ قبریں شادی شدہ رئیس خواتین کی ہیں اور مرد حضرات کے قبروں پر گھڑ سواری، پگڑی، تلوار، تیر، پرندے، اور خنجر و غیرہ کے نقوش بنائے گئے ہیں کچھ قبروں پر بلندوبالا گنبد بھی تعمیر کئے گئے ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ ہیں کہ ان قبروں میں عام لوگ مدفن نہیں۔ یقیناً یہ کوئی عہدہ یا اعلیٰ مقام رکھتے ہوں گے۔ کچھ قبریں چبوترے پر بنائی گئی تھیں جبکہ کچھ کے نیچے ایک طرح کے طاق بنائے گئے ہیں جن کے آر پار با آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔

چوکندی قبرستان

فوٹو: شکیلہ سبحان

چوکنڈی کے قبرستان کے کتبوں کو اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہاں متعدد قبائل کے لوگوں کی قبریں ملتی ہیں بعض قبروں  پر بُدھ اور جین مت کی نشانیاں بھی کندہ ہیں یہ سندھ کی تہذیب کی باقیات ہیں، ان قبروں کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ پہلے زمانے سائنٹیفک آلات بھی موجود نہیں تھے پھر اُن لوگوں ان پتھروں پر یہ ڈیزائن کیسے بنائے گئے ہوں گے؟ یہ قبریں اس دور کے لوگوں کی مہارت کی عکاسی کر رہا ہے قبروں کو دیکھ کر ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قبر پر کئی ماہر کاریگروں نے کئی مہینے صرف کیے ہوں گے تب جا کر ایک قبر تیار ہوتی تھی۔ قبروں کی معیار سے قبر میں موجود میت کے سماجی رتبے اور مال و دولت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو قبر جتنی اونچی ہے، مرنے والے شخص کا دنیاوی رتبہ اور مال و دولت بھی اسی معیار کی رہی ہوگی البتہ جو قبریں کچی اور پتھروں میں چھوپی ہیں وہ لوگ غریب اور کم رتبہ رکھنے والوں کی ہیں۔

قبرستان میں جنگ میں شہید اور طبعی موت مرنے والوں کی قبریں بھی موجود ہیں آج بھی اس قبرستان میں جوکھیوں اور بلوچوں کے خاندان کے لوگوں کو دفن کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی قبریں چو کنڈی کے علاوہ ملیر، میر پور ساکرو، مکلی، ٹھٹہ، سہون شریف وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہیں ان قبرستانوں میں سندھ کی تہذیب کی قدیم نشانیاں موجود ہیں۔ سندھ کے شاندار ماضی کی اس علامت کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیں محکمہ آثار قدیمہ و نوادرات کے ڈائریکٹرجنرل منظور احمد کناسرو کے مطابق ابھی حال ہی میں 200 قبروں پر بحالی وبچاؤ کا کام کروایا گیا ہے جبکہ سیاحوں کی سہولت کیلئے ایک آرام گاہ، مسجد اور واش رومز بھی تعمیر کروائے گئے ہیں جوکہ سیاحوں کیلئے اچھا اقدام ہے مگر ابھی یہاں پر کئی کام ہونے باقی ہے جیسے یہاں پر ایک مستقل طور پر گائیڈ موجود ہونا چاہیئے تاکہ آنے والوں کو معلومات فراہم کرسکے اور یہاں دیکھ بھال کرنے والوں کی تعداد بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ چوکنڈی قبرستان ہمارا قومی ورثہ ہے اس کی بچاؤ و بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں پر بھی بین الاقومی سیاح اور محققین کی توجہ اس طرف مبذول کروائی جاسکے۔

.

You may also like

Leave a Comment