Home » پانیزندگی…………اور فوج (1)

پانیزندگی…………اور فوج (1)

by ONENEWS

پانی،زندگی…………اور فوج (1)

پانی اور زندگی کا تعلق گویا موت اور زندگی کا تعلق ہے۔ انسان نے جب سے خلاؤں کا رخ کیا ہے اور چاند پر قدم رکھا ہے، وہ کسی ایسے سیارے کی تلاش میں ہے جہاں پانی کی موجودگی کا پتہ مل سکے۔ مختلف ممالک نے نجانے کتنے خلائی مشن مختلف اجزامِ فلکی کی جانب روانہ کئے لیکن ابھی تک کہیں بھی پانی کا سراغ نہیں ملا۔ کبھی کبھار خبر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے کہ فلاں سیارے میں پانی دریافت ہو گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ گویا زندگی دریافت ہو گئی ہے۔ آگ، پانی، ہوا اور مٹی، حیاتِ انسانی کے عناصرِ اربعہ شمار ہوتے ہیں لیکن ان میں سب سے اہم اور بنیادی عنصر پانی ہے۔

دنیا کی بڑی بڑی تہذیبیں بھی پانی کے کناروں پر پھلتی پھولتی رہیں۔ ریگستانوں میں آگ، ہوا اور مٹی تو ہوتی ہے، پانی نایاب یا کمیاب  ہوتا ہے اسی لئے اس تناسب سے حیاتِ انسانی بھی نایاب اور کمیاب ہوتی ہے۔ جس جگہ تھوڑا سا پانی ہو وہاں سبزہ اُگ آتا ہے اور زندگی بھی جنم لیتی ہے۔ اسے نخلستان کہا جاتا ہے۔ نخل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی کھجور کا درخت ہے۔ اس درخت کو کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلندی میں اونچا نکل جاتا ہے اور پھل اس کے اوپر اور آخر میں جا کر لگتا ہے۔ اس کا تنا باہر سے سوکھا سڑا لگتا ہے اور پتوں کو پانی پہنچانے کی رگیں بظاہر اسی خشک تنے میں ہوتی ہیں۔ اس کی شاخیں بھی گنتی میں چند ایک ہی ہوتی ہیں۔ پرندوں کے لئے سایہ نہیں ہوتا اور پھل بہت دور اور اونچا جا کر لگتا ہے۔ اسی لئے شاعر نے ایک فکر انگیز مضمون نکالا ہے۔ نخل کی عمودی بلندی کو تکبر سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے:

بڑا ہوا تو کیا ہوا جیسے پیڑ کھجور

پنچھی کو سایہ نہیں، پھل لاگے اتّی دور

نخل اور نخیل عربی زبان میں ہم معنی الفاظ شمار کئے جاتے ہیں۔ اقبال نے اپنے کئی اشعار میں ’نخیل‘کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مسجد قرطبہ کا شعر ہے:

تیری بِنا پائدار، تیرے ستوں بے شمار

شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل

ایک اور نظم (ذوق و شوق) میں کہتے ہیں:

گَرد سے پاک ہے ہوا برگِ نخیل دُھل گئے

ریگِ نواحِ کاظمہ، نرم ہے مثلِ پرنیاں

زبانوں میں اگرچہ مذہب کا پیوند نہیں لگانا چاہیے۔ لیکن اقبال کو عربوں کی ہر شے سے محبت ہے۔ جہاں ہندی شاعر نے کھجور کے پیڑ کو تکبّر کی علامت قرار دیا ہے وہاں شاعر مشرق نے ہجومِ نخیل سے ایک خوبصورت منظرپیدا کر دیا ہے۔ جب آپ ”شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل“ پڑھتے ہیں تو ذہن کے کینوس پر نخیل، تکبّر کا استعارہ نہیں رہتا، خوش نمائی کا منظر تخلیق کر دیتا ہے…… پانی کی اہمیت کو واقعہء کربلا میں مرزا انیس نے ایک اور طرح کی مسلکی اور مذہبی اہمیت سے ہمکنار کر دیا ہے۔ منظر یہ ہے کہ دریائے فرات پر حضرت امام حسینؓ  اور یزید کی صف بندی دکھانی مقصود ہے۔ کہاں صرف72تن جن میں مستورات اور بچے بھی شامل ہیں اور کہاں یزید کی افواجِ قاہرہ!…… فرات کا پانی قافلہء حسینؓ پر بند کر دیا گیا ہے۔ گرمی کی شدت ہے اور اس شدت کا نقشہ ”جنگِ کربلا‘ سے پہلے انیس نے عجیب طرح کھینچا ہے۔ اس مرثیے کا پہلا بند دیکھئے جو ہم نے اپنی اردو کی نصابی کتاب ’سرمایہء اردو‘ میں پڑھا تھا اور اب تک یاد ہے:

گرمی کا زور، جنگ کی کیونکر کروں بیاں

ڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباں

وہ لوکہ المحنور، وہ حرارت کہ الاماں

زن کی زمیں تو سرخ تھی اور زرد آسماں

آبِ خنک کو خلق ترستی تھی خاک پر

گویا فلک سے آگ برستی تھی خاک پر

اسی مرثیے کے ایک اور بند میں پانی اور آگ کے ملاپ کو دیکھئے کس طرح باندھا گیا ہے:

پانی تھا آگ، گرمیء روزِ حساب تھی

ماہی جو شیخِ موج تک آئی کباب تھی

موج کو ایک لمبی سلاخ سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ دریا کی تہہ میں سے اگر کوئی مچھلی اوپر سطحِ آب پر آ جاتی تھی تو سیخِ موج پر چڑھ کر کباب ہو جاتی ہے۔مبالغہ آرائی شاعری کا حسن ہے لیکن جب کسی تشبیہ میں ایک سے زیادہ قرینے اکٹھے ہو جائیں تو شاعر کی عظمت کو سلام کہنا پڑتا ہے۔

دیکھئے بات سے بات نکل رہی ہے…… جہاں پانی وہاں آبادی اور جہاں آبادی وہاں تہذیب و تمدن بھی، کاروبارِ حیات بھی، باغ و بہار بھی اور کشت و قتال بھی۔ دنیا کے بڑے بڑے صحراؤں میں افریقہ کا صحرائے اعظم سب سے بڑا ہے۔ افریقہ کا نقشہ سامنے پھیلائیں اور دیکھیں کہ اس کے مشہور ممالک اور آبادیاں ساری کی ساری پانی کے کناروں پر واقع ہیں۔ مصر سے لے کر مغرب میں مراکش تک چلتے جائیں …… تیونس، لیبیا، الجیریا اور مراکش سب کے سب بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ممالک ہیں۔ ان کے جنوب میں نگاہ دوڑائیں تو وہی بے آب و گیاہ صحرائے اعظم ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کا پورا براعظم دیکھ لیں۔ اس کے تمام بڑے چھوٹے شہر اس کے ساحلوں پر واقع ہیں …… اور درمیان کا سارا علاقہ ریگستانی ہے، جہاں آبادیاں خال خال ہیں اور یہ صورتِ حال پانی کی نایابی کے سبب ہے۔ چین کے صحرائے گوبی کے بعد برصغیر کا صحرائے تھر ہے۔ تھرپارکر پاکستان میں ہے اور راجپوتانہ انڈیا میں۔ لیکن یہ صحرائی خطے بھی مکمل صحرا نہیں۔ کہیں کہیں پانی دستیاب ہے۔ اس لئے ان دونوں صحراؤں کو نیم ریگستانی علاقے کہا جاتا ہے۔

جب امریکہ اور سوویت یونین نے پہلے پہلے خلاؤں کی تسخیر کا عمل شروع کیا تو ہم سکول میں ایک دوسرے سے بحث کیا کرتے تھے کہ انسان (خلا نورد) اتنے دن تک خلاؤں میں بغیر پانی کے کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟…… پھر وہ وقت آیا کہ انسان (1969ء میں) چاند پر جا اترا اور اب تو کئی کئی ماہ خلائی اسٹیشنوں پر گزار رہا ہے۔ شاید پانی کا مسئلہ ری سائیکل کرکے حل کر لیا گیا ہے۔ کسی جگہ یہ بھی پڑھا ہے کہ خلا بازوں نے اپنے پیشاب کو ری سائیکل اور عمل تقطیر سے گزارنے کے بعد نوشیدنی (Drinkable) کر لیا ہے۔ لیکن جب تک خلاؤں کے سفر روٹین نہیں بنتے، اس طرح کے سوال تشنہ ء جواب رہیں گے کہ کیا انسان مہینوں تک Packedراشن پر گزارا کر سکتا ہے اور اب تو انسان نے خلاؤں میں باقاعدہ خلائی سٹیشن قائم کر لئے ہیں۔ جب چاہتا ہے کسی راکٹ میں راشن پانی اکٹھا کر سٹیشن پر جا پہنچتا ہے اور اس طرح راشن کی سپلائی اور کمک کا سامان کر لیتا ہے۔

کرۂ ارض کو اگر تین حصوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جائے تو دو حصوں میں پانی ہے اور ایک میں خشکی ہے۔ یہی حال تمام جاندار اشیاء کا ہے۔ ان میں پانی اور خشکی کا تناسب بھی دو اور ایک کا ہے۔ خود انسان میں دو حصے پانی اور ایک حصہ باقی گوشت پوست اور ہڈیاں وغیرہ ہیں۔ سوچتا ہوں کہ ابھی تک تو کسی ستارے یا سیارے پر پانی کی کوئی ایک بوند بھی دریافت نہیں ہو سکی چہ جائیکہ اتنا زیادہ پانی ہو جو اُس سیارے کو زمین کے مماثل بنا سکے۔ بحرالکاہل، بحر اوقیانوس اور بحرہند کی طرح کے سمندر کسی دوسرے سیارے میں کہاں ہوں گے؟ یہ پاگل انسان ویسے ہی خلاؤں میں ٹکریں مارتا پھرتا ہے۔ البتہ خلائی مشنوں کی حمائت کرنے والے یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ خلاؤں کے سفر نے کرۂ ارض پر بسنے والوں کو آپس میں ’آواز‘ کے ذریعے تو ملا دیا ہے۔ مشرق کا انسان، مغرب میں ہزاروں میل دور بیٹھا انسان سے ہمکلام ہو سکتا ہے۔ سائنس دان یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اگر آج یہ ”صدائی ملاپ“ حقیقت بن گیا ہے تو آنے والے کل میں ’جسمانی ملاپ‘ بھی ممکن ہو جائے گا!     (جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment