Home » پاکستان میں ‘‘پب جی’’ گیم پر عارضی پابندی لگادی گئی

پاکستان میں ‘‘پب جی’’ گیم پر عارضی پابندی لگادی گئی

by ONENEWS


پی ٹی اے نے عوامی شکایات کو مد نظر رکھتے ہوئے آن لائن گیم ‘‘پب جی’’ پر عارضی طور پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے معاشرے کے مختلف طبقات کی طرف سے آن لائن گیم پلیئرز ‘‘ان نون بیٹل گراؤنڈز (پب جی)’’ کیخلاف متعدد شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے عارضی طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پی ٹی اے کو ‘‘پب جی’’ سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئیں، جن کے مطابق یہ گیم وقت کے ضیاع اور عادی بنانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ‘‘پب جی’’ گیم سے منسوب خودکشی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور شکایت کرنیوالوں کی سماعت کے بعد اس معاملے کا فیصلہ کریں، شکایات پر سماعت 9 جولائی 2020ء کو ہوگی۔

واضح رہے کہ لاہور میں پب جی گیم کے باعث خودکشیوں کے رجحان پر پولیس نے اعلیٰ حکام کو ایک مراسلہ لکھ کر اس گیم پر پابندی لگانے کی سفارش کی تھی۔ لاہور میں چند روز کے دوران مبینہ طور پر اس گیم کے باعث 2 نوجوانوں نے خودکشی کرلی تھی۔ پولیس نے پابندی کیلئے پی ٹی اے اور ایف آئی اے سے بھی رابطے کا فیصلہ کیا تھا۔

لاہور کی مقامی عدالت میں ایک شہری نے مئی 2020ء میں پب جی پر پابندی کیلئے درخواست دائر کی تھی۔ نوجوان کے وکیل بلال ریاض شیخ کا پٹیشن میں مؤقف تھا کہ اس گیم کے کچھ فیچرز مسائل پیدا کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں پر اس کا بہت برا اثر پڑ رہا ہے، وہ زیادہ بے رحم اور تشدد پسند بنتے جارہے ہیں۔

دوسری جانب انڈونیشیا میں مذہبی اسکالرز کی جانب سے ایک سال قبل پب جی گیم کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیامت سے قبل انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہوگی، جس میں 99 افراد ہاریں گے اور صرف ایک جیتے گا، اس گیم میں بھی ایسا ہی دکھایا گیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے مذکورہ آن لائن گیم سے متعلق عوام سے ان کی آراء جاننے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں عوام 10 جولائی 2020 تک پی ٹی اے کو ای میل (لنک نیچے دیا جارہا ہے) کے ذریعے اپنا نکتہ نظر فراہم کرسکتے ہیں۔

consultation-pubg@pta.gov.pk



Source link

You may also like

Leave a Comment