Home » پروفیسر ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی بھی رخصت ہو گئے

پروفیسر ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی بھی رخصت ہو گئے

by ONENEWS

پروفیسر ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی بھی رخصت ہو گئے

اُدھر لاہور سے صحافی و کالم نگار اور باغ و بہار شخصیت کے مالک رؤف طاہر کے دنیا سے چلے جانے کی افسوسناک خبر آئی تو اِدھر ملتان میں پروفیسر ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے عالم فانی سے رخصت ہونے کی اطلاع ملی۔ علم و صحافت کی دو بڑی شخصیات کا یکے بعد دیگرے دنیا سے منہ موڑ لینا، ایک بڑا نقصان ہے۔ مگر کیا کریں آج کل تو چل چلاؤ کی کچھ ایسی لہر چلی ہے کہ روزانہ پیاروں کے بچھڑ جانے کی خبریں مل رہی ہیں۔ ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی سے میرے تعلقات 42 سال سے بھی زائد عرصے پر محیط تھے۔ ان جیسا نرم خو، صاحبِ علم، مخلص اور بے لوث انسان ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ میرا پہلا تعارف ان سے اس وقت ہوا جب میں نے 1979ء میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اُردو میں داخلہ لیا۔ وہ ایم اے اُردو کی فائنل کلاس میں تھے۔ بطور ذہین طالب علم ان کی ایسی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ شعبے کے سربراہ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، اساتذہ ڈاکٹر اے بی اشرف، ڈاکٹر عبداؤف شیخ مرحوم، ڈاکٹر انوار احمد اور ڈاکٹر نجیب جمال ہمیں ان کی مثالیں دیتے تھے کہ کامیابی حاصل کرنی ہے تو احمد فاروق مشہدی کی تقلید کرو۔ وہیں سے ان کے ساتھ دوستی کا تعلق قائم ہوا جو 5 جنوری2020ء کو اس وقت اختتام پذیر ہوا جب انہیں اوپر سے بلاوا آ گیا۔

پروفیسر ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی 1955ء میں ملتان کے نواحی علاقے جہانیاں میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول جہانیاں سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے کی، جس کے بعد اپنے شوق سے ایم اے اردو کے لئے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں داخلہ لیا، ادب سے لگاؤ اور فطری میلان کے باعث وہ شعبہ اردو ہی نہیں پوری یونیورسٹی میں ایک مثال بن گئے۔ ان کی ادب اور انسان دوستی اسی دور میں مشہور ہو گئی اور یہ دونوں اوصاف آخر وقت تک ان کے ساتھ رہے۔ ایم اے اردو کرنے کے بعد انہیں گورنمنٹ خواجہ فرید کالج رحیم یار خان میں لیکچرر شپ مل گئی اور وہ ملتان چھوڑ کر رحیم یار خان چلے گئے تاہم علم حاصل کرنے کی  لگن ان کے اندر بدرجہ اتم موجود رہی اسی دوران انہیں ایجوکیشن کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے لئے بریڈ فورڈ یونیورسٹی برطانیہ کا سکالرشپ مل گیا اور وہ اعلیٰ تعلیم  کا خواب لے کر وہاں چلے گئے طے شدہ مدت میں انہوں نے ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کی اور ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی بن گئے۔

وہ بتاتے تھے کہ انہیں بریڈ فورڈ یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کے بعد ملازمت کی پیشکش کی مگر وہ پاکستان آکر اپنے علم اور تجربے سے یہاں کے طالب علموں کو مستفید کرنا چاہتے تھے۔ وہ واپس آئے اور ان کی سلیکشن بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ ایجوکیشن میں ہو گئی۔ اس شعبے کا آغاز نیا نیا ہوا تھا، اس لئے ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کو کام کرنے کے بھرپور مواقع میسر آئے۔ پھر وہ ترقی کرتے کرتے اس شعبے کے سربراہ بن گئے۔ اس دوران ان سے جب بھی ملاقات ہوئی وہ یہی کہتے کہ جب تک استاد کی صحیح تربیت نہیں ہوتی، کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ وہ نصاب وقت کے مطابق تبدیل کرنے کے حامی تھے۔ اس لئے ہمہ وقت اس کام میں مگن رہتے کہ پاکستان میں ٹیچنگ کا معیار کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ آج بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ ایجوکیشن سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں طالب علم کالجوں اور سکولوں میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور ان کی پہچان بنے ہوئے ہیں۔

ایک بار میں نے ان کا انٹرویو کیا تو انہوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ استاد کا سب سے بڑا علم اس کا اعلیٰ اخلاق ہے۔ اگر وہ صاحبِ علم تو بن گیا ہے مگر اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے بہرہ مند نہیں تو اس کا علم معاشرے کو سدھارنے کی بجائے بگاڑ سکتا ہے۔ اس لئے وہ سب سے زیادہ زور استاد کی کردار سازی اور اعلیٰ اخلاق کو یقینی بنانے پر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں سی ایس ایس کر کے بڑا افسر بن سکتا تھا، لیکن میں نے اپنے شعوری فیصلے سے پہلے ایم اے اردو میں داخلہ لیا اور پھر پی ایچ ڈی کے بعد شعبہ ایجوکیشن کو ترجیح دی۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ شعبہ ہے، جو قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ آغاز میں شعبہ ایجوکیشن بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے امیدواروں کی تعداد کم ہوتی تھی۔

لیکن جب ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی نے شعبے کا چارج سنبھالا تو اس کا معیار اس حد تک اوپر لے گئے کہ اس میں داخلے کا میرٹ مقبول شعبوں کے برابر آ گیا۔ بعض لوگوں کے بارے میں آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کو کسی خاص مقصد کے لئے وقف کر دیا ہے ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کا شمار ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ یہ بھی شاید ایک ریکارڈ ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی سے کبھی چھٹی نہیں لی۔ ہم بغیر تصدیق کئے یونیورسٹی میں ان سے ملنے پہنچ جاتے تھے، کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے کمرے میں علم کے نت نئے دروازے کھولنے میں مصروف ہوں گے۔ وہ میرٹ کے اس حد تک قائل تھے میں ان کا بہت قریبی دوست ہونے کے باوجود اپنی ایک عزیزہ کا داخلہ کرانے میں ناکام رہا تھا۔ کیونکہ وہ یونیورسٹی کے وضع کردہ میرٹ پر پورا نہیں اترتی تھی۔

ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی اگرچہ شعبہ اردو چھوڑ کر شعبہ ایجوکیشن میں چلے گئے تھے تاہم ادب سے ان کی وابستگی میں کمی نہیں آئی تھی۔ وہ یونیورسٹی کے زمانے سے اخبارات اور رسائل میں لکھتے آئے تھے اور یہ سلسلہ آخری سانس تک جاری رہا وہ وہ غزل کے بہت خوبصورت شاعر ہیں ا ور ان کے لب و لہجے میں غزل کی روایت کا رچاؤ بھی ہے اور جدت کی خوشبو بھی۔ ان کے ریسرچ جرنلزم میں متعدد مضامین و مقالے شائع ہو چکے ہیں، جن میں ملکی اور غیر ملکی جرائد بھی شامل ہیں 2015ء میں عرصہئ ملازمت پورا کرنے کے باوجود وہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی سے بطور وزیٹنگ پروفیسر وابستہ رہے، کیونکہ یونیورسٹی کا شعبہ ایجوکیشن ان کے تجربے اور علم سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ یوں ان کی تعلیمی شعبے میں خدمات کا عرصہ تقریباً 35 برسوں پر محیط ہے ڈاکٹر نجیب جمال جو آج کل ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں،ان کے استاد رہے۔ انہوں نے ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انتہائی مودب، ذہین اور نرم خو طالب علم تھے۔ جس نے اساتذہ کی ہمیشہ عزت کی۔ ان جیسے شاگردوں پر اساتذہ ہمیشہ فخر کرتے ہیں اور یقیناً ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے شاگرد بھی اپنے مایہ  ناز استاد کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment