Home » پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے پیچھے بھارتی جال بے نقاب

پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے پیچھے بھارتی جال بے نقاب

by ONENEWS

Photo/AFP

یورپی غیر سرکاری ادارے نے 15 سال سے جاری ایک ایسے بھارتی پروپیگنڈہ پروجیکٹ کا سراغ لگایا ہے جو غیرسرکاری اداروں کے ذریعے پاکستان کے خلاف منفی رپورٹیں مرتب کروانے اور اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ سمیت یورپی یونین پر اثرا انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر غلط معلومات کی مانیٹرنگ کرنے والے خود مختار ادارہ یورپی یونین ڈس انفارمیشن لیب نے انڈیا کرونیکلز کے نام سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں پروپیگنڈہ پروجیکٹ کو تفصیل کے ساتھ بے نقاب کیا گیا ہے۔

انگلش میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

رپورٹ میں ایسی غیر سرکاری تنظیموں کا سراغ لگایا گیا ہے کہ جو ایک بھارتی بزنس گروپ کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس گروپ کے تحت چلنے والی این جی اوز اقوام متحدہ کی این جی اوز کے ساتھ ملکر کام کرتی ہیں۔ یہی گروپ یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کو کشمیر سمیت دیگر دوسرے ممالک کے مفت دورے بھی کرواتے ہیں۔

اس بزنس گروپ کا نام گزشتہ برس بھی ایک ایک رپورٹ میں آیا تھا جس میں انکشاف ہوا تھا کہ یہ گروپ 65 سے زائد ممالک میں 265 سے زائد مربوط ویب سائٹس چلاتا ہے۔ ان ویب سائٹس کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بناکر یورپو یونین اور اقوام متحدہ اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جارہی تھی۔

اس بزنس گروپ نے بلوچستان، گلگت بلتستان اور جنوبی ایشا کے نام پر تین تنظیمیں بنائیں۔ ان تنظیموں نے متعدد مواقع پر یورپی یونین کے پارلیمنٹ کے سامنے پریس کانفرنسز اور احتجاج کیا۔

ای یو ڈس انفو لیب نے گزشتہ برس انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کیخلاف جھوٹی خبریں پھیلانے اور پروپیگنڈا کرنے والی 265 جعلی ویب سائٹس بھارتی نیٹ ورک کے ذریعے 65 ممالک سے آپریٹ کی جارہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کو ڈیزائن کرنے کا مقصد پاکستان پر تنقید کرکے یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ڈس انفارمیشن ٹاسک فورس نے اکتوبر میں ای پی ٹو ڈے ڈاٹ کام پر سے پردہ اٹھایا تھا جس نے رشیا ٹوڈے اور وائس آف امریکا کے ایسے پرانے مضامین اور اداریے دوبارہ شائع کئے جو پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق اور پاک بھارت معاملات پر تھے۔

رپورٹ کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا کہ یہ ویب سائٹ شری واستو گروپ کے تھنک ٹینک، این جی اوز اور کمپنیوں کے ذریعے چلائی جارہی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سری واستو گروپ کا آئی پی ایڈریس، آن لائن میڈیا ’’نیو دہلی ٹائمز‘‘ اور انٹرنیشنل انسٹی فار نان الائنڈ اسٹڈیز نئی دہلی میں ایک ہی پتے پر مبنی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک آن لائن نیوز پیپر ’’ٹائمز آف جنیوا‘‘ بھی پاکستان مخالف خبروں کا ایک اور ذریعہ بن کر سامنے آیا۔ اس آن لائن اخبار میں بھی ای پی ٹوڈی طرز پر پاکستان مخالف مواد چھاپہ اور ویڈیوز لگائی گئیں، جس میں کشمیر تنازع پر پاکستان کے کردار پر شدید تنقید شامل تھی۔

ای یو ڈس انفو لیب نے اپنی رپورٹ میں ان ویب سائٹس سے متعلق اخذ کردہ چند نتائج پر روشنی ڈالی ہے۔

نمبر 1۔ ان میں سے بیشتر کا نام معدوم شدہ مقامی اخبار یا اصلی ذرائع ابلاغ کے ناموں پر رکھا گیا ہے۔

نمبر 2۔ وہ متعدد نیوز ایجنسیوں (کے سی این اے ، وائس آف امریکہ ، انٹرفیکس) کے مواد کو دوبارہ شائع کرتے ہیں۔

نمبر 3۔ بھارت سے متعلق مظاہروں اور ایونٹ کو بار بار کوریج دینا۔

نمبر 4۔ پاکستان مخالف مواد کی بار بار مذکورہ بھارتی نیٹ ورک سے اشاعت (ای پی ٹو ڈے، 4 نیوز ایجنسیز، ٹائم آف جنیوا، نیو دہلی ٹائمز)۔

نمبر 5۔ زیادہ تر ویب سائٹس کے ٹویٹر اکاؤنٹس بھی موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس کی تشکیل کا مقصد “پاکستان کے بارے میں عوامی تاثرات” پر اثر انداز ہونا اور بین الاقوامی اداروں و منتخب نمائندوں کو متاثر کرنا ہے۔

You may also like

Leave a Comment