0

پرامن افغانستان امریکی فوج کے انخلاء کیلئے سازگار

پرامن افغانستان امریکی فوج کے انخلاء کیلئے سازگار

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امسال فروری میں ایک امن معاہدہ طے پایا جس کے تحت طالبان اور کابل انتظامیہ ایک دوسرے کے قیدی رہا کریں گے اور ساتھ ہی امریکی فوج کا افغانستان سے انخلاء بھی شروع ہو جائیگا۔ طے پایا کہ 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان کو ایک ہزار قیدی رہا کرنے ہیں۔

معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہونا تھا۔ ابتدائی 135 روز میں 8600 امریکی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے جبکہ اتحادی افواج کی تعداد بھی اسی تناسب سے کم کی جائے گی۔ دوسری طرف طالبان کو بھی ضمانت دینی تھی کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ 10 مارچ 2020 تک طالبان کے 5 ہزار قیدی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کیا جائے گا اور اس کے فوراً بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے۔جب معاہدے پر عمل درآمدکا وقت آیا تو کابل حکومت نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا جس سے امن معاہدہ خطرے میں پڑ گیا۔

انہی مسائل کو حل کرنے کیلئے دو ماہ قبل پاکستان، چین، روس اور ایران کے نمائندوں کے درمیان افغانستان میں قیام امن سے متعلق ورچوئل اجلاس ہوا تھا۔ جس میں طے پایا تھا کہ افغانستان کی علاقائی خود مختار اور ترقی کا احترام کیا جائیگا۔چاروں ملکوں نے افغانستان کو جلد از جلد پائیدار امن کے حصول میں تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی اور افغانستان میں تمام دھڑوں کو ملکر انٹرا افغان مذاکرات جلد شروع کرنے پر زور بھی دیا گیا۔ساتھ ہی افغانستان میں القاعدہ ایل ای ٹی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں اور منشیات سمگلنگ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

اب گزشتہ روز اسی مسئلہ پر تین اہم ہمسایہ ممالک پاکستان،افغانستان اور چین کے درمیان نائب وزارئے خارجہ کی سطح پر افغان امن معاہدے پر عمل درآمد اور امریکی فوجی انخلاء میں حائل رکاوٹوں بارے مذاکرات ہوئے۔ اجلاس میں افغانستان میں امن اور مفاہمت کے ساتھ ساتھ امریکی انخلاء اور اس کے بعد کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔غیرملکی افواج افغانستان سے ایک مقررہ طریقہ کار اور ذمہ دارانہ انداز سے واپسی اختیار کریں۔ مستقبل میں غیرملکی افواج کی واپسی سمیت اہم پیشرفت پر نظر رکھی جائے۔

طالبان اور کابل حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلو باقی ہے جس کے بعد امریکی افواج کا انخلاء یقینی ہو جائے گا۔ مگر لگتا ہے کہ سب سے مشکل یہی کام ہے۔ اس سلسلے میں طالبان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے افغان سیکیورٹی فورسز کی پوسٹوں پر حملے بند کردیے ہیں جب کہ دیگر انٹرنیشنل فورسز اور افغان فورسز سمیت ان کی ملٹری تنصیبات کو بھی نشانہ نہیں بنایا۔طالبان نے افغان حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ایک ہزار سرکاری اہلکاروں کی رہائی کے بدلے معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی میں مسلسل تاخیر کے لیے ناقابل دفاع مؤقف اپنا رہی ہے۔

طالبان نے افغان حکومت اور امریکا کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیاں ہونے کی صورت میں مزید حملوں سے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے نہ صرف معاہدے کو نقصان ہوگا بلکہ یہ عدم اعتماد کے ماحول کو جنم دیں گی جب کہ مجاہدین کو برابر کا جواب دینے اور لڑائی کو مزید بڑھانے پر مجبور کریں گی۔کابل انتظامیہ کی جانب سے سرد مہری اور طالبان پر حملوں کی وجہ سے امن معاہدہ ٹوٹنے کے قریب ہے۔ ہم سنجیدگی سے امریکا کو کہہ رہے ہیں کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنیاتحادیوں کو بھی معاہدے کی مکمل پاسداری کے حوالے سے متنبہ کرے۔

افغانستان، پاکستان کا ایسا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، ثقافتی، تجارتی اور اقتصادی تعلقات نہ صرف صدیوں سے قائم ہیں بلکہ دونوں جانب سرحدی علاقوں میں منقسم خاندانوں کے باعث لوگوں کو آزادانہ آمدورفت میں کبھی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی اگرچہ قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ کی رکنیت کے وقت افغانستان نے پاکستان کی مخالفت کی لیکن 79 میں روسی جارحیت کے خلاف پاکستان نے افغانستان کی بھر پور مدد کی اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو کئی برس تک پناہ دینے کے علاوہ فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار بھی ادا کیا۔ بد قسمتی سے اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کے کلچر کو فروغ ملا جس کا پاکستان آج تک سامنا کر رہا ہے۔ اس سے ہماری معاشرتی و اخلاقی اقدار پر سخت ناخوشگوار اثرات مرتب ہوئے اور ناجائز اسلحہ کے نا پسندیدہ ہاتھوں میں پہنچنے سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ دہشت گردی کو فروغ ملا، اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ شروع ہوئی۔

امریکی فوجیوں نے دو اڈوں سے انخلا شروع ہو چکا ہے۔ امریکی فوجی جنوبی صوبے ہلمند میں لشکر گاہ اور مشرقی افغانستان میں ہیرات میں قائم دو اڈوں سے جانا شروع ہو گئے ہیں۔ اور ان کی جگہ مزید فوجی نہیں آئیں گے۔ دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے امریکہ کا کہنا ہے کہ باوجود افغانستان سے انخلاء کے بعد ہماری فوج میں کمی آئے گی مگر اہم مقاصد کے حصول کیلئے تمام فوجی معاملات اور انتظام امریکی افواج کے ہاتھ میں ہی رہیں گے جن میں القاعدہ اور داعش کے خلاف انسداد دہشت گردی آپریشنز، اور افغان سکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

افغان عوام کی قیادت میں بین الافغان مذاکرات امن، خوشحالی کیلئے اہم ہیں۔تمام افغان گروپس بشمول طالبان موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھائیں تاکہ افغانستان میں مستقل اور جامع امن کا ساتھ دیا جائے۔افغان قیادت اور طالبان ملک کر ایسا ماحول بنائیں کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر513 پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں