Home » پیارے کپتان کے فتوے

پیارے کپتان کے فتوے

by ONENEWS

ہمارے پیارے کپتان جی کرکٹ میں بھی آل راؤنڈر تھے اور اب حکومت بھی آل راؤنڈر کی طرح چلا رہے ہیں، وہ جب کسی تقریب میں خطاب کر رہے ہوتے ہیں تو بیک وقت ذاکر نائیک، مولانا طارق جمیل، نیلسن منڈیلا، آئن سٹائن اور جارج برنارڈ شاہ بن جاتے ہیں، پھر ایسے چوکے چھکے لگاتے ہیں کہ مخالف تو کیا حامی بھی ہکا بکا رہ جاتے ہیں، اب انہوں نے مفتی کا منصب بھی سنبھال لیا، پہلے سیاسی مخالفین کو چور، لٹیرے اور ڈاکو کہتے تھے اب انہیں اللہ کے عذاب میں مبتلا گناہ گار قرار دے رہے ہیں، اپنے تازہ ترین فتوے میں انہوں نے فرمایا ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف اللہ کے عذاب کی پکڑ میں ہیں،یعنی انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی حکومت، نیب اور ایف آئی اے کو آصف علی زرداری یا نواز شریف کے معاملے میں بری الذمہ قرار دیتے ہوئے انہیں عذاب الٰہی کا شکار قرار دیا ہے۔اب اس پر بڑی لے دے ہو رہی ہے کہ عمران خان، آصف علی زرداری اور نواز شریف کے معاملات اور بیماری کو لے کر یہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ عذاب الٰہی کا شکار ہیں۔ یہ بیماریاں تو انسانوں کو لگتی ہی رہتی ہیں اور ہمارے ہاں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بیماری انسانی جسم کی زکوٰۃ ہے یہ جو ہمارے ہسپتال بیماروں سے بھرے پڑے ہیں کیا وہ سارے عذاب الٰہی کا شکار ہیں، پھر آصف علی زرداری اور نواز شریف عمر کے جس حصے میں ہیں، اُس میں تو بیماریوں سے نمٹنا ہی پڑتا ہے، بڑے بڑے عالم، پیر، مرشد بھی عمر کی بزرگی کے باعث کسی نہ کسی بیماری کے زیر اثر آ جاتے ہیں، کیا انہیں عذاب الٰہی کا شکار کہا جا سکتا ہے۔

ممکن ہے وزیراعظم عمران خان نے یہ بات آصف علی زرداری یا نواز شریف کے تناظر میں نہ کہی ہو،بلکہ اس حوالے سے کی ہو کہ وہ قانون کی گرفت میں آئے ہوئے ہیں اور کرپشن کی وجہ سے اُن پر جو کیسز بنے ہیں، وہ اللہ کی پکڑ ہی ہیں یہاں بھی اعتراض کرنے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیاوی معاملات میں اللہ کی پکڑ کا فتویٰ کیسے دیا جا سکتا ہے۔یہاں تو ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ جھوٹے مقدمات میں لوگوں کو برسوں جیل میں رکھا گیا اور معاملہ اعلیٰ عدالت تک پہنچا تو عقدہ کھلا کہ جس کیس میں بندے کی آدھی زندگی جیل میں گذر گئی وہ تو بنتا ہی نہیں تھا۔ کیا اس انسانی ظلم کو بھی عذاب الٰہی کا لبادہ پہنا کر صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے؟ وزیراعظم کے فتوے کو درست مان لیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہمارا نیب خدائی فوجدار ہے جو عذاب الٰہی کو لوگوں پر نازل کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ جن الزامات میں آصف علی زرداری اور نواز شریف بقول وزیراعظم عذاب الٰہی کا شکار ہیں، ویسے ہی الزامات ایسے بہت سے لوگوں پر لگے ہوئے ہیں، جو حکومت کے اندر موجود ہیں۔ تو کیا عذاب الٰہی بھی نعوذ باللہ یہ دیکھ کر آتا ہے کہ کون گناہ گار حکومت کی چھتری تلے بیٹھا ہے اور کون اپوزیشن میں ہے۔اپوزیشن والوں پر نازل ہو جاتا ہے اور حکومت والے محفوظ رہتے ہیں۔ اس کا فیصلہ تو کوئی انسان نہیں کر سکتا کہ کون گناہ گار ہے اور کون فرشتہ ہے۔یہ اختیار تو  اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو نہیں دیا، اسی طرح یہ طے کرنا بھی انسانوں کا کام نہیں کہ کسی کے ساتھ اگر بُرا ہو رہا ہے،یا  وہ کسی بیماری کی لپیٹ میں ہے تو عذاب الٰہی کا شکار ہے۔ جسمانی عوارض تو انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں۔

بڑے بڑے نیک و پارسا بھی بیمار ہوتے ہیں،حالانکہ انہوں نے اپنی زندگی زہد و تقویٰ کے دائرے میں گذاری ہوتی ہے۔ کیا اُن کی بیماری کو بنیاد بنا کر عذاب الٰہی کی گرفت میں ہونے کا فتویٰ جاری کیا جا سکتا ہے؟

ایسے معاملات جو سیاست کے زمرے میں آتے ہیں، انہیں عوام کے عقائد کی چادر پہنانا ایک معیوب بات ہے۔یہ حقیقت ہے کہ تمام تر کیسوں، سزاؤں اور کارروائیوں نیز پروپیگنڈے کے باوجود آصف علی زرداری کی سیاست ختم ہوئی ہے اور نہ نواز شریف کی۔ یہ بھی سامنے کی حقیقت ہے کہ حکومت مخالف جو تحریک چل رہی ہے۔ وہ بے جان نہیں اور اُس میں عوام کی شرکت واضح ہے۔ اب اس کا مقابلہ سیاسی انداز سے ہونا چاہئے، نیب کی پکڑ کو اللہ کی پکڑ کا لبادہ اوڑھا کر عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔اب اگر اپوزیشن کی طرف سے بعض علمائے کرام یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے آصف علی زرداری اور نواز شریف کی بیماری کو نشانہ بنا کے جو مضحکہ خیز بات کی ہے وہ اُن کے غرور و تکبر کی علامت ہے۔

انسانی بیماریوں کو جو زمینی حقیقت ہیں عذاب الٰہی قرار دینا اُن لاکھوں کروڑوں مریضوں کی دلآزاری کے مترادف ہے جو جسمانی عوارض میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی زندگی جی رہے ہیں۔ پیارے کپتان تو سٹیج پر کھڑے ہو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ اب وہ اپنے مشہورِ زمانہ کنٹینر پر نہیں کھڑے، بلکہ ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے خطاب کر رہے ہیں، ابھی حال ہی میں اسحاق ڈار نے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں جو انٹرویو دیا، اُس پر حکومت اس طرح خوش ہو رہی ہے، جیسے لاٹری نکل آئی ہو۔ خود وزیراعظم نے بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے اس انٹرویو پر کڑی تنقید کی،حتیٰ کہ چہرے کے ان تاثرات کا بھی ذکر کیا،جو پروگرام کے دوران اسحاق ڈار کے منہ پر آتے رہے۔ اس پر اسحاق ڈار نے اپنے ایک جوابی انٹرویو میں کہا کہ وزیراعظم کو ہمارا اتنا خوف ہے کہ ہم جب بھی ٹی وی پر آئیں وہ سارے کام چھوڑ کر ہماری باتیں سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اتنی ہی کمزور ہے کہ اُسے ایسے کسی انٹرویو کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں بقول وزیراعظم جھوٹ بولا گیا۔ اس انٹرویو کو جس طرح ترجمے کے ساتھ چینلوں پر چلوایا گیا اُس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت تنکوں کا سہارا ڈھونڈ رہی ہے۔وہ اسحاق ڈار جن کا چینلوں پر نام تک لینا ممنوع تھا، اب کئی دِنوں سے تمام چینلوں، حتیٰ کہ پی ٹی وی پر بھی چھائے ہوئے ہیں۔

پیارے کپتان سے گذارش یہی کرنی ہے کہ  وہ ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے آصف علی زداری اور نواز شریف پر جتنی چاہے تنقید کریں، انہیں چور، لٹیرا، ڈاکو، کرپٹ جو کچھ مرضی کہیں، مگر ایسا فتویٰ نہ دیں جو اُن کے اختیار میں نہیں، اللہ کے عذاب سے تو ڈرنا چاہئے۔ چہ جائیکہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ کس کس پر اللہ کا عذاب نازل ہو چکا ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment