Home » پانی زندگی…… اور فوج  (3)

پانی زندگی…… اور فوج  (3)

by ONENEWS

پانی، زندگی…… اور فوج  (3)

فوجی زندگی میں پانی کی اہمیت اور افادیت کیا ہے اس کی ایک نہایت مختصر سی جھلک میں نے گزشتہ قسط (قسط نمبر2)میں دو تاریخی مثالوں سے واضح کی۔ ایک تو سرکارِ دوعالمﷺ کی مدنی حیاتِ مبارکہ کا پہلا غزوہ (غزوۂ بدر) تھا اور دوسری مثال 1962ء کی انڈو چائنا وار تھی۔ ان دو مثالوں کے علاوہ بھی ہر دور کی ہر جنگ میں پانی کی اہمیت پر سیر حاصل بحث کی جا سکتی ہے۔ اس موضوع کا ایک دلخراش پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں پانی کی اہمیت کو زیادہ درخورِ توجہ نہیں گردانتے۔ پانی اور ہوا، اللہ کریم کی دو ایسی نعمتیں ہیں کہ جو اس نے ہر بنی نوعِ انسان کو مفت عطا کر رکھی ہیں۔ ان کی قیمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب یہ ہم سے چھین لی جاتی ہیں یا ان کی رسائی ہم تک مشکل ہو جاتی یا بنا دی جاتی ہے۔ یہ دونوں نعمتیں تو مفت میں ہمیں ملی ہوئی ہیں۔ ہوا کے بغیر ہم ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتے اور پانی بھی اگر ایک دو دن تک نہ ملے تو ہم بلبلانے لگتے ہیں۔

سیاچن گلیشیئر دنیا کا بلند ترین میدانِ جنگ ہے۔ پاکستان اور انڈیا دونوں کی افواج مارچ 1984ء سے اس گلیشیئر پر صف بند ہیں۔ دونوں افواج کو ڈبہ بند راشن تو مل جاتا ہے جس میں پینے کا پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ لیکن پینے کے علاوہ پانی کی دوسری ضروریات بھی ہوتی ہیں۔ ان کو پورا کرنے کے لئے زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ 16،18ہزار فٹ کی بلندی پر موسم سرما میں جب درجہء حرارت منفی 50ڈگری تک چلا جاتا ہے تو وضو اور ”دوسری حاجاتِ ضروریہ“ کے لئے گلیشیئر کی برف کو مٹی کے تیل کے چولھے پر ٹین کا ایک کنستر رکھ کر اس کو دن رات 24گھنٹے جلایا جاتا ہے اور تب اس پانی سے مطلوبہ ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ پاک فوج کے ہر جوان اور آفیسر کو کم از کم ایک بار سیاچن پر ایک ٹرم گزارنی پڑتی ہے۔ یہ داستان طویل ہے، اس لئے آگے چلتے ہیں …… اسی برس مارچ سے لے کر اب تک لداخ میں انڈیا اور چین کی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر دونوں ممالک کی افواج صف بند ہیں۔

اس موضوع پر آپ نے بہت کچھ پڑھ اور سن رکھا ہے۔ طرفین کے 50،50 ہزار ٹروپس اس لائن کے دونوں طرف ڈیپلائے کئے ہوئے ہیں اور اس کی تفاصیل انڈین میڈیا نشر اور شائع کرتا رہتا ہے۔ چین کی جو افواج یہاں اقصائے چین میں صف بند ہیں ان کی انصرامی دُم (Logistic Tail) انڈیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ لیکن چین نے اپنی افواج کو اسلحہ، گولہ بارود اور راشن پانی پہنچانے کے انتظامات، انڈیا کی بہ نسبت زیادہ دقّتِ نظر سے کر رکھے ہیں۔ انڈیا کا زیادہ انحصار اپنی فضائیہ پر ہے اور اس کے ٹرانسپورٹ طیارے روز و شب لداخ میں فوج کو برقرار (Maintain)رکھنے کے لئے محوِ پرواز رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں چین نے اپنی طویل انصرامی دُم کے باوصف، اپنے ٹروپس کو فضا اور زمین دونوں راستوں سے رسدات (Supplies)پہنچانے کا بندوبست کیا ہوا ہے…… البتہ ایک انصرامی پہلا ایسا تھا جو چین کے لئے بمقابلہ انڈیا زیادہ مشکل تھا!…… اور وہ تھا چینی ٹروپس کو پینے کا نیم گرم پانی مہیا کرنا!!

سطورِ بالا میں لکھ آیا ہوں کہ چین کی مسلح افواج میں باقی راشن تو بے شک ٹھنڈا ہو کر بھی گوارا کر لیا جاتا ہے۔ لیکن جہاں تک مشروبات کا تعلق ہے تو چینی آفیسرز اور جوان گرم یا نیم گرم مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں …… چینیوں کے  ہاں یہ روائت نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ سطح مرتفع تبت (Tibet Plateau) سردیوں میں سخت سرد ہو جاتی ہے۔ یہ سرد موسم اکتوبرکے اواخر میں شروع ہوتا ہے اور اگلے برس مارچ تک چلتا ہے۔ اب تک چینی ٹروپس جو تبت میں صف بند ہیں (ائر فورسز اور گراؤنڈ فورسز دونوں) ان کے لئے گرم پینے کا پانی (سردیوں میں) چین کے عقبی علاقوں سے بڑے بڑے کنٹینروں میں لایا جاتا تھا اور ٹروپس کی آبِ نوشیدنی کی ضروریات پوری کرتا تھا۔

