Home » پاکستان پر کورونا کی مہربانیاں

پاکستان پر کورونا کی مہربانیاں

by ONENEWS

پاکستان پر کورونا کی مہربانیاں

کورونا وائرس عرف عام میں کووڈ 19 ایک ایسا وائرس جس کی ابتداء اوائل دسمبر 2019 چین کے شہر ووہان سے ہوئی اسی لیے اس کا نام کووڈ 19 ہے چین نے تو جیسے کیسے اس وائرس پر قابو پا لیا لیکن یورپ اور امریکہ پہنچ کر یہ بے قابو ہو گیا اور ہزاروں انسانوں کو نگل گیا اور ابھی بھی مختلف ممالک میں اس کے وار جاری ہیں۔ اس وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کے کئی کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں۔ کروڑوں لوگ بے روزگار ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ترقی یافتہ فلاحی مملکتیں اپنے بے روزگاروں کی مدد تو کر رہی ہیں۔ لیکن ڈر ہے کہ اگر یہ سلسلہ دراز ہوا تو یہ ممالک دیوالیہ ہی نہ ہو جائیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں کی صورتحال بہت عجیب و غریب ہے۔ پاکستان میں کورونا کی آمد مارچ میں ہوئی اور ابتدائی طور پر سندھ صوبہ متاثر ہوا جہاں ایران سے آنے والے زائرین کے ذریعے کورونا پاکستان پہنچا، پاکستان کے اندر جہاں اس موذی وبا نے سب کو پریشان کیا وہاں کچھ سبق بھی یاد کروا دیئے دوسرے لفظوں میں کچھ سیکھا بھی دیا، پاکستان میں پہلی بار لوگوں کو پتا چلا کہ جب کھانسی آئے تو کھانستے وقت منہ پر بازو رکھنا چاہیے، ترقی یافتہ ممالک کے اندر یہ بات نرسری کے بچوں کو سیکھا دی جاتی ہے اور پھر آگے چل کر سکولوں کے بچوں کو اس کی وجوہات بھی بتا دی جاتی ہیں۔

جب کوئی بندہ کھلے منہ کھانسی کرتا ہے تو اس کے اندر سے 3 ہزار تک جراثیم باہر نکلتے ہیں۔ جن سے قریب بیٹھے ہوئے یا قریب سے گزرتے ہوئے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اور جب وہ اپنا منہ اپنے بازو میں دبا کر کھانسی کرتا ہے اور کچھ سیکنڈ منہ وہی رکھتا ہے تو وہ تمام جراثیم وہی رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے آلودہ ماحول میں جب ہم باہر چلتے پھرتے ہیں تو منہ پر ماسک ہونا چاہیے لیکن کورونا سے پہلے ایک فیصد بھی لوگ ماسک کا استعمال نہیں کرتے تھے۔(اب بھی زیادہ نہیں کرتے لیکن پھر بھی پہلے سے بہت بہتر ہے) تیسری بات کورونا کی وجہ سے ہم دن میں کئی بار اپنے ہاتھ صابن سے دھونے لگے ہیں۔ جو کہ عام حالات میں بھی بہت ضروری ہیں۔ ہمیں تو ہاتھ دھونے کا طریقہ بھی نہیں آتا ہے نہ ہی یہ معلوم کے ہاتھ گندے کیسے ہوتے ہیں۔ وطن عزیز میں کھانے والی تمام دکانوں پر کام کرنے والے جن ہاتھوں سے کھانے والی چیز دیتے ہیں انہی ہاتھوں سے پیسے لیتے ہیں۔ جو سراسر غلط ہے۔ پسینہ بھی انہی ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں۔ کھانا بنانے والی جگہیں جس کپڑے سے صاف کرتے ہیں اس کی حالت سے لگتا ہے کہ یہ صاف کرنے کے لیے نہیں بلکہ گندہ کرنے کے لیے ہے۔ چوتھی بات جو ہم کورونا ہدایات میں سیکھ سکتے ہیں (ابھی تک سیکھی نہیں شاید اس کی وجہ آبادی کی زیادتی ہے) وہ یہ کہ قطار میں کیسے کھڑے ہونا ہے۔ ہمارے ہاں اول تو کسی بھی جگہ قطار بنانے کی عادت ہی نہیں ہے۔ اگر کسی جگہ انتہائی مجبوری میں قطار بنا لی جائے تو وہ اس طرح ہوتی ہے جیسے اگلے بندے کو جپھی ڈالی ہو، ایک دوسرے کے ساتھ جسم رگڑنے کی حالت میں ہوتے ہیں۔ کورونا نے جو سماجی فاصلے بنائے ہیں یہ عام حالات میں بھی ضروری ہیں 6 نہ سہی 3 فٹ کا فاصلہ تو ضروری ہوتا ہے۔

اسی طرح کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے ہلکی ورزش ضروری ہے جو کہ عام حالات میں بھی صحت مند زندگی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے۔ پاکستان میں کورونا نے ایک اور مہربانی کی ہے کہ کورونا کی وجہ سے ٹریفک میں کچھ کمی ہوئی جس سے ماحول پر بہت اچھا اثر ہوا ہے اور شرح اموات میں بھی کمی آئی ہے۔ اس موقع پر ایک اور بات بھی سیکھنے والی ہے جو شاید کسی کی سمجھ میں نہ آئی ہو اور وہ یہ کہ ہمیں آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانا چاہیے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جتنے بھی اقدامات کیے گئے ان میں سب سے بڑی مشکل یہی پیش آئی کہ ہم سماجی فاصلوں میں کمی لانے میں ناکام رہے اور بینکوں سمیت کئی جگہوں پر لوگوں کا رش نظر آتا رہا، اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہماری آبادی اتنی زیادہ ہے کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ہجوم کو روک نہیں سکتے۔ ہمیں بڑھتی آبادی اور کم ہوتے رقبے کا احساس ہونا چاہیے۔

اب آتے ہیں کورونا کی موجودہ صورتحال کی طرف، وطن عزیز میں جب سے کورونا کی بیماری آئی ہے اس کے ساتھ ہی لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایات بھی شروع ہوئیں جو ہنوز جاری ہیں۔ کہیں تارکین وطن بھائیوں کی آمد پر ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی شکایات ہیں تو کہیں کورونا کا ٹیسٹ کرنے والی مشینوں کی غلط رپورٹ کی شکایت ہے۔ اگر کسی کا کورونا مثبت آجاتا ہے تو اس گھر پر انتظامیہ کی طرف سے اس طرح دھاوا بول دیا جاتا ہے جیسے کسی دہشت گرد کی اطلاع ملنے پر بولا جاتا ہے۔ اسی لیے لوگ ٹیسٹ کروانے سے کتراتے ہیں۔ اور کسی کو کورونا وائرس کی وبا کی علامات سامنے آئیں تو وہ چھپا لیتا ہے۔ ایک اور بڑی شکایت یہ ہے کہ اس موذی وائرس سے ہماری انتظامیہ ناجائز فائدے اٹھا رہی ہے۔ کہیں ناکوں پر پیسے لیے جا رہے ہیں تو کہیں تندرست لوگوں کو زبردستی قرنطینہ اور ہسپتالوں میں دھکیلا جا رہا ہے جس کی وجہ ان مریضوں کے لیے مختص ہوئی رقم سے پیسے بچانے کا چکر ہوتا ہے۔

راقم کا خیال یہ ہے کہ اب ہم کورونا کورونا کھیلنا بند کر دیں۔ اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ کیونکہ مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم تمام تر کوششوں کے باوجود کورونا کے بڑھنے کو روکنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اللہ کا خاص کرم ہے پاکستان میں بالعموم اور آزادکشمیر میں بالخصوص کورونا سے شرح اموات نہ ہونے کے برابر ہے۔ آزادکشمیر کے ضلع بھمبر میں یوں تو مبینہ طور پر دو اموات بھی ہوئی ہیں۔ لیکن مصدقہ معلومات کے مطابق صرف ایک بندہ کورونا سے شدید بیمار ہوا جو اللہ کے کرم سے بعد میں صحت مند بھی ہو گیا ہے۔ لیکن اگر سب کے ٹیسٹ کیے جائیں تو 75 فیصد مثبت آئیں گے۔ انتظامیہ دکانیں بند کروا کر لوگوں کا معاشی نقصان کر رہی ہے جبکہ فوتگیوں اور جنازوں میں لوگوں کا جم غفیر ہوتا ہے۔ بینکوں اور عدالتوں کے باہر بندے پر بندہ چڑھا ہوتا ہے۔

لہذا اب بہتر یہی ہے کہ تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔ بالخصوص تعلیمی اداروں کو فوری طور پر کھولا جائے، ہسپتالوں کے اندر بیماروں کو داخل کیا جائے اور تمام کاروباری اداروں کو کھول دیا جائے۔

دنیا کے تمام ممالک نے تعلیمی ادارے بہت جلد کھول دیئے تھے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment