Home » پولیس مورال بہتر کرنے کی ضرورت

پولیس مورال بہتر کرنے کی ضرورت

by ONENEWS

پولیس مورال بہتر کرنے کی ضرورت

جس صوبے کے آئی جی پولیس کو یہ تک پتہ نہ ہو کہ اس کے ماتحت کون کون آر پی او اور کون کون ڈی پی او لگ رہا ہے اور ان کی تقرری کاکب نوٹیفیکیشن ہو رہا ہے اور کس کی سفارش پر کیا جا رہا ہے؟ اس صوبے کے آ ئی جی پولیس سے امن و امان پر کیونکر اچھی کارکردگی کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ حکومت نے صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ بجٹ پولیس کو دیا ہے۔ نئی گاڑیاں، خوبصورت دفاتر اور بہترین قسم کے اسکواڈ لیکن تھانے میں بیٹھنے کے لئے کرسی نہیں سپاہی کے رہنے کے لئے کمرے نہیں۔ تھانہ کی بہتری کے لئے کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے جب تک بیٹ افسر، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے عہدہ کے افسران کی حالت نہیں بدلی جاتی، پولیس کا نظام کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا ہے۔ پولیس میں اصلاحات پر کام بہت کم ہو رہا ہے اور اگر ہو رہا ہے تو اوپر کی سطح پر ہو رہا ہے جس کے ثمرات تھانہ تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر کچھ بھی نہیں ہو پا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پولیس کی اصلاحات اور مورال پر ہمہ وقت کام کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں سڑکوں کی تعمیر پر سارا فوکس کیا جاتا ہے۔

ہر واقعہ کے محرکات تلاش کرنے اور اس طرح کے واقعات کے مستقبل میں روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا ہے۔ دنیاکا سب سے بڑا واقعہ نائن الیون کا ہوا۔ سینکڑوں لوگ مارے گئے دنیا کی طاقتور ایٹمی طاقت پٹ کر رہ گئی۔ لیکن اس میں ایک سپاہی بھی معطل نہیں ہوا۔ طیارے امریکہ کے تمام سیکورٹی حصار توڑتے ہوئے ٹارگٹ تک پہنچ گئے لیکن انتظامیہ پر کریک ڈاون کی بجائے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر کام ہوا۔ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا۔؟ مثبت اور منفی پہلووں کو کھنگالا گیا اور اس کے لئے نئے ایس او پیز بنائے گئے۔ اور مستقبل میں اس جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے تھینک ٹینک نے کام کیا اور سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا گیا۔ لیکن قابل غور امر یہ کہ کیا ہمارے ملک میں بھی کبھی ایسا ہوا؟؟؟جوڈیشل کمیشن، فیکٹ فائیڈنگ رپورٹ، انکوائری کمیٹی بننے سے کیا عوام کے جان و مال کا تحفظ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی پنجاب پولیس جرائم سے لڑنے کی بجائے میدان سے بھاگ رہی ہے۔ اس وقت پنجاب پولیس کا مورال گزشتہ کئی برسوں سے بدستور زبوں حالی کا شکار ہے۔ جب بھی کوئی سکیورٹی کابڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے یا کوئی بڑا ایونٹ ہوتا ہے تو ہر برائی کا ذمہ دار پولیس کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔

عدلیہ، حکومت اور ریاست کے تمام ستون ہی پولیس پر دباو ڈالتے ہیں، جس سے پولیس ایک ادارہ کے طور پر کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون، سانحہ ساہیوال سامنے ہے کہ با اثر افراد کو مقدمہ سے خارج کر دیا گیا لیکن چند پولیس والوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ پولیس اور سیاستدانوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ اس سارے کھیل میں انصاف اور نظام پٹ گیا اور سفارش جیت گئی۔ سی آر پی سی اور پی پی سی میں موجود ہے کہ کوئی بھی انتظامی افسر یا پولیس افسر جب ریاست کے تحفظ کے خلاف اقدام اٹھائے گا تو اسے بھی قانون کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن یہاں پر سب کچھ الٹ ہو رہا ہے۔ مجھے یاد ہے جنوبی پنجاب میں ایک بڑے پولیس مقابلے کے بعد چند فیلڈ افسران نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ انہیں فیلڈ سے واپس بلایا جائے۔ پنجاب پولیس نے پولیس کے شہداء کے لئے انعامی رقم بڑھا کر ایک خوش آئند قدم اٹھایاجس سے کانسٹیبل کی سطح پر پولیس کی حوصلہ افزائی بڑھی لیکن موجودہ بجٹ میں پولیس کے تین ارب روپے کاٹنے سے اس پر احتجاج کرنے کی ضرورت تھی۔ پولیس کی وردی کی تبدیلی کا عمل بھی ہو گزرالیکن کیا ان تمام اصلاحات سے پولیس کا مورال بھی بلند ہوا۔؟ اس وقت فیلڈ میں جانے کے لئے اچھے افسران کی کمی ہے اور جو اس وقت فیلڈ میں تعینات ہیں ان میں سے اکثرفیصلہ کرنے کی قوت سے محروم ہیں۔

صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں وہاں کے آئی جی پولیس ڈی پی او سے لے کر ایڈیشنل آئی جی تک کی تعیناتی میں مکمل با اختیار ہیں۔ ان کے صوبوں کے وزیر اعلی نے انہیں پولیس کے معاملات میں فری ہینڈ دے رکھا ہے لیکن پنجاب میں ایسا نہیں۔ یہاں پر تو ڈی پی او کو ایس ایچ او لگانے کے لئے ایوان وزیر اعلی کے فون پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ جس صوبے میں ایس ایچ او سے لے کر آر پی او تک کی سیاسی بنیادوں پر سفارش کی بنیاد پر تعیناتی کی جاتی ہے وہاں پر آئی جی پولیس شعیب دستگیرسے امن و امان کی بہتر توقع کرنا یا انہیں پولیس کی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ایک زیادتی سے کم نہیں ہوگا۔ پولیس میں سفارشی کلچر کا یہ عالم ہے کہ اس فورس کے سالار کی تقرری میں بھی میرٹ کو مد نظر نہیں رکھا جاتا،باخبر حلقے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آئی جی شپ کیلئے ایسے افسران کا انتخاب کیا جاتاہے جو ڈی ایم جی کے مفادات کے مقابلے میں ذاتی رائے نہ رکھتے ہوں۔پولیس کا مورال گرنے کی ایک بڑی وجہ ان کی بروقت پرموشن کا نہ ہونا ہے۔

بھلا ہوایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ بی اے ناصرکاجنہوں نے پنجاب پولیس میں کئی سال سے رکی ہوئی ترقیوں کا عمل بحال کیا اور پروموشن بورڈز کے اجلاس منعقد کروائے۔ ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر اور ان کے سابق ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ اشفاق خان کے کردار اور کام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے جنہوں نے آئی جی پنجاب کے ویژن کے مطابق دن رات کام کرتے ہوئے نہ صرف پروموشن بورڈز کے اجلاس منعقد کروائے بلکہ پولیس افسران کی ترقیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ان ملازمین کی ترقیوں کو یقینی بنایا جو کئی سال سے اس کے منتظر تھے۔ ڈی ایس پیز کو ایس پی کے عہدے پر ترقیاں دی گئیں۔ 86 وارڈنز کو گریڈ14 سے گریڈ16میں سینئر ٹریفک وارڈنز،لگ بھگ 438 انسپکٹرز کے کیسز کا جائزہ لے کر 8 8 انسپکٹرز کو بھی ڈی ایس پیز، 853سب انسپکٹرز کی ترقیوں کے کیسزسن کر 123سب انسپکٹرز کو انسپکٹرز کے عہدوں پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی، یہ تو طے ہے کہ جب انسان کو اس کی محبت کا صلہ ملے تو اس کے کام کی رفتار اور معیار پہلے سے بہتر ہو جاتا ہے۔محکمہ پولیس میں اس قدر بگاڑ پیدا کر دیا گیا ہے کہ آج کوئی فیلڈ میں جانے کوتیار نہیں۔ اور جو فیلڈ میں جا رہے ہیں وہ سفارشی کوٹہ ہے جن کا کام پروفیشنلزم کی بجائے مقامی سیاست دانوں کو خوش کرنا ہے۔

پولیس کے تقرر و تبادلے صرف سفارش پر ہوتے ہیں اور کوئی روٹیشن پالیسی نہیں۔ لا ہور میں سی سی پی او،ریجن میں آرپی او اور اس کے ڈی آئی جی (سی پی او) کو اپنی صاف ستھری ٹیم تشکیل دینے کے پورے اختیارات ملنے چاہیں تاکہ سفارشی اور نکمے افسران کا صفایا ہوسکے۔پولیس کی بھرتی کے نظام میں بھی بہتری ضروری ہے۔ ایم اے پاس بھرتی کانسٹیبل کیا لڑے گا اسے تو محکمہ تعلیم میں ہونا چاہیے یا سی ایس ایس کرنا چاہے۔ پولیس کانسٹیبل کو میٹرک اور فزیکل فٹنس کا حامل ہونا چاہیے جو حکم ملنے پر دیوار سے بھی ٹکرا جائے۔ اس وقت بھی پنجاب پولیس میں 20ہزار کانسٹیبل و دیگر رینک کی اسامیاں خالی ہیں جنہیں پر کرنا ضروری ہے۔دیگر نفری سے روزانہ بیس گھنٹے ڈیوٹی لینے سے فورس کا مورال بھی گر رہا ہے اور کئی ملازمین متعدد بیماریوں جیسے نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ آج کے میڈیا کا بھی ایک اہم کردار ہے کہا جاتا ہے کہ میڈیا میں پولیس کے منفی پہلووں کو زیادہ اچھالا جاتا ہے اور مثبت پہلو کم۔

یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اس اہم ترین محکمہ پولیس کو ایک مکمل محکمے کا درجہ دینا، اسے محکمہ ہوم اور ڈی ایم جی کے شکنجے سے آزاد کرنا اور پولیس کے سربراہ کی میرٹ پر تقرری کرنا ہے تاکہ پولیس کے نظام کو کھڑا کیا جا سکے اور ترک اور سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی طرز پر آرگنائز کیا جائے تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ آخر میں خبر ہے کہ آرپی او، اور سی پی اوگوجرانوالہ نے ایک ایسے پولیس آفیسر کی نشاندہی کرکے اسے وہاں سے ٹرانسفر کروایا ہے جس نے جرائم پیشہ افراد سے اپنے تعلقات وابستہ کر رکھے تھے وہ عوام سے بڑی بدتمیزی سے پیش آتا تھا اور اسے اپنے سفارشیوں پر بھی بڑا مان تھا اس کے تبادلے سے گوجرانوالہ کی عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے گوجرانوالہ میں آر پی او،سی پی او کے بعد ایس ایس پی آپریشن ڈاکٹر فہد اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹررضوان ادارے کے دو ایسے جواہرات بیان کیے گئے ہیں کہ جن کے کام اور میرٹ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔گوجرانوالہ پولیس کی ٹیم اب پنجاب کی پہلے نمبر کی ٹیموں میں شامل ہو گئی ہے گوجرانوالہ کے آرپی او اور سی پی او آئی جی پولیس پنجاب کی چوائس اور دونوں محنتی،دبنگ ہونے کے علاوہ دیانت دار آفیسرز ہیں اور ان سے ہمارا تعلق بھی بھائیوں جیسا ہے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment