Home » پاک فوج میں نفاذِ اردو

پاک فوج میں نفاذِ اردو

by ONENEWS

پاک فوج میں نفاذِ اردو

جنرل ضیاء الحق نے جولائی 1977ء میں مارشل لاء لگایا اور جس شخص کو اقتدار سے الگ کیا اس کے بنائے  ہوئے 1973ء کے آئین کے مطابق اعلان کیا کہ 15برسوں میں اردوکو قومی اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ 1988ء تک یہ منزل طے کرلی جائے گی اور نہ صرف عدلیہ اور پارلیمان(مجلس شوریٰ) بلکہ ملک کی تینوں مسلح افواج کی زبان بھی اردو ہوگی!…… یہ ایک بڑا بلکہ انقلابی فیصلہ تھا!

جب 1985ء میں میری پوسٹنگ جی ایچ کیو (IGT&Eبرانچ) میں ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ جس ڈائریکٹوریٹ میں میری پوسٹنگ ہوئی ہے اس کا نام ٹریننگ پبلی کیشنز اینڈ انفرمیشن ڈائریکٹوریٹ ہے جو بعد میں ’ڈاکٹرین اویلوایشن‘ کے نام سے موسم کیا گیا۔ اس ڈائریکٹوریٹ کو ایک ذمہ داری یہ بھی سونپی گئی کہ وہ ایک ایسی انگلش۔ اردو ملٹری ڈکشنری مرتب کرکے شائع کرے گا جو تینوں سروسز (آرمی، نیوی، ائر فورس) میں نافذ العمل ہوگی۔

میں وہاں پہنچا تو اس پراجیکٹ پر کام جاری تھا۔ جب میرا انٹرویو اپنے ڈائریکٹر (بریگیڈیئر مشتاق) سے ہوا تو انہوں نے باتوں باتوں میں اس ڈکشنری کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ یہ آدھی مکمل ہو چکی ہے اور باقی پر کام جاری ہے۔ میں نے نجانے کس ’ترنگ‘ میں آکر کہہ دیا کہ یہ کام بہت مشکل ہے اور اس کے لئے تو برسوں کام کرنا پڑے گا۔ میں نے بریگیڈیئر صاحب کو یہ بھی بتایا کہ کسی بھی زبان کی لغات کی ترتیب و تدوین میں عشرے لگ جاتے ہیں۔ اور اگر آرمی چیف کا حکم ہے کہ اسے 1988ء تک ہرحال میں مکمل کیا جائے تو میرے ’ناقص خیال‘ میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ اس انٹرویو میں دوسرے موضوعات پر بھی باتیں ہوئیں۔ جب انٹرویو ختم ہوا اور میں واپس اپنے دفتر میں آکر بیٹھا تو ڈائریکٹر صاحب نے پھر سے مجھے بلایا اور کہا: ”کل سے تم بھی اس ’ڈکشنری کانفرنس‘ میں بطور سیکرٹری شرکت کرو گے جو فلاں فلاں کرنل صاحب کی سربراہی میں جاری ہے اور جس میں مختلف ’آرمز اینڈ سروسز (Arms and Services) کے میجر اور لیفٹیننٹ کرنل کے رینک کے آفیسرز روزانہ دو گھنٹے تک جمع ہوتے ہیں اور اس لغت کی تدوین کرتے ہیں۔

میں حسب الحکم اگلے روز جب صبح 9بجے ایک کرنل صاحب کے دفتر میں حاضر ہوا تو وہاں 8،10آفیسرز جمع تھے۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور یہ بھی کہا کہ ڈائریکٹر صاحب نے حکم دیا ہے کہ میں بھی اس کانفرنس میں بطور سیکرٹری معاونت کیا کروں گا۔

اس ضمن میں کام کرنے کا طریقِ کار (SOP) یہ تھا کہ ایک موٹی سی انگلش عریبک ملٹری ڈکشنری جو قاہرہ میں طبع ہوئی تھی اس کی ایک ایک جلد شرکائے کانفرنس میں تقسیم کر دی گئی تھی جس میں فوج کی تینوں سروسز میں جو پروفیشنل اصطلاحیں عام استعمال ہوتی ہیں ان کا ایک ایک کرکے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کردیا جاتا تھا۔ چونکہ عربی کا ترجمہ بھی موجود تھا اس لئے تفہیمِ معانی میں کچھ آسانی ہوتی تھی۔یہ ایکسرسائز چونکہ دو تین برس سے جاری تھی اسی لئے انگریزی کے حرف تہجی آر (R) سے شروع ہونے والی انگریزی اصطلاحوں کا اردو میں ترجمہ کیا جا رہا تھا۔

میں دو تین روز تک خاموش بیٹھ کر جائزہ لیتا رہا کہ دو اڑھائی گھنٹوں میں بحث و مباحثہ کی صورت حال کن مرحلوں سے گزرتی اور آگے بڑھتی ہے۔

چوتھے یا پانچویں روز جو اصطلاح زیر بحث آئی اور جس کا اردو ترجمہ مقصود تھا وہ Radar Silence تھی۔ انگریزی زبان میں اس کاجو مفہوم تھا وہ سارے شرکائے کانفرنس کو معلوم تھا۔ اصطلاح میں یہ ریڈاری سکوت ایسا سکوت ہوتا ہے جو اس غرض سے نافذ کیا جاتا ہے کہ کسی خاص الیکٹرو میگنیٹک (برقی مقناطیسی) سگنلوں کی ترسیل کو بذریعہ ریڈار ارسال کرنے سے روکا جا سکے۔ چنانچہ فوراً ہی اس کا ترجمہ ’ریڈاری سکوت‘ کر دیا گیا…… اس سے اگلا لفظ Radiation تھا جس کا اردو ترجمہ ’شعاع ریزی‘ کیا گیا…… اس طرح ایک ایک لفظ کو لے کر اس کا اردو ترجمہ کیا جاتا رہا اور کانفرنس دو گھنٹے کے بعد ختم ہو جاتی رہی…… اگلا لفظ (یا اصطلاح) Rail Headتھا۔ اس کا مفہوم سب کو معلوم تھا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ بھی مختصر اردو میں تشریح کر دیں۔ میں نے کہا کہ میرے خیال میں ’ریل ہیڈ‘ کسی ریلوے سسٹم میں ایک ایسے مقام کو کہا جاتا ہے جہاں ٹرینوں کی لوڈنگ اور آف لوڈنگ کی جاتی ہے۔ چنانچہ اس کا ترجمہ بھی جوں کا توں ’ریل ہیڈ‘کر دیا گیا۔ ایک آفیسر نے یہ نکتہ اٹھایا کہ کیوں نہ اس کا ترجمہ ’ریل سر‘ کر دیا جائے؟ ایک دوسرے صاحب نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ اس کا مفہوم تو ’ریل کا دماغ یا سر‘ ہو گا اور وہ مطلب نہیں ہوگا جو افواج میں مستعمل ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک لفظ ’ریکی‘ (Recce) بھی آیا۔ اس لفظ کے معانی کافی پھیلے ہوئے تھے، کسی نے کہا کہ اردو ناولوں میں اس کو ’قراولی‘ بھی لکھا جاتا ہے اس لئے جب ’انگلش اردو ملٹری ڈکشنری‘ ترتیب دی جا رہی ہے تو ریکی کو قراولی کر دیا جائے۔ اس بحث پر آدھ گھنٹہ صرف ہو گیا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ ریکی کو ریکی ہی رکھا جائے۔ فوج کا ہر سپاہی، جے سی او اور آفیسر جانتا ہے کہ ریکی کا مفہوم کیا ہے۔ اس کو قراولی بنا کر مطالب کو الجھا دینے کا ارتکاب کیا جائے گا۔ اس دلیل پر سب نے سرِ تسلیم خم کر دیا…… اس طرح ترجمہ ہوتا گیا اور ہم آگے بڑھتے گئے۔ کوئی لفظ اگر ایسا آجاتا جو آرمی والوں کو تو معلوم ہوتا کہ اس کا مطلب کیا ہے لیکن ائر فورس اور نیوی والوں کی اصطلاحیں مختلف ہوتیں تو یہ ایک پرابلم بن جاتی تھی اور یہ پرابلم سب سے بڑی پرابلم تھی۔ کانفرنس کو جو کرنل صاحب ہیڈکر رہے تھے ان کا فرمانا تھا کہ تمام شرکائے کانفرنس گھر سے تیاری کرکے آیا کریں۔پانچ صفحات روزانہ ختم کرنے کا پروگرام ہوتا تھا۔ بعض اوقات ایک لفظ پر رک کر آدھ آدھ گھنٹہ بحث کی جاتی تھی…… ایک ایسا ہی لفظ Riposte بھی سامنے آیا۔

میری اپنی ذاتی لائبریری میں کوئی 7،8انگلش اردو اور انگلش انگلش لغاتیں تھیں۔ لیکن عسکری کلچر کے ماحول میں تو الفاظ و مرکبات اور اصطلاحات کا مفہوم کہیں سے کہیں نکل جاتا ہے۔ اس لفظ ’ری پوسٹ‘ کا بھی یہی حال تھا…… جب کانفرنس شروع ہوئی اور یہ لفظ معرضِ بحث میں آیا تو سب نے اس کا ترجمہ وہی کیا جو بالعموم فوج میں کیا جاتا ہے یعنی ’جوابی حملہ‘ ……جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ ’جوابی حملہ‘ تو Counter Attack کا اردو ترجمہ ہے جو پہلے حرف “C” کی ذیل میں کیا جا چکا ہے۔سوال یہ تھا کہ ری پوسٹ ہرچند کہ جوابی حملہ ہوتا ہے لیکن اس کا اردو ترجمہ چونکہ پہلے کیا جا چکا ہے اس لئے یا تو اسے یکسر ترک کر دیا جائے یا اگر اسے لینا ہی ہے تو اس کا ترجمہ جوابی وار، جوابی یلغار، جوابی دھاوا یا جوابی ہلّہ کر دیا جائے۔

اس روز کرنل ظفر، کانفرنس کو Head کر رہے تھے۔ وہ ابھی اسی سال ’وار کورس‘ کرکے آئے تھے۔ کہنے لگے:کاؤنٹر  اٹیک اور ری پوسٹ میں ایک نمایاں فرق ہے…… کاؤنٹر اٹیک اس حملے کو کہا جاتا ہے کہ جس جگہ یا محاذ پر دشمن حملہ کرے اسی جگہ اگر جوابی حملہ کیا جائے تو اسے ’کاؤنٹر اٹیک‘ کہا جائے گا لیکن اگر فرض کریں دشمن نے ہمارے سیالکوٹ محاذ پر حملہ کیا ہے اور ہم نے اس کے جواب میں بجائے اس محاذ کے لاہور یا سلیمانکی محاذ پر اس حملے کا جواب دیا  ہے اور اس جوابی وار میں دشمن کا جانی نقصان بھی وہی ہوا ہے جو ہمارا سیالکوٹ محاذ میں ہوا تھا تو اس کو ’ری پوسٹ‘ کہتے ہیں۔ یعنی جوابی حملہ لیکن جو اس جگہ، مقام، سیکٹر یا محاذ پر نہیں بلکہ کسی اور جگہ، مقام، سیکٹر یا محاذ پر کیا جائے“۔

یہ سن کر ہم سب سوچ میں پڑ گئے کہ اس کا اردو میں کیا ترجمہ کیا جائے۔ کسی نے کہا: جوابی حملہ بر جائے دگر“…… کسی نے کہا دو جوابی وار بر مقامِ دگر“ وغیرہ۔ جب مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے کہا کہ اس کو ’ری پوسٹ“ ہی رہنے دیا جائے۔ میں نے یہ رائے بھی دی کہ ایک اور لغات ایسی بھی مرتب کی جائے جس میں ان اصطلاحوں کا اردو ترجمہ نہیں بلکہ ان کی پیشہ ورانہ تشریح بھی درج ہو…… اور یہ کام آسان نہیں ہوگا…… یہ ایک بہت مشکل کام ہے…… علاوہ ازیں مختلف سروسز کے آفیسرز کو ٹاسک کیا جائے کہ وہ اپنی اپنی سروس میں مستعمل تشریح کا مفہوم اردو میں بیان کرکے اس ڈکشنری کے لئے ارسال کریں۔

قارئین کو بوریت کا سامنا ہو رہا ہو گا۔ اس لئے بات ختم کرتے ہوئے یہ عرض کروں گا کہ اردو زبان میں ابھی وہ دم خم اور وہ عسکری عالمگیریت نہیں کہ وہ جدید عسکری اصطلاحوں کو اپنے اندر سمیٹ سکے۔ یہی وجہ تھی کہ فوج کے اکثر کور کمانڈروں نے جنرل ضیا الحق پر دباؤ ڈالا اور ان کو اس امر پر راضی کیا کہ مسلح افواج میں انگریزی زبان کو یکسر ختم نہ کیا جائے۔ اس کی اور وجوہات بھی تھیں مثلاً اپنے افسروں کو دوسرے ممالک میں پروفیشنل کورسز کروانا اور اپنے ہاں کے اعلیٰ سطحی تدریسی اداروں میں باہر کے ممالک سے آنے والے افسروں کو اردو میں سمجھانا ایک ’دردِ سر‘ بن جائے گا……

جنرل فضل حق صوبہ سرحد کے گورنر تھے، انہوں نے اس معاملے کو زیادہ زور سے جنرل ضیا الحق کے گوش گزار کیا اور کہا: ”پشتو بولنے والے افسروں کے لئے انگریزی بولنا زیادہ آسان ہے بہ نسبت اردو بولنے کے۔ ہمیں تو اب تک اردو کے مذکر اور مونث کی سمجھ بھی نہیں آتی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ فوج نر ہے یا مادہ ہے…… اور اگر فوج مادہ ہے تو پھر تو ہم بالکل ہی اردو کو نہیں مانیں گے“۔…… کہا جاتا ہے کہ اس پر ایک زوردار قہقہہ پڑا اور جنرل ضیاالحق کو فوج میں نفاذِ اردو سے ہاتھ کھینچنا پڑا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment