0

پاکستان کانام روشن کرنے والے کھیل کے ستارے ڈوبنے لگے

مشہور قول ہے کہ “جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوں تو ان کے اسپتال ویران ہوں گے اور جس ملک کے کھیل کے میدان ویران ہوں تو ان کے اسپتال آباد ہوں گے” یہی وجہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اکیڈمک ایجوکیشن کی طرح فزیکل ایجوکیشن کے کلیدی کردار کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے ہی مختلف قسم کے کھیل اور صحت مندانہ سرگرمیاں کروائی جاتی رہی ہیں تاکہ بچوں کو صحت مند بنا کر مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ صحت مند بچے ہی تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے اسکولز میں جسمانی تعلیم اور کھیلوں پر زور دینے کی ضرورت ہے۔

مظفرگڑھ کی سرزمین سے کھیل کے میدان میں ملکی و غیرملکی سطح پر کئی کھلاڑی پاکستان کا نام روشن کرچکے ہیں۔ پاکستان کا نام روشن کرنے کا عزم ان نوجوان کھلاڑیوں کا جوش کم نہیں ہونے دیتا یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر کھلاڑی محدود وسائل، بے روزگاری اور غربت کے ساتھ جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ اکثر کھلاڑی روزگار اور وسائل نا ہونے کی بنا پر کھیل کا میدان چھوڑ چکے ہیں، کچھ نامور کھلاڑی جو تعلیم یافتہ تھے انہیں مختلف محکمہ جات میں ملازمت مل چکی ہیں اکثر کھلاڑی ناخواندگی کی وجہ سے بےروزگار رہ گئے کوئی محکمہ ملازمت نہیں دیتا۔ مظفرگڑھ کے ٹیلینٹ کی بات کی جائے تو کچھ عرصہ قبل ہونے والی نیشنل گیمز پشاور میں مظفرگڑھ کے لڑکیوں اور لڑکوں نے  جمناسٹک، اتھلیٹکس، ریسلنگ، ووشو اور رگبی میں 17 گولڈ، 4سلور اور 4 براونس میڈل حاصل یے۔ ساجد حسین نے نیپال میں ووشو گیم میں انڈیا کو ہرا کر گولڈ میڈل حاصل کیا، انٹرنیشنل اتھلیٹکس کوچ یامین راہی کا کہنا ہے کہ وسائل نا ہونے کی بنا پر کھلاڑی کیمپ میں شرکت نہیں کرسکے۔ پنجاب اسپورٹس بورڈ نے ہر کھیل کی الگ ایسوسی ایشن نامزد کی ہوئی ہے، لیکن ان تنظیموں کی شکایات بھی کوئی نہیں سنتا، ایسوسی ایشن علاقائی طور پر چندہ جمع کرکے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ سے چلا آرہا ہے۔ اکثر کھلاڑیوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے، انکا دوسرے شہر جانا، پھر وہاں رہائش وغیرہ کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں۔ مظفرگڑھ میں 25 انٹرنیشنل خواتین کھلاڑی ہیں انکے لئے الگ سے پریکٹس کرنے کی جگہ ہی موجود نہیں۔ کھلاڑی اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے ٹورنامنٹ کھیلنے جاتے ہیں۔ یامین راہی کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں کھلاڑیوں کو تیار کرنا چاہیے ہر اسکول ایک کھلاڑی بھی تیار کرے تو سینکڑوں کھلاڑی تیار ہوسکتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جاتا اسکولوں کا اسپورٹس فنڈز نکلوالیا جاتا ہے۔

فٹبال ایوسی ایشن کے صدر چوہدری نور عالم کہتے ہیں کہ ملتان روڈ پر واقع اسپورٹس گراؤنڈ میں ایک بہت خوبصورت فٹبال کا گراونڈ تھا جہاں نیشنل لیول کے فلڈ لائٹ ٹورنامنٹ منعقد کیے جاتے تھے۔ پاک فائیٹر فٹبال کلب مظفر گڑھ کا نام سندھ اور بلوچستان تک مشہور تھا، کراچی حیدرآباد کی نامور ٹیمیں یہاں میچ کھیلنے آتی تھیں لیکن آج یہ عالم ہے کہ فٹبال گراؤنڈ تباہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ 10 سال سے ایک روپے کا فنڈز فٹبال گراؤنڈ پر نہیں لگا گھاس کا نام و نشان مٹ چکا ہے، درجنوں بار محکمہ اسپورٹس پنجاب کو درخواست کرچکے ہیں لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں، آہستہ آہستہ فٹبال گراؤنڈ پر کرکٹ کا قبضہ ہوچکا ہے۔ مظفرگڑھ کو ہر سال تقریباً 60 لاکھ روپے فنڈز پنجاب اسپورٹس بورڈ کی جانب سے دیا جاتا ہے لیکن اسکے استعمال پر کھلاڑی مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر طارق خانزادہ کا کہنا ہے کہ شیڈول کے مطابق ایونٹٹس پر منصفانہ طور پر تمام کھیلوں کے لئے فنڈز استعمال کیا جاتا ہے میں خود بھی انٹرنیشنل اتھلیٹ اور اولمپک کمیٹی کا کوچ بھی ہوں حقیقت تو یہی ہے جب تک کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی، اخراجات نہیں دئیے جائیں گے تو یہ آگے نہیں جا سکتے۔ کئی دہائیوں سے ایسا ہی چلا آرہا ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے، لیکن اب حکومت پالیسی بنا رہی ہے امید ہے کہ کھلاڑیوں کو سپورٹ کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کو محنت جاری رکھنی چاہئے، کرکٹ کے کھیل کو کرکٹ بورڈ دیکھتا ہے ہم دیگر کھیلوں پر فوکس کرتے ہیں لیکن مظفر گڑھ فیصل اسٹیڈیم میں ہم نے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں پچ کی سہولیات دی ہوئی ہیں، گزشتہ 3ماہ سے فنڈز نہیں ہیں کرونا کی وجہ سے فنڈز کلوز کرلیے گئے ہیں بس عملہ کی تنخواہیں مل رہی ہیں۔ فنڈز کے استعمال کی تفصیلات کے لئے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے درخواست دی جس پر ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر نے اسپورٹس بورڈ سے اجازت کے بعد ریکارڈ فراہم کیا جائے گا۔

مظفرگڑھ کرکٹ سپر لیگ کے چئیرمین محمد اجمل چانڈیہ کا کہنا ہے کہ ہم نے فیصل اسٹیڈیم کا گراؤنڈ خود تیار کیا اسکی حفاظت بھی خود کرتے ہیں، محکمہ اسپورٹس کی کارکردگی مایوس کن ہے فیصل اسٹیڈیم ایک پبلک گراونڈ ہے لیکن اسکے استعمال پر فیس عائد کردی گئی۔ رجسٹرڈ کلب سے 2ہزار اور غیررجسٹرڈ کلب کے ٹورنامنٹ پر 5ہزار روپے روزانہ کے حساب سے فیس عائد ہے۔

سماجی شخصیت ملک عامر رضا ملانہ کا کہنا تھا کہ مظفرگڑھ کے کھلاڑیوں نے کھیل کی دنیا میں ہمیشہ پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ پنجاب اسپورٹس بورڈ کو اپنی پالیسوں میں تبدیلی لانی ہوگی، غریب اور بے روزگار کھلاڑیوں کا ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، میڈلز ہولڈر کھلاڑی جن کی تعلیم کم ہے انہیں سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔ فنڈز کو شفاف طریقے سے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا لائحہ عمل بنایا جائے، مظفر گڑھ میں خواتین کھلاڑیوں کا کوئی پرسان حال نہیں انہیں قواعدوضوابطہ کے مطابق سہولیات دستیاب نہیں۔

کبڈی کی خاتون کھلاڑی نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بتایا کہ ہم جمناسٹک کے کھیلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں اور کبڈی بھی کھیلتے ہیں، فیصل اسٹیڈیم سے ملحقہ ایک 15 مرلہ کا پلاٹ ہمیں پریکٹس کے لئے دیا ہوا ہے، پلاٹ کی کوئی چار دیواری یا پردے کا انتظام نہیں ہے۔ پریکٹس کے لئے نہایت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وارم اپ کے لئے فیصل اسٹیڈیم کے عقب میں جانا پڑتا ہے۔ مشکلات کے باوجود ہماری خواتین کی ٹیم کئی بار گولڈ میڈل جیت چکی ہے۔ اپنے شہر اور ملک کا نام روشن کرنے کے باوجود ہمیں حکومت سہولیات فراہم نہیں کرتی، کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وسائل نا ہونے کی وجہ سے ہمارے کھلاڑی ایونٹ میں شریک ہی نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انڈر 16 بچیوں کے لئے خورشید آباد گرلز ہائی اسکول کا گراؤنڈ استعمال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے، اسی گراؤنڈ میں خواتین کے کھیلوں کا ٹورنامنٹ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔

رگبی کے ایک کھلاڑی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظفر گڑھ میں اسپورٹس فنڈز کھلاڑیوں پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ کاغذات میں جعلی ایونٹس ظاہر کرکے ہر سال فنڈز خوردبرد کیا جاتا ہے، مظفرگڑھ میں گزشتہ 15 سال سے تربیتی کیمپ منعقد نہیں ہوا۔ تربیتی کیمپ میں شرکت کرنے والے کھلاڑی کا 400 روپے اعزازیہ مقرر ہے لیکن وہ رقم بھی نکلوالی جاتی ہے،  مظفرگڑھ میں کھلاڑی بغیر سامان پریکٹس کرنے پر مجبور ہیں، پول والٹ کے کھلاڑی گل فراز نے ہائی جپ لگا کر انٹرنیشنل ریکارڈ قائم کیا جبکہ مظفرگڑھ میں پول والٹ کے لئے میٹریس، پول، راڈ اور دیگر سامان دستیاب ہی نہیں، میڈل لے کر آنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ تصاویر بنوا کر مظفرگڑھ کی انتظامیہ غائب ہوجاتی ہے۔

مشیر وزیراعلیٰ پنجاب عبدالحئی دستی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صحت مند زندگی اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلئے اسپورٹس اور یوتھ آفئیر کے نئے منصوبوں کے لئے بجٹ 2020-21 میں فنڈز مختص کریں گے۔ اس وقت ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی میں 8کروڑ، تحصیل کوٹ ادو میں 4 کروڑ اور خانگڑھ میں 7کروڑ میں کرکٹ اسٹیڈیم تیار کئے جارہے ہیں۔ پنجاب میں 13 نئے تحصیل اسپورٹس کمپلیکس بنائے گی، بلدیاتی اداروں کے کل فنڈز کی2 فیصد رقم کھیل کے لئے مختص ہوگی۔

پنجاب اسپورٹس بورڈ کے فنڈز کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کے فنڈز میں بھی کھیل کے شعبہ کےلئے فنڈز مختص ہوتے ہیں لیکن آج تک وہ فنڈز کھلاڑیوں تک نہیں پہنچ سکے۔ سول سوسائٹی اور کھلاڑیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کھلاڑیوں کو سہولیات مہیا کرے اور فنڈز کو منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے۔

.



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں