Home » پولیس اہلکارنے اپنی بیٹی کوخطرے میں ڈال کرریپ کےملزم کوپکڑا

پولیس اہلکارنے اپنی بیٹی کوخطرے میں ڈال کرریپ کےملزم کوپکڑا

by ONENEWS

کشمور پولیس کے ایک اہلکار نے اپنی بیٹی کو خطرے میں ڈال کر گینگ ریپ کے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

کراچی سے ایک مجبور خاتون کو نوکری کا جھانسہ دیکر 4 سالہ بیٹی کے ہمراہ کشمور لے جایا گیا اور تین ملزمان نے کئی روز تک مسلسل اس کا گینگ ریپ کیا۔ بعد ازاں ملزمان نے خاتون کو یہ کہہ کر رہا کیا کہ وہ کراچی سے اس خاتون کو اپنے ساتھ لائے جو اسپتال میں اس کے ساتھ ملزمان سے ملی تھی۔

ملزمان نے بچی کو ضمانت کے طور پر اپنے پاس ہی رکھا اور متعلقہ خاتون کے بدلے بچی کو رہا کرنے کی شرط رکھی۔ ملزمان نے دوسری خاتون کو نہ لانے کی صورت میں بچی کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔

خاتون باہر نکل کر سوچ بچار کے بعد پولیس کے پاس چلی گئی۔ ڈیوٹی پر موجود اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد بخش نے اس کی روداد سنی اور اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے فوری طور پر ایک پلان بھی تیار کیا۔

ایس ایس پی کشمور امجد علی شیخ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد بخش نے پہلے اپنی بیوی کی ملزمان سے بات کروائی جس پر ملزمان کو یقین ہوگیا کہ متاثرہ خاتون دوسری خاتون کو بھی ساتھ لانے پر آمادہ کرچکی ہے۔

اس کے بعد محمد بخش نے اپنی بیٹی کو متاثرہ خاتون کے ہمراہ ملزمان کے پاس بھیجا اور خود نفری کے ساتھ پیچھے چل پڑا اور موقع پر پہنچ کر ایک ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ دو ملزمان فرار ہوچکے تھے۔

ایس ایس پی کشمور کے مطابق یہ منصوبہ بناتے وقت محمد بخش نے ان سے کہا تھا کہ جو 4 سالہ بچی ملزمان کے پاس یرغمال ہے، وہ اس کی بیٹی کی طرح ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمور میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 3 ہزار ہے مگر اس علاقے کے لوگ خواتین کا پولیس میں جانا پسند نہیں کرتے جس کے باعث یہاں ایک بھی خاتون اہلکار نہیں ہے۔

کب کیا ہوا

کشمور ریپ کیس میں گرفتار رفیق ملک نے جمعرات 12 نومبر کو پولیس کے سامنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے خاتون اور اس کی کم عمر بچی کا ریپ کیا۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق بچی کی عمر 4 سے 5 سال ہے۔ میڈیکل جانچ کے بعد ماں اور بیٹی دونوں کیساتھ گینگ ریپ کی تصدیق ہوگئی۔

پولیس کی جانب سے رفیق ملک کو متاثرہ ماں کی شکایت پر کارروائی کرکے منگل 10 نومبر کو گرفتار کیا گیا۔ متاثرہ خاتون کا تعلق کراچی سے ہے۔ جسے 40 ہزار روپوں کی نوکری کا جھانسہ دیکر کراچی سے کشمور لایا گیا۔ ملزم کو بدھ 11 نومبر کو لاڑکانہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اسے 3 روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔

درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق خاتون کو 25 اکتوبر کو نوکری کی پیشکش کی گئی، جس کے بعد وہ کراچی سے لاڑکانہ اپنی بیٹی کے ہمراہ پہنچی۔ کشمور آمد پر رفیق اور دیگر افراد نے انہیں رفیق کی رہائش گاہ پر قید کیا، اسی جگہ پر متاثرہ خاتون اور بچی کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا۔

بعد ازاں ملزمان نے خاتون کو یہ کہہ کر رہا کیا کہ وہ شہر سے اس خاتون کو اپنے ساتھ لائے، جسے وہ اسپتال میں دوران ملاقات ملے تھے۔ ملزمان نے بچی کو ضمانت کے طور پر اپنے پاس ہی رکھا اور متعلقہ خاتون کے بدلے بچی کو رہا کرنے کی شرط رکھی۔ ملزمان نے ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر بچی کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔

ملزمان سے رہائی ملنے کے بعد متاثرہ خاتون نے کشمور پولیس سے رابطہ کیا اور انہیں تمام صورتحال بتائی۔ جس کے بعد پولیس نے رفیق ملک کی رہائش گاہ پر چھاپا مارا، جہاں 3 افراد موجود تھے۔ خاتون کی جانب سے دو افراد کو محمد رفیق ملک اور خیر اللہ بگٹی کے نام سے شناخت کیا گیا، تاہم تیسرے شخص کی شناخت نہ ہوسکی۔

تینوں افراد پولیس کو دیکھ کر دیوار پھلانگ کر بھاگے، تاہم اسی کوشش مرکزی ملزم رفیق ملک اینٹوں کے ایک ڈھیر پر گرنے زخمی ہوگیا اور اس کی ٹانگوں پر زخم آئے۔ پولیس نے محمد رفیق ملک کو گرفتار کرلیا، جب کہ دیگر 2 ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

گھر کی تلاشی کے دوران پولیس نے بچی کو بازیاب کرایا۔ پولیس کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے رفیق ملک کا کہنا تھا کہ اسے خاتون پر غصہ تھا، اس لئے اس نے 4 سالہ بچی کا ریپ کیا، جبکہ دوسرے ملزم خیر اللہ بگٹی نے بھی بچی کا ریپ کیا۔ پولیس کی جانب سے بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی تصدیق کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کا ریپ ہوا ہے۔

بعد ازاں متاثرہ خاتون اور بچی کو تعلقہ اسپتال کشمور منتقل کردیا گیا۔ اسپتال کے ڈاکٹر سراج الدین کا کہنا ہے کہ بچی کو جب اسپتال لایا گیا تو اس کی حالت تشویش ناک تھی، تاہم اب وہ بہتر ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔

گرفتار دو ملزمان محمد رفیق ملک اور کے خلاف کشمور پولیس اسٹیشن میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 ریپ، دفعہ 344 حبس بے جا، دفعہ 420 فراڈ اور بے ایمانی اور دفعہ 34 ( کامن انٹینشن) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق رفیق ملک کشمور کا رہائشی ہے، جس کی وہاں زمین ہے۔ پولیس دیگر ملزمان کی بھی تلاش شروع کردی ہے۔

کشمور پولیس نے رفیق ملک کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376 (ریپ)، 344 (حبس بیجا)، 420 (دھوکہ دہی) اور 34 (مشترکہ ارادہ) کے تحت ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رفیق ملک کشمور کا رہائشی ہے اور اس کی یہاں زمینیں ہیں، اس کے دیگر دو ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کی جانب سے ریکارڈ کی گئی متاثرہ بچی کی ایک ویڈیو جمعرات کو منظر عام پر آئی، جس میں وہ اپنی والدہ کو واقعے سے متعلق بتارہی ہے۔ ویڈیو میں والدہ کو بچی کا ٹراؤزر اپر کرکے اس کے زخم دکھاتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اگر آپ کبھی بھی پاکستان میں ریپ کا شکار ہوتے ہیں تو ایک اچھی چیز جو آپ کرسکتے ہیں وہ پولیس کو رپورٹ کرنا ہے، کیونکہ قانون میں بہت سی ایسی اہم تبدیلیاں کی جاچکی ہیں جو آپ کے حق میں کار آمد ثابت ہوسکتی ہیں۔

گزشتہ 6 سالوں سے ریپ کے خلاف جنگ لڑنے والی سارہ زمان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ریپ کا شکار ہوتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ ریپ سے متعلق قانون پولیس کے سامنے رکھے، کیوں کہ ایسے بہت سے کیسز میں اس سے آپ کو قانونی مدد مل سکتی ہے۔ اگر ہم سے اکثر لوگ پولیس کو بتائیں کہ وہ یہ یہ سیکشنز کے تحت کارروائی کرسکتے ہیں تو پولیس بھی اسے سنجیدہ لے گی۔ ایسا کرنے سے پولیس کو بھی اندازہ ہو سکے گا کہ وہ کس سے بات کر رہے ہیں اور معاملے کی نوعیت کیا ہے۔

مثال کے طور پر ہم میں سے بہت سے افراد اس بات سے لاعلم ہیں کہ نئے قانون کے مطابق ریپ کیسز میں متاثرہ فرد کی سیکشوئل ہسٹری پیش نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس سے پہلے ایسا کوئی قانون نہیں تھا۔

اب تک کیا کیا تبدیل ہوا، جو آپ کو معلوم ہونا لازمی ہے؟

ویب سائٹ بولو بھی کے مطابق ایک اہم بات جو ہمیں معلوم ہونی چاہئیے کہ زنا بالجبر اور زنا بالرضا دو الگ چیزیں ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کے تحت زنا بالجبر کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سے ایسے ریپ کیسز جن کی تصدیق نہیں ہوئی تھی انہیں زنا بالرضا یا زنا کے کیسز میں شامل کرنے سے روک دیا گیا۔

یہ تبدیلی سال 2006 میں سامنے آئی، جب وومن پروٹیکشن ایکٹ سال 2006 منظور ہوا، جس کے بعد ریپ کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت درج کیا گیا، تاہم 10 سال بعد اسے دوبارہ سال 2016 میں جرائم کے قوانین میں ترمیم کے ساتھ ریپ کے جرم میں تبدیل کیا گیا۔

آٹھ سال قبل نیوز لائن میگزین میں فریحہ عزیز کے لکھے گئے مضمون کے مطابق یہ بات کیوں اہم ہے؟ جب کہ قانون بھی تبدیل ہوچکا تھا مگر اس کے باوجود کوئی ایک خاتون بھی زنا کے کیسز میں جیل نہیں بھیجی گئی، تاہم اس دوران کئی ریپ کیسز رپورٹ ہوئے اور عدالت تک گئے۔

تعزیرات پاکستان کے سیکشن 166 ( 2) کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم ریپ کیس میں اپنے فرائض انجام نہیں دے پاتا تو اسے بطور سزا جیل بھیجنے کا حکم ہے۔ پی پی سی کے تحت اگر کوئی سرکاری ملازم ریپ کیس کی تفتیش، پراسیکیوشن یا کسی بھی طور سے معاملے میں کوتاہی کا مرتکب ہوا ہو یا اس کی نااہلی سامنے آتی ہے تو انہیں 3 سال تک قید اور جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

سارہ زمان کا کہنا ہے کہ میڈیکولیگل آفیسر پبلک سرونٹس ہوتے ہیں، یہ قانون پولیس افسر، جیلر اور میڈیکل ایگزامینر پر بھی لاگو ہوتا ہے، انہیں جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کرنے، گمراہ کرنے، خطرے میں ڈالنے یا تحقیقات کا بگاڑنے کی بالکل بھی اجازت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں ایسے بہت سے معاملات ہیں جن میں ہم جانتے ہیں کہ پولیس والا اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا، لیکن ہم ان کیخلاف کوئی قانون نہیں مانگ رہے ہیں۔ لوگ قانون سے واقف ہی نہیں لہٰذا اب وہ اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔ آپ ایسے سرکاری ملازمین کیخلاف مقدمہ درج کراسکتے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment