Home » پاکستان کرکٹ ٹیم 20برسوں میں پہلی بارہدف بچانے میں ناکام

پاکستان کرکٹ ٹیم 20برسوں میں پہلی بارہدف بچانے میں ناکام

by ONENEWS

فوٹو: اے ایف پی

انگلینڈ 20 برسوں کے دوران ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے خلاف 250 رنز یا اس سے زائد کا ہدف حاصل کر کے فتح حاصل کرنے والی پہلی کرکٹ ٹیم بن گئی۔ گزشتہ 20 برسوں میں دنیائے ٹیسٹ کرکٹ کی کوئی بھی ٹیم پاکستان کی جانب سے چوتھی اننگز میں 250 یا اس سے زائد رنز کا دیا جانے والا ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی لیکن مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ میں پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے ہی روز انگلش ٹیم نے 7وکٹوں کے نقصان پر 277 رنز کا ہدف حاصل کر کے پاکستان کا ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ تہس نہس کر دیا۔

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 2-1 سے انگلینڈ کی کامیابی کے تناظر میں یہ ہدف کوئی بہت بڑا نہیں تھا کیونکہ اس کے کھلاڑی خاصے پر اعتماد تھے مگر دوسری جانب چوتھی اننگز میں ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کا ریکارڈ انتہائی خراب ہے اور اس وجہ سے یہ امکانات تھے کہ پاکستان انگلینڈ کو اس ٹارگٹ کے اندر ہی آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پاکستانی بولرز نے دوسری اننگز میں شاندار بولنگ کی اور انگلینڈ کی پانچ اہم وکٹیں 117 رنز پر گرنے کے بعد یہ یقین ہو گیا تھا کہ پاکستان بولرز باقی ماندہ انگلش کھلاڑیوں کو بھی جلد ہی پویلین کا راستہ دکھا دیں گے کیونکہ  انگلش ٹیم اس صورت حال پر دباؤ میں تھی لیکن جوز بٹلر اور آل راؤنڈر کرس ووکس کی جوڑی نے پاکستانی بولرز کے دباؤ کو توڑنے کیلئے اٹیکنگ کھیل پیش کیا اور دونوں بلے بازوں نے ٹی 20 اور ون ڈے میچ کا جارحانہ انداز اپنایا اور وہ پاکستان کا دباؤ توڑنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے 49 گیندوں پر 50 رنز بنائے تھے جس سے ان کے جارحانہ کھیل کا انذازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس جوڑی نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 139 نز بنا کر ٹیم کو فتح کے قریب پہنچایا۔ بٹلر نے فاتحانہ 75 اور کرس ووکس نے ناقابل شکست 84 رنز بنائے۔

اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں 7 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی یہ تیسری شکست تھی۔ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین اس گراؤنڈ پر پہلا ٹیسٹ میچ 22 تا 27 جولائی 1954ء میں کھیلا گیا تھا جب پاکستان نے عبدالحیفظ کاردار کی قیادت میں انگلینڈ کا اولین دورہ کیا تھا۔ یہ ٹیسٹ میچ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا تھا۔ اس گراؤنڈ پر 1987ء اور 1992 میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچز بھی بے نتیجہ رہے تھے تاہم اس گراؤنڈ پر پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں پہلے کامیابی حاصل کی تھی جب 2001 میں وقار یونس کی زیر قیادت پاکستانی ٹیم نے میزبان کو 108 رنز سے زیر کیا تھا۔ انضمام الحق نے دونوں اننگز میں شاندار بیٹگ کرتے ہوئے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 114 اور دوسری اننگز میں 85 رنز بنائے تھے۔ 2006 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 120 رنز سے زیر کر کے حساب چکا دیا تھا۔ 2016 میں میزبان ٹیم 330 رنز کے بھاری مارجن سے فاتح رہی تھی۔ اس میچ میں انگلش کپتان الیسٹر کک اور پاکستان کے کپتان مصباح الحق تھے۔

پاکستانی کپتان اظہر علی نے انگلش بلے بازوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے خود دفاعی حکمت عملی اختیار کی جو ٹیم کی شکست کا ایک سبب بنی۔ انہوں نے تیزی کے ساتھ بولرز کو تبدیل نہیں کیا۔ ٹیسٹ میچز کے دوران ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب  بلے باز جم کر کھیل رہے ہوں اور پارٹنرشپ طویل ہو جائے تو اسے توڑنے کیلئے ریگولر بولرز کے بجائے کسی ایسے کھلاڑی سے بولنگ کرائی جاتی ہے جو کبھی کبھار گیند کرتا ہو اور یہ حکمت عملی عموماً کارگر ہوتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیائے ٹیسٹ کرکٹ میں ایسے بے شمار واقعات ملیں گے جب نان ریگولر بولرز نے جمے ہوئے بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا۔ خود  اظہر علی نے بھی کئی بار ٹیسٹ میچز میں بولنگ کی ہے وہ خود بھی گیند کر سکتے تھے اور کسی اسد شفیق، شان مسعود یا کسی دوسرے کھلاڑی کو آزما سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے علاوہ دوسری اننگز میں فاسٹ بولر نسیم شاہ کو بھی کم استعمال کیا گیا۔ پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے بھی پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر پاکستان اپنا انداز اٹیکنگ رکھتا تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔

مصباح الحق

فوٹو: اے ایف پی

اس ٹیسٹ میچ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ اوپنر شان مسعود نے 156 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور یہ ٹیسٹ میچز میں ان کی مسلسل تیسری سنچری تھی۔ وہ مدثر نذر کے بعد دوسرے پاکستانی اوپنر ہیں جس نے مسلسل تین ٹیسٹ سنچریاں بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔ شان مسعود نے دسمبر 2019 میں کراچی میں سری لنکا کےخلاف 135 اور فروری 2020 میں راولپنڈی میں بنگلہ دیش کے خلاف 100 رنز بنائے تھے۔ وہ انگلش سرزمین پر پیسٹ سنچری بنانے والے پانچویں پاکستانی اوپنر ہیں۔ اس سے قبل اوپنر مدثر نذر، محسن حسن خان، سعید انور اور عامر سہیل بھی انگلینڈ میں ٹیسٹ سنچریاں بنا چکے ہیں۔ شان مسعود مسلسل تین ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے چھٹے بیٹسمین ہیں۔ ان سے پہلے ظہیر عباس، مدثر نذر، محمد یوسف، مصباح الحق اور یونس خان بھی یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ وہ اولڈ ٹریفورڈ میں سنچری بنانے والے تیسرے پاکستانی ہیں۔ شان سے قبل اس گراؤنڈ پر عامر سہیل نے سن 1992 اور انضمام الحق نے سن 2001 میں ٹیسٹ سنچریاں بنائی تھیں۔ شان مسعود انگلش سرزمین پر 24 برس بعد سنچری بنانے والے پاکستانی اوپنر ہیں۔ اس سے پہلے سعید انور نے 1996 میں اوول گراؤنڈ پر 176 نز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔ شان مسعود کو یہ منفرد اعزاز بھی مل گیا کہ وہ 2016 کے بعد انگلش سرزمین پر سب سے زیادہ گیندوں کا سامنا کرنے والے اوپنر بن گئے۔ 2016 کے بعد سے کسی بھی غیر ملکی ٹیم کا کوئی اوپنر 100 گیندوں کا سامنا نہیں کر سکا تھا۔ اس ٹیسٹ میں پاکستانی اسٹار بلے باز بابر اعظم بھی مسلسل پانچ اننگز میں 50 یا اس سے زائد رنز بنانے والے ساتویں پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔ بابر سے پہلے ظہیر عباس، سعید انور، انضمام الحق، محمد یوسف، مصباح الحق اور سرفراز احمد یہ کارنامہ نجام دے چکے ہیں۔ مانچسٹر ٹیسٹ میں پاکستانی نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ نے دوسری اننگز میں انگلش کپتان روٹ کو آؤٹ کیا تو وہ کسی بھی انگلش کپتان کو آؤٹ کرنے والے دوسرے کم عمر بولر بن گئے۔ نسیم کی عمر اس وقت 17 سال 175 دن تھی جبکہ بھارت کے اسپنر پیوش چاولہ نے 17 سال 79 دن کی عمر میں انگلش کپتان اینڈریو فلنٹوف کو آؤٹ کیا تھا۔

مانچسٹر ٹیسٹ میں انگلینڈ نے 277 نز کا جو ہدف چوتھی اننگز میں حاصل کیا وہ انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ تاریخ میں ہدف کا 10 واں سب سے بڑا تعاقب تھا اور انگلش سر زمین پر یہ ہدف کے تعاقب کے اعتبار سے چھٹی بڑی کامیابی تھی۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں انگلش ٹیم کو مجموعی طور پر جیت کیلئے 164 مرتبہ 275 یا اس سے زائد رنز کا ہدف ملا لیکن انگلش ٹیم صرف 10 بار ہی ہدف کو حاصل کر سکی اور اسے 103 مرتبہ شکست کا مزا چھکنا پڑا اور 53 ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔ انگلش ٹیم 2008 کے بعد پہلی مرتبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ پر ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کے حصے میں صرف دو کامیابیاں آئیں جبکہ سات بار ٹیسٹ میچز میں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی اور دو ٹیسٹ ڈرا  ہوئے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی پاکستان یا یو اے ای سے باہر دیار غیر میں یہ مسلسل ساتویں شکست تھی۔ پاکستان کو آسٹریلیا میں 2-0 جنوبی افریقہ میں 3-0 اور گزشتہ دورہ انگلینڈ میں لیڈز ٹیسٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حریف ٹیم کو ہدف دینے کے بعد آؤٹ کرنے میں پاکستان کا ریکارڈ خاصا اچھا ہے۔ سن2000 کے بعد سے پاکستانی ٹیم حریف کو ٹارگٹ دینے کے بعد شکست سے دوچار نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان نے 2000 کے بعد سے 34 ٹیسٹ میچز میں مخالف ٹیموں کو 250 یا اس سے زائد رنز کا ہدف دیا اور پاکستانی بولرز نے حریف بلے بازوں کو دیے گئے ہدف سے پہلے آؤٹ کر کے 26 کامیابیاں سمیٹیں اور 8 ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے اور کوئی بھی ٹیم پاکستان کا دیا گیا ہدف پورا نہیں کر پائی تھی۔

پاکستان کو آخری بار انگلینڈ کے ہاتھوں ہی 6 وکٹوں سے کراچی میں دسمبر 2000 میں شکست سے دوچار ہوا تھا جب انگلینڈ نے 174 رنز کا ہدف چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا تھا۔ مانچسٹر ٹیسٹ میں پاکستان بولرز نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اگر پاکستانی بلے باز پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی اچھی بیٹنگ کرتے اور 200 سے زیادہ رنز بنا لیتے تو بھی نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ پاکستان کو مڈل آرڈر میں ایسے با اعتماد بلے باز کی ضرورت ہے جو آصف اقبال کی طرح مین آف کرائسس کا کردار نبھا سکے۔ انگلش ٹیم میں بین اسٹوکس عام طور پر یہ کردار ادا کرتے ہیں لیکن مانچسٹر ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں وہ ناکام ہوئے اور جوز ٹیلر اور کرس ووکس نئے روپ میں سامنے آئے۔ اس سے ٹیم کی پروفیشنل اپروچ نمایاں ہوتی ہے۔ جیت کیلئے پروفیشنل اپروچ کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف انگلینڈ کو پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست ہوئی تھی لیکن اس کے بعد انگلش ٹیم نے شاندار انداز میں کم بیک کیا اور سیریز 2-1 سے جیت کر ٹرافی اپنے نام کر لی تھی۔

رواں سیریز میں ابھی 2 ٹیسٹ میچ باقی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم بھی اسی انداز میں کم بیک کرتے ہوئے یہ سیریز جیتنے کا کارنامہ انجام دے سکتی ہے لیکن اس کیلئے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

.

You may also like

Leave a Comment