0

چلتے ہو تو بروغل فیسٹول دیکھنے چلو

یہ تصویر محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کیجانب سے جاری کی گئی ہے

پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سیاحتی مقامات پر اگر آپ اپنے اہل خانہ اور دوستوں کیساتھ سیر و تفریحی کا ارادہ رکھتے ہیں تو چترال کا بروغل فیسٹول آپ کیلئے ایک بہترین انتخاب ہوگا۔ سطح سمندر سے 13ہزار 600 فٹ بلندی پر واقع اور چترال شہر سے 250کلومیٹر دور بروغل وادی پر ہرسال بروغل فیسٹیول منایا جاتا ہے۔

ضلع اپر چترال کی وادی میں خوب صورت پہاڑوں کے درمیان گھرے علاقے بروغل میں 2 روزہ فیسٹول اگلے ماہ ستمبر میں 5 سے 6 تاریخ کو ہونا تھا، تاہم چترال میں ہونیوالی حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث نقصانات اور رابطہ پل کے سیلاب برد ہونے کی وجہ سے محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا اور ضلعی انتظامیہ اپر چترال نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اب یہ فیسٹول 12- 13 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ اس فیسٹول کا انعقاد صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ سیاحت کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر فیسٹول کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اس کیلئے “بروغل نیشنل پارک اپر چترال” کے مقام کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جس میں موسیقی کی محفل کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

اس فیسٹول میں زیادہ تر سیاح بیرون ملک اور پنجاب سے یہاں آتے ہیں۔ موسم کی مناسبت سے اس فیسٹول کا انعقاد جولائی سے اکتوبر کے درمیان کیا جاتا ہے۔ اس فیسٹول کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں ہوتی ہے۔ مقامی آبادی کے علاوہ ملکی اور بیرون ملک سے بھی سیاح بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ گزشتہ سال چین، فرانس اور جاپان سے بھی بڑی تعداد میں سیاح اس فیسٹول کو دیکھنے آئے۔

بشکریہ اخبار نامہ

اس فیسٹول میں کیا کیا ہوگا؟

فیسٹیول میں کھیلی جانے والی جنوبی ایشیاء کا تاریخی کھیل بزکشی ہے جس میں گڑ سوار مردہ دنبے یا بکرے کو اٹھائے دیگر گڑ سوارے سے بھاگتا ہے جن کے مابین ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ابتدا میں یہ فیسٹول مقامی سطح پر ہوتا تھا، تاہم رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا اور وہ فیسٹول جو پہلے مخصوص کھیلوں پر محیط تھا۔ اب اس میں یاک پولو، ہارس پولو، ڈونکی پولو، رسہ کشی، کشتی، فٹ بال، کرکٹ، میراتھن ریس کے مقابلے اور بزکشی کے علاوہ دیگر مقامی روایتی کھیلوں کے مقابلے بھی شامل کیے جانے لگے۔

فیسٹول میں قدیم اور منفرد واخی ( وہاں کے مقامی لوگوں کو واخی کہا جاتا ہے ) ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا۔ لوگوں کی بڑی تعداد فیسٹول میں ہونے والی آتش بازی کے مظاہروں سے بھی محظوظ ہوتی ہے۔

یہ تصویر محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کیجانب سے جاری کی گئی ہے

ٹینٹ ویلیج

روایتی موسیقی اور مقامی کھانوں کی نمائش بھی اس فیسٹویل کا اہم حصہ ہونگے۔ سیاحوں اور شراکاء کی سہولت کیلئے ٹینٹ ویلیج بھی قائم کیا جائے گا۔ بروغل فیسٹیول میں شریک ہونے والے سیاحوں کیلئے خصوصی طور پر ٹینٹ ویلیج کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ سیاح ایڈونچر سیاحت سے لطف اندوز ہو سکیں۔

یہ تصویر پاکستان ٹورئیزم گائیڈ کی سائٹ سے لی گئی ہے

مقام

یہ فیسٹول “بروغل” کے علاقے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ علاقہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ ہے۔ یہاں کرمبر جھیل بہت خوبصورت اور دلفریب نظارہ پیش کرتی ہے اور پاکستان میں سیاحت کیلئے مشہور ہے۔ یہ علاقہ 9 گھنٹے کی ٹریکنگ طے کرکے آتا ہے۔ بروغل کا علاقہ چترال سے 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پاک افغان سرحد ڈیورینڈ لائن کے قریب سرحدی گاؤں ہے، جہاں قائم نیشنل پارک میں اس کا انعقاد کیا جائے گا۔

یہ تصویر ٹوئٹر پر ایک صارف کیجانب سے شیئر کی گئی ہے

خوبصورت گلیشیر، وائلڈ لائف، سرسبز و شاداب، اونچے اونچے پہاڑی سلسلے، ندی نالوں، جھیلوں، جنگلی حیات کا نظارہ یہاں دور دور سے سیاحوں کو کھینچ لاتا ہے۔ وادی میں 30 کے قریب تازہ پانی کی مختلف جھیلیں بھی موجود ہیں۔

اس علاقے میں موجود کرمبر جھیل کا شمار دنیا کی 31 ویں بڑی جھیلوں میں ہوتا ہے، جب کہ یہ پاکستان کی دوسری بڑی جھیل ہے، جو 14 ہزار 121 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ کرہ ارض پر یہ نایاب قدرتی جھیلوں میں سے ایک ہے۔

یہ تصویر اخبار نامہ سائٹ سے لی گئی ہے

صرف یہی نہیں بروغل علاقے میں بنا “بروغل پاس” بھی خوبصورتی کی اعلیٰ مثال ہے۔ جو 12 ہزار 4 سو60 فٹ کی بلندی پر ڈیورینڈ لائن بارڈر کے ساتھ ہے، جو آگے جا کر کوہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں اور پھر افغان پہاڑی علاقوں سے جا ملتا ہے۔ دشوار گزار اور ایڈونچر سے بھرپور اس وادی کی خوبصورتی بہت زیادہ ہے۔ سو جو افراد ایڈونچر کا شوق رکھتے ہیں، ان کیلئے یہ مقام یقیناً ایک دلکش منزل ہوگی۔

تاریخ اعتباز سے بھی یہ فیسٹول اپنی مثال آپ ہے۔ اس علاقے میں مقیم مقامی آبادی واخی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ وادی بروغل آئی بکس، گیڈر، برفانی تیندوا، کالے اور بھورے ریچ، لومڑی، خرگوش اور مارموٹ سمیت کئی جانوروں کی سرزمین ہے۔

آگر آپ اکیلے خیبر پختونخوا سے اس فیسٹول میں شرکت کا ادارہ رکھتے ہیں تو اس پر تقریبا 12 ہزار تک لاگت آئے گی، تاہم گروپ کی شکل میں رقم تقسیم ہونے پر کم ہوگی۔ تاہم کراچی سے اس فیسٹول میں شرکت کے خواہشمند افراد کو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ پشاور تک کا سفر کیسے طے کرتے ہیں۔ کراچی سے پشاور تک بذریعہ ٹرین یہ سفر سستا پڑے گا۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں