0

پولیس چیف نے گینگ ریپ کاشکار خاتون کو قصوروار ٹھہرادیا

گزشتہ روز لاہور سیالکوٹ موٹروے پر نامعلوم افراد نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے پاس موجود ایک لاکھ روپے سمیت زیورات بھی چھین کر لے گئے۔ اس واقعے پر ملک بھر میں غم و غصہ پھیل گیا ہے جبکہ لاہور پولیس کے سربراہ نے متاثرہ خاتون کو ہی قصور وار قرار دے دیا۔

خاتون کے اہل خانہ نے تھانہ گجرپورہ میں مقدمہ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے دو بچوں کے ہمراہ اپنی کار میں لاہور سے گوجرانوالہ جارہی تھیں۔ راستے میں پٹرول ختم ہوگیا۔ اس دوران دو مسلح ملزمان آئے اور گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون کو باہر نکالا اور قریبی کھیتوں میں لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اس واقعے پر نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ ’یہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے نکلی ہیں، گوجرانوالہ جانے کیلئے، میں پہلے تو یہ حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں، آپ سیدھا جی ٹی روڈ پر جائیں جہاں آبادی ہے، وہاں سے گھر چلی جاؤ۔‘

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں موٹروے پر بچوں کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی

سی سی پی او نے مزید کہا کہ ’اگر آپ اس طرف سے (موٹروے) نکلی ہو تو کم از کم اپنا پٹرول چیک کرلو، اس طرف پٹرول پمپ نہیں ہوتے۔‘

پولیس چیف کا بیان سامنے آںے کے بعد شہریوں نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ سماجی کارکن نگہت داد نے سوشل میڈیا پر عمر شیخ کا بیان شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’غور سے سنیں، چاہے آپ نے یہ جملے اپنی زندگی میں بارہا کیوں نہ سنے ہوں، ایک دفعہ اور سہی کیونکہ انہی کی وجہ سے ہزاروں عورتیں اپنے جسموں کے ساتھ ہونے والی ذیادتی پر آواز اٹھانے سے ڈرتی ہیں۔ کبھی اپنے گھر والوں سے تو کبھی پولیس والوں سے۔‘

سنیئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ ’موٹروے پر گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کا خیال تھا کہ وہ ریاست مدینہ کی رہائشی ہے، اس غلط فہمی میں وہ بچوں کے ساتھ گھر سے نکل کھڑی ہوئی اسے کیا پتہ تھا کہ اس کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہو جائے گا اور سی سی پی او لاہور جنسی دہشت گردوں کی مذمت کی بجائے اس مظلوم خاتون کو قصور وار کہے گا۔‘

سوشل میڈیا پر عمر شیخ کو ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور ان کی برطرفی کا مطالبہ پاکستان کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی عمر شیخ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پولیس افسر کا گینگ ریپ کا شکار خاتون کو مورد الزام ٹھہرانا ناقابل قبول ہے۔ اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں