0

پنجاب کے تمام شعبوں میں قابل قدر ترقی

پنجاب کے تمام شعبوں میں قابل قدر ترقی

صوبہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دو سال کے دورانیے میں بہترین نظم و نسق اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے کام کئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے حیران کن انداز میں پنجاب کے معاملات کواس طرح سدھارا کہ ناقدین کے منہ بند ہو گئے اور صوبے کے سیاسی و انتظامی امور پر ان کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔  انہوں نے تو فلاحی کاموں کا ایک تانتا سا باندھ دیا ہے۔ کچھ کام تو ایسے ہیں جو سابقہ حکومت اپنے دس سالہ دور میں بھی نہ کر سکی مگر عثمان بزدار نے اقتدار سنبھالتے ہی اس کی طرف توجہ دی۔

عثمان بزدار کی زیر صدارت کابینہ کے خصوصی اجلاس میں صوبائی وزراء نے پنجاب حکومت کی دو سالہ شاندار کارکردگی پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے دوبرس میں ریکارڈ قانون سازی کی اور ہسپتالوں، یونیورسٹیوں، کالجوں، بیراجوں، سپیشل اکنامک زونز اور سڑکوں سمیت متعدد میگا منصوبوں پر کام کیا۔ یہ تمام منصوبے دکھاوے کے نہیں بلکہ حقیقی طور پر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے ثابت ہورہے ہیں جن پر تیزی سے کام جاری ہے۔صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مشکل حالات میں اچھے فیصلے کیے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اجتماعی بصیرت کے تحت اقدامات کیے۔

صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کی سازشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے پنجاب حکومت اور اس کے سربراہ کو سرخرو کیا۔عزت اورذلت کے فیصلے زمین پر نہیں،آسمان پر ہوتے ہیں۔پنجاب کے اندر ہر منصوبہ شفاف انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔آپ کی قیادت میں ہر چیلنج کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے انسداد کورونا کیلئے دن رات کام کرنے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کومبارکباد دی۔

اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ دو سال قبل وزیراعلیٰ نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ بعض اداروں کے بورڈ آف گورنر وغیرہ کے اجلاس برسوں گزرنے کے باوجود منعقد ہی نہیں ہوتے تھے۔ کورونا کی وجہ سے نہ صرف ہیلتھ سیکٹر بلکہ ہماری صنعت و تجارت زیادہ متاثر ہوئی جس کیلئے نئے مالی سال میں 106 ارب روپے مختص کئے۔ اس میں 56 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف اور 50 ارب روپے کے براہ راست اخراجات شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائی جائے گی۔چکوال، میانوالی، مری، بھکر، راولپنڈی، لیہ، ننکانہ صاحب میں 7 یونیورسٹیاں قائم کررہے ہیں۔پرائمری لیول پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے اور انگریزی کو بطور مضمون پڑھانے کا تاریخی فیصلہ کیاگیا ہے۔اساتذہ کے تبادلوں کیلئے ای ٹرانسفرپالیسی کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔22 اضلاع میں انصاف آفٹرنون سکول کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔صوبہ بھر میں 1272 سکولوں کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے جس پر سرکاری خزانے سے ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوئی۔ پنجاب میں 4500 سی ٹی آئی کی بھرتی مکمل ہوچکی ہے۔ نئے اساتذہ سی ٹی آئی کی طرز پر بھرتی کئے جائیں گے۔

کنسٹرکشن انڈسٹری کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہر نوجوان کو روزگار کے معاملے میں خودکفیل کرنا چاہتے ہیں۔پنجاب میں 13 سپیشل اکنامک زونز کے قیام پر کام شروع ہے۔وفاقی حکومت نے 6سپیشل اکنامک زونز کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔7زونزکا نوٹیفکیشن جلد ہوگا۔کنسٹرکشن انڈسٹری کی ترقی کیلئے تاریخی تعمیراتی پیکیج دیا ہے۔پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے تحت آسان شرائط پرقرضہ سکیم کیلئے20ارب روپے کی خطیر رقم مختص کردی ہے۔ سکیم کے تحت آسان شرائط پر قرضے د یے جائیں گے۔ نیا پاکستان منزلیں آسان پروگرام کے تحت دیہات میں تقریباً 2200 کلومیٹر سڑکیں بنائیں۔

زرعی شعبے میں چھوٹے کاشتکاروں کو ای کریڈٹ سکیم کے تحت قرضے دیئے جارہے ہیں۔زیادہ پیداوار اور کم لاگت فصل کیلئے نئے بیج کی دریافت پرکام جاری ہے۔صوبے میں موثر اقدامات کے ذریعے ٹڈی دل پر قابو پایاہے اوراس مقصد کیلئے سوا ارب روپے مختص کیے۔جلال پور اور گریٹر تھل کینال سسٹم کی تعمیر کے منصوبوں کا تاریخی آغازکیا۔ان منصوبوں سے تقریباً 8 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔ کوہ سلیمان میں پینے کے صاف پانی اور آبپاشی کیلئے 4 چھوٹے ڈیمز کی تعمیرکیلئے سٹڈی کرائی جارہی ہے۔خانکی بیراج، جناح بیراج، پنجند سمیت دیگر بیراجوں کی اپ گریڈیشن مکمل ہوچکی ہے۔اپر جہلم کینال اورڈی جی خان کینال کی اپ گریڈیشن کا کام جاری ہے۔ان منصوبوں کی تکمیل سے آبپاشی کے نظام میں انقلاب آئے گا۔

تمام اضلاع میں صحت انصاف کارڈ سکیم شروع کی۔انہوں نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ سے 70 لاکھ خاندان اورساڑھے تین کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔شعبہ صحت میں 30 ہزار میرٹ پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔ماں اور بچے کی صحت کیلئے 3500 بیڈز پر مشتمل 6 نئے ہسپتال بنارہے ہیں۔میانوالی،اٹک،سیالکوٹ اوردیگر شہروں میں مدراینڈ چائلڈ ہسپتالوں پر کام جاری ہے۔ حکومت نے ہسپتالوں میں 12ہزار بستروں کا اضافہ کیا ہے۔ بہاولپور، ملتان، ساہیوال، رحیم یار خان، گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، ٹیکسلا، راولپنڈی، چکوال، حافظ آباد، تونسہ سمیت پنجاب کے ہسپتالوں کی تعمیر و توسیع جاری ہے۔بہاولپور میں پاکستان کا پہلا بون میروٹرانسپلانٹ سینٹر بنا رہے ہیں۔ لاہور میں 600 بیڈز کاہسپتال بن رہا ہے۔وزیرآباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی مکمل ہوچکا ہے۔فیصل آباد میں حسیب شہید ہسپتال رواں برس مکمل ہو جائے گا۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ 2018ء میں شروع ہونے والے شفاف اور کرپشن فری نظام نے 70 سالہ پرانے اور فرسودہ نظام سمیت استحصالی ایجنڈے کی بنیادیں ہلا دیں۔ پنجاب حکومت نے ان دو برس میں گورننس ماڈل کی جدت کیساتھ بحالی کیلئے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں جس سے حکومتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی اور اداروں کی جوابدہی ممکن ہوئی۔ جہاں تک عوامی فلاح و بہبود کا سوال ہے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے ٹھوس اقدامات کاآغاز احسن قدم ہے۔ ان میں سے بعض پراجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں اوربعض پر تیزی سے کام جاری ہے۔پنجاب نہ صرف آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ اس کی سیاسی اورجغرافیائی اہمیت بھی مسلمہ ہیں۔زنگ آلود نظام کو بدلنے میں اور عدل و انصاف کے فروغ میں حکومت کو بے حد چیلینجز درپیش تھے جن کا مقابلہ ثابت قدمی سے کیا گیااوران میں سب سے بڑامرحلہ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کاکھویا ہوا حق واپس دلانا تھا اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا وعدہ پورا کر کے دکھایا ہے اور یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے پسماندہ اضلاع سے ہونے والی زیادتی کے ازالے کا آغاز کیا ہے۔

سب سے اہم بات پنجاب حکومت کا یہ کریڈٹ ہے کہ اس عرصہ کے دوران کوئی بھی کرپشن کا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ دوسال میں صرف کام، کام اور کام کیا ہے۔ شو بازی کی بجائے عملی اقدامات کرکے عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔گزشتہ 10برس کے دوران پنجاب میں ون مین شو تھا۔مدت کے بعداب ایک ٹیم کے طورپر کام کیا جارہاہے۔ پنجاب شفافیت، میرٹ اور گڈ گورننس میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے آگے ہے۔ دو برس میں خوشحال اور ترقی یافتہ پنجاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں