Home » پاکستان ميں انسداد کرونا مہم کا آغاز ہوگیا

پاکستان ميں انسداد کرونا مہم کا آغاز ہوگیا

by ONENEWS

ملک میں کل 582مراکز قائم کیے گئے

ملک میں انسداد کرونا مہم کا آغاز ہوگیا جس میں سب سے پہلے ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کو ويکسين لگائی جائے گی۔

این سی او سی ہیڈکوارٹر میں کرونا ویکسینیشن سے متعلق تقریب منعقد ہوئی۔ سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا کہ کرونا ویکسی نیشن پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم ویکسین کی مکمل دستیابی تک عوام احتیاط نہ بھولیں۔ سماجی فاصلہ رکھنے اور ماسک پہننے سمیت تمام ایس او پیز پر عمل کرتے رہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ ملک میں مشکل وقت پر سب مل کر کام کرتے ہیں اور تمام صوبوں نے کرونا کےخلاف مل کر کام کیا۔ کرونا کی صورتحال میں مثبت حکمت عملی کار فرما رہی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون اور حکومت کی کوششوں سے کرونا پر قابو پایا لیکن کرونا کے خلاف کامیابی کے اصل ہیرو فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز ہیں۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر قوم کی خدمت کی۔

سربراہ این سی او سی نے سابق معاون صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی مہم کے آغاز کے لیے تقاریب منعقد کی گئیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج 40ہزار ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگائی جائے گی جبکہ آنے والے دنوں میں روزانہ ایک لاکھ سے زائد لوگ ویکسین لگوا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چائنیز ویکسین کے بعد اگلی ویکسین آسٹرازنیکا ہوگی جوکہ چند ہفتوں میں پاکستان میں میسر ہو جائے گی۔

معاون صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ویکسین کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ سائنوفارم بہت اچھی اور مفید ویکسین ہیں جوکہ 86فیصد تک کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ سب سے پہلے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی ویکسی نیشن کی جا رہی ہے اور دوسرے مرحلے میں 65سال سے زائد عمر کے شہریوں کو ویکسین لگے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کرونا ویکسینیشن مہم کا افتتاح کردیا

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ 2021 کے اختتام تک 70فیصد آبادی تک ویکسین پہنچ جائے گی اور پاکستان میں 10کروڑ لوگوں کو ویکسین لگ سکتی ہے۔

چين سے ملنے والی ويکسين کی 5 لاکھ ڈوز دينے کے لیے پورے پاکستان ميں کل 582 مراکز قائم کیے گئے۔ خیبرپختونخوا میں 280، پنجاب ميں 189، بلوچستان میں 44، سندھ ميں 14، آزاد کشمیر میں 25، گلگت بلتستان میں 16 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 14 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

مراکز کے ذریعے ویکسینیشن کی جائے گی جبکہ کرونا ویکسین کی پہلی کھیپ تمام صوبوں کو فراہم بھی کر دی گئی ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک ہیلتھ ورکر کو کرونا وائرس کی ویکسین لگوا کر ملک بھر میں مہم کا باضابطہ طور پر آغاز کیا تھا۔

وزیراعظم نے کرونا ویکسینیشن کے آغاز کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کو کرونا کی 5 لاکھ خوارکوں پر مبنی پہلی کھیپ کی فراہمی پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ویکسین ہیلتھ ورکرز اور پھر بزرگ شہریوں کو دی جائے گی، ویکسین صوبوں میں مساویانہ طور پر تقسیم ہوگی۔

واضح رہے کہ چین سے کرونا ویکسین یکم فروری کو پاکستان پہنچے تھی۔

You may also like

Leave a Comment