چین کے ماہرینِ ارضیات اس تلاش میں تھے کہ تبت کے علاقے میں ایسے کنویں دریافت کئے جائیں جن کا پانی اگر نیم گرم نہ ہو تو کم از کم تازہ ضرور ہو۔ اگلے روز پیپلزلبریشن آرمی کے شعبہء ابلاغیات کے ایک اخبار (پی ایل اے ڈیلی) میں ایک خبر پڑھنے کو ملی جس میں بتایا گیا ہے کہ چینی سائنس دانوں اور ماہرینِ ارضیات نے بالآخر یہ معمہ حل کر لیا ہے اور اب چینی سپاہ کو نہ صرف پینے کے لئے گرم پانی مہیا ہو سکے گا بلکہ سال بھر نہانے دھونے کے لئے بھی گرم پانی کی فراہمی جاری رہے گی…… انڈیا کے مقابلے میں چین کی یہ کامیابی ایک بڑا عسکری انصرامی بریک تھرو کہی جا رہی ہے۔

کئی ماہ پہلے چینیوں نے تبت کے مختلف مقامات پر 13000ہزار سے لے کر 16000ہزار فٹ کی بلندی پر کنویں کھودنے کے تجربات شروع کئے۔ اب تک 13ایسے کنویں کھودے جا چکے ہیں جن سے گرم پانی کی فراہمی ممکن بنا دی گئی ہے۔اس ہفت خواں کو سر کرنے کے لئے جن جدید ٹیکنالوجیکل ایجادات سے مدد لی گئی ہے ان میں جیولاجیکل سروے، زلزلہ پیمائی کے آلات، مصنوعی سیاروں کی مدد سے زمین پر سینکڑوں فٹ کی گہرائی میں پانی کی تلاش کرنے والے سنسرز، پانی کے اندر ڈوبے ہوئے ایسے پمپ جن کی مدد سے پانی کو کنویں سے باہر (پائپوں کے ذریعے) لایا جا سکتا ہے اور کنویں کے پانی کو بجلی کے ہیٹروں کی مدد سے گرم کرنے کے آلات شامل ہیں۔ جو چینی فوجی کئی ہفتوں تک نہانے دھونے سے گریز کیا کرتے تھے، اب ان کو کوئی پرابلم نہیں رہی۔ منجمد برف کے تودوں کو گرم کرکے پگھلانے اور ان سے پانی حاصل کرنے کی مشکلات اب بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ اتنی بلندی پر بجلی پیدا کرنے کے آلات، سولر ٹیکنالوجی کی دریافت کی وجہ سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ آج جو کنویں کھودے گئے ہیں وہ مشرقی لداخ میں جھیل پاگونگ کے اس پار واقع چینی ٹروپس کی پانی کی ضروریات کو پورا کررہے ہیں۔ لیکن بہت جلد یہ سہولت تمام انڈوچائنا LAC پر جو سینکڑوں میلوں تک پھیلی ہوئی ہے وہاں کے فوجیوں کو فراہم ہو جائے گی۔

اب انڈین آرمی میں خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ انڈین ٹروپس جو آج کل لداخ میں بڑی انصرامی مشکلات میں گرفتار ہیں اور ان کو جلد جلد میدانی علاقوں کے فوجیوں کی آمد و شد کے سلسلے میں گردش (Rotation) میں رکھا جا رہا ہے، ان کو بھی شاید یہ سہولیات میسر ہو جائیں۔ لیکن ایسا وقت آنے سے پہلے انڈیا کو ان تمام ٹیکنالوجیکل ایجادات پر دسترس پانے کا مرحلہ سر کرنا ہوگا جسے چین نے بہت پہلے سر کر لیا تھا اور یہ جو گرم پانی کا مسئلہ ہے تو یہ تو ایک انقلابی اقدام ہے۔

جو افواج سرد علاقوں میں جا کر ٹھہرنے پر مجبور ہوتی ہیں ان کو آج اگر گرم پانی فراہم ہو رہا ہے تو آنے والے کل میں ایسی رہائشی سہولیات بھی مل جائیں گی جو جدید ممالک کے سویلین شہریوں کو حاصل ہیں۔ ایک طویل عرصے سے یورپ اور امریکہ کی ساری عمارات اور سٹورز وغیرہ ہر طرح کے گرم و سرد موسم میں استعمال کرنے کے لئے تعمیر کئے جاتے ہیں۔ سنٹرلی ہیٹڈ (Centrally Heated) اور سنٹرلی ائر کنڈیشنڈ (Centrally Air Conditioned)وغیرہ جیسی اصطلاحات ایک طویل مدت سے وہاں ایک روٹین ہیں۔ ہاں البتہ ان ملکوں کی افواج کو جن علاقوں میں جا کر لڑنا پڑتا ہے، ان میں یہ سہولیات بہت کم میسر ہیں۔ برفانی، کوہستانی، جنگلاتی، ریگستانی اور خشک  میدانی علاقوں میں لڑنے والی افواج آج بھی انتظام و انصرام (Adm & Log) کی دیرینہ ضروریات اور روایات کی اسیر ہیں …… آج پانی کا مسئلہ حل ہوا ہے تو آنے والے کل میں شاید ہوا کا مسئلہ بھی حل ہو جائے جو اگرچہ ناممکنات کی ذیل میں شمار ہوتا ہے لیکن کیا خبر ایک ایسا وقت بھی آئے جب ’ناممکن‘ کا لفظ واقعی دنیا بھر کی لغاتوں سے خارج کر دیا جائے!(ختم شد)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment