0

  چولاں نامار

آپ سب کو سنتا سنگھ اور بنتا سنگھ کی جانب سے عید مبارک ہو۔ اس موقع پر ان کا پیغام یہ ہے کہ بے شک آپ پْٹھ، چانپیں، دستی، ران اپنے پاس ایسے محفوظ کرلیں جیسے تاریخ کے سینے میں حکومتیں الٹنے اور بننے کے لیے راتوں کو چھپ چھپ کر ملنے والوں کے راز محفوظ ہیں۔ یہ عین ثواب کا کام ہوگا کہ آپ چھیچھڑے، اوجڑی اور اس طرح کی انتہائی فضولیات غریبوں میں تقسیم کرنے کیلئے صدق دل سے تیار رہیں۔ سنتا سنگھ، بنتا سنگھ کا پیغام ختم ہوا اب آپ میری بات بھی سن لیں۔ کیونکہ ”گلاں وچو گل“ نکلتی ہے اور ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ اس عید پربہت سے بکرے، چھترے، دنبے بچ سکتے ہیں لیکن عید کے بعد سیاسی بکروں، چھتروں کی قربانی یقینی ہے۔ خان صاحب کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے خواب میں کئی دن سے کوئی آکر کہہ رہا ہے۔ ”مولیا گنڈاسا کڈلے“ اطلاعات یہ ہیں کہ یہ آواز پنڈی کی جانب سے آتی سنائی دیتی ہے اس بار خان صاحب نے ککڑی بھی نہیں چھوڑنی۔ سنتا سنگھ نے اپنی محبوبہ کو برگرلے کردیا۔ وہ بولی شکریہ، سنتا سنگھ بولا بس شکریہ، وہ بولی نہیں جانو آئی لو یو، سنتا سنگھ بولا چولاں نا مار ادھا برگر مینوں وی دے۔ ہمارا کپتان تھینک یو سنتا ہے نا آئی لو یو، برگر خرید کے دینے والی بات تو بْھل ہی جاؤ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ قوم اپنے ہاتھ میں بچی کچی سوکھی روٹیوں کو بھی چھپا لے، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ”کو کلا چھپاکی جمعرات آئی جے۔ جیہڑا اگے پیچھے تکے اہدی شامت آئی جے“۔

ویسے تو بچے ہمارے عہد کے ہوشیار ہو ہی گئے ہیں لیکن کپتان ہمارا ہوشیار توں وی ہشیار ہوگیا ہے۔ اس نے نیب ترامیم کے نام پر اپوزیشن سے جو خواہشات نکلوائیں اور اس کے بعد ان کا ڈھنڈورا پیٹا وہ کسی طرح بھی طرح میاں برادران اور زرداری اینڈ سنز کے جمہوری رویوں سے کم نہیں۔ سنتا سنگھ سٹیشن پر سامان لئے کھڑا تھا۔ دوست نے پوچھا تو بولا وہ ہنی مون منانے کشمیر جا رہا ہے دوست نے پوچھا بھابھی کہاں ہیں تو بولا آپ کی بھابھی نے کشمیر پہلے بھی دیکھا ہے اسی لئے نہیں آئی۔ ہمارے چھوٹے بھیا عرف خادم اعلیٰ اسی لئے بلاول فضل الرحمن کے سیاسی ہنی مون سے پرہیز کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے پیپلز پارٹی اور فضل الرحمن کو بہت اچھی طرح دیکھا ہوا ہے پھر انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ کہیں اے پی سی میں ان کا زرداری صاحب سے آمنا سامنا نا ہو جائے اور انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے کی خواہش پھر سے زندہ ہو جائے۔بنتا سنگھ پریشر کْکر واپس کرنے دکان پر پہنچا،دکاندار نے کہا کہ اس میں کیا خرابی ہے،تو وہ بولا اَسی بھینا،بیٹیاں والے ہیں یہ گھر میں سیٹیاں مارتا ہے۔شہباز شریف ماشاء اللہ نیب مقدمات،چھوٹے موٹے خاموش معاہدے رکھنے والے ہیں انہیں کسی طرح بھی پیپلز پارٹی اور فضل الرحمن کی سیٹیاں پسند نہیں آئیں گی۔

جاناں جاناں کو ہم نصاب عشق کا اوّل قاعدہ قرار دیتے ہیں۔احمد فراز (مرحوم) سے ہماری عقیدت کا ثبوت ان کے ہزاروں،سینکڑوں شعروں اور نظموں کا یاد ہو نا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز سے ملاقات پہ ہم انہیں اتنے ہی پیار سے دیکھ رہے تھے جتنی محبت سے مرشد کے بیٹے کو دیکھا جاتا ہے۔تاہم ایک مرحلے پر ہمیں ان سے شدید مایوسی ہوئی جب انہوں نے ہماری فرمائش پر احمد فراز (مرحوم) کے درجنوں شعر سنائے۔ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ تمام بڑے باپوں کی اولاد جاوید اقبال جیسی ہوتی ہے۔شبلی فراز کی مسکراہٹ اور لہجے نے ہمیں احمد فراز (مرحوم) سے ہوئی ملاقاتوں کی فلم ایک بار پھر ہماری آنکھوں کے سامنے چلا دی اور وہ بھی شرطیہ نئے پرنٹ کے ساتھ۔ویسے تو درخت کے سائے میں موجود پودے کبھی ہرے بھرے نہیں ہوتے لیکن شبلی فراز تناور درخت کی طرح لگ رہے تھے۔ہمیں امید ہے کہ وہ ہر بار خود کو بڑے باپ کا بڑا بیٹا ثابت کریں گے اور انکی وزارت میں اخبارات،چینلز اور خصوصاً چھوٹے ورکر کو ان سے با ر بار تجدید وفا کی ضرورت نہیں رہے گی۔جاناں جاناں کا یہ پیماں مجھے یاد ہے تو انہیں بھی یاد ہو گا۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں