Home » پولیس کی تضحیک: جنرل باجوہ، فیض حمید تحقیقات کریں، بلاول

پولیس کی تضحیک: جنرل باجوہ، فیض حمید تحقیقات کریں، بلاول

by ONENEWS

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صبح 4 بجے آئی جی پولیس کے گھر کا گھیراؤ کیا گیا اور انہیں اٹھاکر لے جایا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید اس کی تحقیقات کریں۔ وہ دیکھیں کہ ان کا ادارہ سندھ میں کیسے کام کر رہا ہے۔

گزشتہ روز یہ افواہیں تھیں کہ آئی جی سندھ کو گھر سے اغوا کیا گیا۔ بلاول نے اس کی تصدیق کی مگر اغوا کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کیا۔

بلاول بھٹو نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ادارے کی عزت داؤ پر لگ گئی۔ کہیں سے بھی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ پولیس کا ہر افسر کہہ رہا ہے کہ کون تھا جس نے آئی جی کے گھر کا گھیراؤ کیا۔ کون تھے وہ دو لوگ جو آئی جی کو صبح 4 بجے کہیں لے کر گئے۔ آئی جی سندھ کے ساتھ یہ سلوک اس بات کی توثیق ہے  کہ ریاست کے اندر، باہر اور اوپر بھی ریاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی تحقیقات کریں اور دیکھیں کہ ان کا ادارہ صوبے میں کس طرح کام کررہا ہے۔ جس نے ادارے کو ایسا کرنے کا مشورہ دیا، انتہائی غلط کیا۔ اس سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ کیا تک بنتی ہے کہ صبح 4 بجے آئی جی کو لے کر جاتے ہیں  اور قائد کے مزار پر نعرہ لگانے پر میٹنگ کرتے ہیں۔ سندھ میں قتل اور بم دھماکے سمیت کئی ایشوز ہیں۔ ان کا کام نیشنل سیکیورٹی اور صوبے کے امن کا خیال رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ پولیس چیف سمیت متعدد افسران چھٹی پر چلے گئے

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ چینی قونصلیٹ پر حملہ ہو، یا اسٹاک ایکس چینج پر حملہ ہو، سندھ پولیس کے اہلکاروں نے قربانی دے کر پاکستان کو سفارتی بحران اور معاشی بحران سے بچایا۔

بلاول نے کہا کہ اگر پولیس کی عزت نہیں رہے گی تو وہ کام کیسے کریں گے۔ سب چاہتے ہیں کہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں۔ اس واقعے کو نہ برداشت کرسکتے ہیں نہ کریں گے۔ پاکستان کے مسائل پر کوئی ایک سیکیورٹی ادارہ اور ایک سیاسی جماعت قابو نہیں کرسکتی۔ ملک میں تاریخی معاشی بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن کسی کو ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہئے۔ کل کے واقعات میں بہت ساری ریڈ لائنز کراس ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آرمی چیف نے کورکمانڈر کو تحقیقات کاحکم دیدیا

پریس کانفرنس کے آغاز میں بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ وہ انتہائی شرمناک ہے۔ میں شرمندہ ہوں، اپنا منہ کھانے کے لائق نہیں ہوں۔ میرے صوبے میں یہ کیسے ہوا۔ یہ کیسا کمزور سیاسی نظام ہے جس میں نعرے لگانے پر اتنا بڑا طوفان آتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان وہاں گئے اور نعرے لگائے۔  کالعدم تنظیمیں وہاں نعرے لگاتی ہیں، ان کے خلاف تو کارروائی نہیں ہوتی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دیگر صوبوں میں پولیس ٹائیگر فورس کی طرح کام کرتی ہے۔ پنجاب میں ایک سال کے اندر 6 آئی جی تبدیل ہوتے ہیں۔ سندھ میں ہم پر عدالت کی پابندی ہے۔ مگر ہم پھر بھی ادارے کا احترام کرتے ہیں۔

اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کی افواہیں ہیں۔ بلاول نے جواب دیا کہ گورنر راج لگا کر تو دکھائیں۔ یہاں منتخب حکومت ہے۔ منتخب اسمبلی ہے۔

You may also like

Leave a Comment