Home » پی ایس۔ ایل میلہ کراچی نے لوٹ لیا

پی ایس۔ ایل میلہ کراچی نے لوٹ لیا

by ONENEWS

پی ایس۔ ایل میلہ کراچی نے لوٹ لیا

اسلام علیکم پارے پارے دوستو کیسے ہیں؟ امید ہے اچھے ہی ہوں گے۔ جی دوستوں بالآخر پی ایس ایل اختتام پذیر ہوا اور فائنل کراچی کنگز کے نام ہو گیا بلکہ یوں کہا جائے کہ میلہ کراچی کنگز نے لوٹ لیا تو غلط نہ ہو گا۔ پی ایس ایل۔ 5 کے فائنل میں کراچی کنگز  اور لاہور قلندرز کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ ہوا اور جیت کراچی کنگز کا مقدر بنی، کراچی کنگز کی فتح میں بابر اعظم کا بہت اہم کردار رہا، جی بابر اعظم کراچی کنگز کے کپتان ہیں اور پاکستان قومی ٹیم کے کپتان بھی منتخب ہو چکے ہیں۔انہوں نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ فائنل میچ کے ٹاس میں تو قسمت نے لاہور قلندر کا ساتھ دیا لیکن پھر بازی پلٹ گئی۔لاہور قلندر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، آغاز اچھا ہوا، تمیم اقبال اور فخر نے اوپننگ کی۔لاہور قلندر کی پہلی وکٹ 63 کے اسکورپرگری، تمیم اقبال آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے انہوں نے 37 گیندوں پرچونتیس رنز بنائے، تمیم کے آؤٹ ہونے کے بعد فخر بھی 24 رنز ہی بنا سکے، پھر تو یوں لگا کہ جیسے بلے باز کراچی کنگز کے بالروں کے سامنے ڈھیر ہی ہو گئے،ایک کے بعد ایک کر کے آوٹ ہوتے گئے۔محض 134 رنز پر لاہور قلندرز کی پوری ٹیم فارغ ہو گئی، یہ یقینا فائنل میچ کے لئے کوئی بہت بڑا ہدف نہ تھا لہٰذا مطلوبہ ہدف کراچی کے بلے بازوں نے با آسانی پورا کر لیا۔دلبر اور پٹیل کی عمدہ باؤلنگ نے کراچی کنگز کے بلے بازوں کو مشکل میں تو ڈالا لیکن باقی باولروں نے ان کا ساتھ نہ دیا،امید تھی کہ شاہین اور حارث کچھ جادو جگایئں گے،لیکن انھوں نے بھی غیر ذمہ دارانہ باؤلنگ کا مظاہرہ کیااور ان کی اسی غیر ذمہ دارانہ باؤلنگ نے بھی کراچی کنگز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔  ویسے اگر دیکھا جائے تو پی ایس ایل کے فائنل میچ کاپوری قوم کوبے تابی سے انتظار تھا۔کورونا نے جہاں دنیا بھر کو متاثر کیا وہیں کرکٹ بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا۔مارچ میں پی ایس ایل کے میچز جاری تھے جب کورونا کی وبا نے پاکستان میں سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، اسی لئے میچ روک دیئے گئے تھے اور اس طرح پی ایس ایل ادھورا ہی رہ گیا تھا اور شائیقین کرکٹ افسردہ ہو گئے تھے۔لیکن اب یہ ادھورا کام مکمل ہو گیا، باقی رہ جانے والے میچز کھیلے توسٹیڈیم میں گئے لیکن دیکھے گھروں میں گئے، کیونکہ کورونا کی وجہ سے سٹیڈیم میں شائیقین کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ یقیناً کراچی کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے جس نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔لاہور قلندرزکے لئے یہ ہی بڑی بات تھی کہ وہ پہلی دفعہ پی ایس ایل کے فائنل میں اتری تھی اور لاہور والوں کو جیت کی خواہش بھی تھی لیکن ظاہر ہے کہ جب بھی میچ ہو گا، دو ٹیمیں میدان میں اتریں گی تو جیت تو کسی ایک کی ہی ہو گی۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اصل جیت پاکستان کی ہو ئی ہے۔ پی پی ایس ایلْ5 کامیابی سے اختتام کو پہنچا، تمام کے تمام میچ ہمارے ملک پاکستان میں ہی کھیلے گئے اور یقینا خوشی کی بات ہے کہ دنیا بھر کے کھلاڑیوں نے پی ایس ایل کھیلنے کے لئے ہماری پاک سرزمین پر قدم رکھا اور امید ہے کہ اب دنیا بھر کے کھلاڑی بے خوف و خطر کھیلنے ہمارے ملک میں آتے رہیں گے۔ یقیناً وہ وقت بھی دور نہیں جب ہمارا ملک کھیل کے میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ بہر حال اجازت چاہتے ہیں آپ سے ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو۔ چلتے چلتے اللہ نگھبان

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment