Home » پولیس کو وسائل دینے کی ضرورت

پولیس کو وسائل دینے کی ضرورت

by ONENEWS

پولیس کو وسائل دینے کی ضرورت

معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنا پولیس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے لیکن یہاں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پولیس افسران اپنی ذمہ داری سے غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں یہی لاپرواہی جرائم میں اضافے کا سبب ہے اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اجکل پولیسنگ نظام تو سیف سٹی کیمروں، الیکٹرونک میڈیا، اخبارات اور سو شل میڈیا کی صورت میں گلی محلوں اور دیہات تک رسائی حاصل کر چکا ہے لیکن جرائم کی شرح میں ہوشربا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے پولیس نظام میں مؤثر بہتری کی نوید کئی بار سنائی دی گئی مگر ڈھاک کے تین پات پولیس کی تمام تر خرابیوں کے ساتھ پرنالہ اپنی جگہ موجود ہے اور کارکردگی روزبروز گھمبیر صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے،حقیقت میں پولیس کوہی معاشرے سے جرائم کے خاتمے،امن کے قیام اور قانون کی بالا دستی کے لئے اپنامتعین کردار ادا کرناچاہیے لیکن اس ادارے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گیرائی اور گہرائی پیدا ہوئی ہے،کوئی بھی اور ادارہ اس کی جگہ تو نہیں لے سکا ہاں البتہ سہولت کاری کے لئے ریاست کے مختلف ادارے‘ پولیس کی معاونت کی ذمہ داریاں ضرور نبھاتے ہیں ایک عرصے سے جنگ و جدل کی آماجگاہ بنے پاکستان میں پولیس کی ذمہ داریوں میں معتدبہ اضافہ ہوگیا ہے یہ علیٰحدہ بات ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس قومی ادارے کو مناسب وسائل کی فراہمی، قوانین میں تبدیلی، میرٹ کی بالادستی،تربیت کی مناسب سہولتیں، آزاد ی عمل اور پوسٹنگ اور ٹرانسفرز میں اشرافیہ اوربر سر اقتدار طبقات سے وہ آزادی حاصل نہیں ہو سکی جو کسی بھی جمہوری اور فلاحی معاشرے کا طرہ امتیاز سمجھی جاتی ہے اور اسی المیے کی طرف میڈیا گاہے بگاہے حکومت کی توجہ دلاتا رہتا ہے۔

پولیس کا مورال اس قدر گر چکا ہے کہ آج بھی جب کوئی بڑا سانحہ پیش آجائے تو امن قائم رکھنے کے لئے رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کا سہارا لینا پڑاتا ہے۔پولیس ایکٹ 1861ء میں تبدیلی وقت کا تقاضا ہے تا کہ محکمہ کو انتظامی لحاظ سے خود مختار اور فعال بنایا جاسکے کیونکہ ڈیڑھ صدی پرانے ایکٹ کے ذریعے آج کے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ہماری خواہش ہے کہ پولیس کو فورس کی بجائے دیگر آزاد قوموں کی طرح پاکستان میں بھی خدمت گارادارہ بنایا جائے۔ملک کے دیگر صوبوں میں پولیس آرڈر 2002ء پر کافی حد تک عملدرآمد ہورہاہے جبکہ کے پی کے میں تو صوبائی حکومت نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے وہاں کی پولیس کو سیاست سے پاک اور مکمل آزادی عمل دے رکھا ہے جس کے نتائج بھی مثبت شکل میں پوری قوم کے سامنے آرہے ہیں جبکہ بد قسمتی سے پنجاب کی صورتحال اس لحاظ سے خاصی مخدوش ہے کہ یہاں اب بھی پولیس کو صدیوں پرانے قوانین کی روشنی میں کام کر نا پڑرہا ہے حالانکہ جرائم کی سنگینی اور وسعت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اس لئے صوبے میں امن و امان کی مکمل طور پر بحالی‘قانون کی یقینی عملداری کے لئے ضروری ہے کہ پنجاب حکومت در پیش صورتحال اور چیلنجز کا مقابلہ کر نے کے لئے ناصرف ضروری قانون سازی کرے بلکہ پوسٹنگ، ٹرانسفر اور ٹریننگ کے نظام میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنائے صرف اسی صورت میں ہی پنجاب پولیس کسی بھی بیساکھی کے بغیر حقیقی معنوں میں اپنا قومی کردار ادا کر سکتی ہے۔

پولیس افسران پر لازم ہے کہ وہ آپس میں اعتماد کی فضا بحال کریں سینئر افسران جونیئر افسران کے ساتھ احترام سے پیش آئیں انھیں سیکھنے کا موقع مل سکے اور ادارے کامورال بھی بلند ہو اس حوالے سے پنجاب بھر کے تمام پولیس افسران کوڈی آئی جی آپریشن لاہور اشفاق احمد خان کی کاپی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنے باس کی عزت کے لئے بے چین نظر آتے ہیں ان کی ہمیشہ دوستوں اور میڈیا پرسن سے ایک ہی بات ہوتی ہے کہ اگر کوئی بھی ان کی خوشامد اور ان کے (باس) سی سی پی اوکے خلاف بات کرے گا تووہ میرا اور ادارے کا خیر خواہ نہیں ہے اگر تنقید کا نشانہ بنانا ہے تو مجھے(اشفاق احمد خان) کو بنائے لیکن میرے کمانڈر(سی سی پی او) اور ادارے کے سر براہ (آئی جی پولیس)کے خلاف بات نہ کی جائے اس روایت سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور فورس کا مورال بھی بلند ہوتا ہے۔

اشفاق احمد خان کہتے ہیں پوری نیک نیتی کے ساتھ کام کرتا ہوں سی سی پی او لاہور ایک دیانت دار،پیشہ وارانہ مہارت کے حامل،محب الوطن اور بہترین لیڈر ہیں ان کی ٹیم بھی بہترین افسران پر مشتمل ہے اور ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ آئی جی پولیس قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ میرٹ کو یقینی بنانے قانون اور انصاف کے اصولوں کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھنے والے پولیس آفیسرز ہیں۔ معاشرہ ترقی کرتا ہے جب انصاف کا بول بالا ہو۔ آئی جی پولیس اور سی سی پی او کی ولولہ انگیز قیادت میں ڈی آئی جی اشفاق احمد خان نے شہر کو جرائم سے پاک اورامن کا گہوارہ بنانے کا عزم کیا ہے اور ہم ان کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment