0

پورے پاکستان میں ایک ماہ کے لئے کرفیو نافذ کر دیا جائے

پورے پاکستان میں ایک ماہ کے لئے کرفیو نافذ کر دیا جائے

وطن عزیز پاکستان کو آج کل نا گہانی طور پر آسمانی آفت اور بلائے عظیم نے گھیر رکھا ہے جس سے پاکستن و ہند، مشرق سے مغرب تک پوری دنیا اس کی گرفت اور لپیٹ میں ہے۔ ہم جیسے غریب ممالک کا تو کیا کہنا، امریکہ، فرانس، برطنیہ، اٹلی اور سپین جیسے تمام ترقی یافتہ ممالک اس کے سامنے ہیچ ہیں اور نہ صرف ہر ملک میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں بلکہ یہ سلسلہ تا ہنوز جاری و ساری ہے اور ہر آنے والے دن میں ہزاروں افراد کی اموات میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ امریکہ جیسے عظیم اور طاقتور ملک میں تمام طبی اور میڈیکل سہولتوں کی موجودگی کے باوجود ایک لاکھ بیس ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ یہی حال برطانیہ، فرانس، سپین اور اٹلی کا ہے جہاں اموات کی تعداد ستر اسی ہزار سے کم نہیں اور ہر دن ان میں اضافہ ہو رہا ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ ابھی تک اس مہلک مرض کا علاج دریافت نہیں ہوا اور کوئی ویکسین بھی تیار نہیں ہو سکی اوربدقسمتی ہے کہ یہ کیفیت کئی سال تک برقرار رہے گی گویا کورونا وائرس کی ”یلغار“ کوفی الحال روکنا نا ممکنات میں سے نظر آتا ہے۔

ہمارے وطن میں اگرچہ اموات کی تعداد دیگر ممالک کے مقابلہ میں زیادہ نہیں تاہم احتیاط کی شدید ضرورت ہے، ہمیں اکٹھے ہو کر یا اجتماع کی صورت بیماری کو پھیلنے کی دعوت نہیں دینی چاہئے۔ ایک دورسے سے دور رہنا اور فاصلہ برقرار رکھنا اس کا بہترین علاج ہے۔ بالخصوص جن افراد میں کورونا کی علامتیں ظاہر ہو رہی ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ سر عام جلوہ آرائی نہ کریں اور ”بازاروں میں رش“ کا باعث نہ بنیں اور بیماری کو دعوت نہ دیں۔ ہمارے لئے لازم ہے کہ نہ صرف اپنی زندگی کو عزیز سمجھیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی قیمتی تصور کریں اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں ایس او پیز پر عمل کریں اور خواہ مخواہ بیماری کو دعوت نہ دیں۔ اللہ تعالیٰ سے رحم مانگیں اور ہر وقت مغفرت کی دعا کریں کیونکہ وہی بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کی وزیر اظعم نے احتیاط اور تدبیر سے کام لیا اور آج وہاں پورے ملک میں کورونا کا کوئی مریض موجود نہیں ہے۔

برطانیہ کی ایک ریسرچ کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ اگر مغرب ممالک میں لاک ڈاؤن نہ کیا جاتا تو 30 لاکھ لوگ مر جاتے۔ سو احتیاط لازم اور ضروری ہے۔

بیماری کی شدت اور اس کی خوں خواری متقاضی ہے کہ ملک میں کم از کم دو ہفتوں یا اس سے کچھ زیادہ دنوں بلکہ ایک ماہ کے لئے سخت قسم کا ”لاک ڈاؤن“ کیا جائے اور شدت سے ”کرفیو“ نافذ کیا جائے۔ کھلے بازاروں اور مارکیٹوں میں جانے اور خرید و فروخت کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ اعتراض بالکل بے جا ہے کہ لوگ گھروں کے اندر بند نہیں رہ سکتے اور دیہاڑی دار قسم کے مزدوروں نے ہر روز مزدوری کر کے کما کر لانا ہے اور بیوی بچوں کو کھلانا ہے۔

وطن عزیز میں دو تین بار مارشل لا نافذ ہو چکے ہیں اور ان میں ہفتوں نہیں، مہینوں تک کرفیو نافذ رہے ہیں اور لوگ تعاون کرتے رہے۔ در اصل ہمارے مسائل کا علاج سختی کے ساتھ علاج قانون کی پابندی میں مضمر ہے۔

یورپ اور نیوزی لینڈ نے عملی مثالیں پیش کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ”احتیاط“ کو بروئے کار لا کر اور قانون کی پابندی کر کے ہم نہ صرف بیمری کی شدت کو کم کر سکتے ہیں بلکہ اموات کی شرح بھی کم کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ بے جا گھومنے، پھرنے اور جمگھٹے کرنے والوں پر سختی کریں گے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں گے کیونکہ اس کے بغیر اب کوئی چارہ کار نہیں رہا کیونکہ سچی بات ہے کہ ”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“ اور حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے کہ عوام کی اصطلاح اور فائدے پر مبنی قوانین اور عملدرآمد کے لئے سختی کرے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑ دھکڑ کرے در حقیقت ہمارے حالات کا یہی تقاضا ہے ورنہ ”بیماری“ بہت شدید اور ہلاکت خیز ہے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں