Home » ٹیکنالوجی رحمت یا زحمت

ٹیکنالوجی رحمت یا زحمت

by ONENEWS


ٹیکنالوجی رحمت یا زحمت

فجر کی روشنی

کیا نئی ایجادات اورٹیکنالوجی ہمارے لئے سہولت ہے یا پھر زحمت؟

کہاجاتاہے کہ ٹی وی،انٹرنیٹ،کمپیوٹر اور موبائل ہمارا وقت بچانے کے لئے ایجاد ہوئے اوریہ معلومات کا ایک بہت بڑا اور آسان ترین ذریعہ ہے۔ہمیں ہرطرح کی معلومات،خبریں اوراپنی بڑھائی سے متعلق ہر طرح کی معلومات آسانی سے بہت کم وقت میں مل جاتی ہے، مگر جہاں اس ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں وہاں ان کے نقصانات بھی ہیں،مگر ان نقصانات میں ٹیکنالوجی کاکوئی قصور نہیں ہے جتنا ہمارا قصور ہے۔ اگرہم ٹیکنالوجی کواپنی ضرورت سمجھ کر استعمال کریں اس کامثبت استعمال کریں تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہے، لیکن اگراپنی بڑھائی چھوڑ کر انٹرنیٹ پر لگے رہنا ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرنا اور اس میں وقت ضائع کرنا اور پھر اس ٹیکنالوجی کاغلام ن کررہ جانا اس سے فرد کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی دین اوردنیا تباہ ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی ہے کہ اسے اچھے اور بُرے کی تمیز سکھائی قرآن اور احادیث میں بھی اس کی وضاحت کی ہے۔ آج کل کے نوجوان اس ٹیکنالوجی کاغلط استعمال کر کے اپنے والدین کا بھروسہ توڑتے ہیں جو انہوں نے ان پرکیا ہوتا ہے۔ ماں باپ کو بھی چاہئے کہ اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں ان سب چیزوں کی عادت نہ ڈالیں۔ ان سے دور رکھیں، لیکن آج کل کے والدین اپنے بچوں جدید دنیا کے مطابق بنانے کے لئے چھوٹی عمر میں ہی ان چیزوں کی عادت ڈال دیتے ہیں ان چیزوں کا استعمال غلط بات نہیں ہے، لیکن ان کوایک مخصوص وقت میں ہی استعمال کرنا چاہئے اور والدین اپنی نگرانی میں ہی بچوں کو یہ سب چیزیں دیں اور ان کے استعمال کے لئے کچھ وقت مقرر کریں، کیونکہ ان کے بے جا استعمال سے فرد میں مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس سے فرد کی کمر اور پٹھوں میں درد ہوتاہے اور موبائل کے مسلسل استمعال سے فرد کی نیند کم ہوجاتی ہے اور نیند پوری نہ ہونے سے فرد میں چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے اورفرد چھوٹی چھوٹی باتوں پرغصہ کرنے لگتا ہے۔

والدین کوچاہئے کہ بچوں پر حد سے زیادہ سختی اور شک نہ کریں۔ شک ایسی بیماری ہے، جس سے انسان کا سکون برباد ہو جاتا ہے اگر حد سے زیادہ سختی کریں گے تو بچوں پر بُرا اثر پڑے گا اور وہ ڈپریشن میں چلے جائیں گے اور اپنی تفریح کے لئے غلط راستہ اختیار کریں گے۔

والدین کو چاہئے کہ بچوں کو پانچ وقت کانمازی بنائیں انہیں دین کے ساتھ ساتھ دنیا کی تعلیم بھی دیں۔ تفریح کے لئے بھی کچھ وقت دیں۔ والدین کو چاہئے کہ وہ برابری رکھیں،کیونکہ اسلام ہمیں ہر معاملے میں برابری کا حکم دیتا ہے۔

”میرے بندے توبہت جلد باز اور بے صبر ہے“

اور پھر ہمیں نصیحت کرتے ہیں صبر سے کام لو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم صرف اپنی ضرورت کے لئے ان ایجادات کواستعمال کریں سان کاغلط استعمال نہ کریں اور نہ ہی اسے کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کریں۔

علم کی فضیلت

تعلیم صرف روزگار کاسرٹیفکیٹ نہیں،بلکہ اس کااصل مقصد قوم کے افراد کوباشعور بناناہے۔افراد کو باشعور بنانا ملت کی تعمیر کی طرف پہلاقدم ہوتاہے ملت کا سفر افراد کے عقل مند ہونے سے ہی ہوتاہے۔باشعور بنانے کا مقصد افراد کے ماضی اور حال کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے، یعنی کہ افراد اپنے ماضی کومدِ نظر رکھ کر زندگی گزاریں وہ زندگی گزارنے کے لئے پہلے سمجھیں کہ زندگی کااصل مقصد کیاہے اورکیا نہیں ہے اورایک باشعور انسان ہی زندگی گزارنے کااصل مقصد سمجھ سکتاہے کہ وہ جب تک خدا کے ارادے کو اپنا ارادہ نہ بنائیں وہ خداتعالیٰ کی بنائی ہوئی اس دنیا میں کامیاب زندگی نہیں گزار سکتے۔ ایک باشعور انسان کی مقیقی معنوں میں انسان ہے، جو باشعور نہیں وہ انسان نہیں ہے اگر باشعور اورعقل مند انسان ہی اپنے اوردوسروں کے بارے میں صحیح رائے قائم کرسکتاہے اور وہ شخص اپنے بارے میں اندازہ لگالیتاہے کہ اس کی کون سی کارروائی مثبت ہے اور کون سی منفی ہے وہ حق اورباطل میں فرق کرنا سکھاتاہے اورتعلیم انسان کو ذہنی آنکھ عطا کرتی ہے۔ عام آنکھ آدمی کو ظاہری چیزیں دکھاتی ہے، جبکہ تعلیم کی آنکھ کی مدد سے فرد چیزوں کاگہرائی سے مطالعہ کرتاہے،جس طرح ایک کسان اپنے دان رات کی محنت سے بیج کو فصل بناتاہے اس طرح تعلیم گاہ وہ جگہ ہے، جو فرد کی صلاحیتوں کونکھارتی ہے اورانسان کوقابل اورباصلاحیت بناتی ہے عام آدمی کی نظر میں تعلیم کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ وہ اسے ملازمت میں مدد دیتی ہے، مگرتعلیم کی اصل اہمیت فرد کو باشعور بنانا اورفہم عطا کرناہے۔تعلیم فرد کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ زیادہ نتیجہ خیز انداز میں زندگی کی منصوبہ بندی کرسکے۔

قدیم زمانہ میں عام طورپر تعلیم برائے تعلیم کارواج تھا۔قدیم زمانے میں علم یا تعلیم کارشتہ معاش سے کم اور زندگی سے زیادہ جڑاہواتھا۔یہی خاص وجہ ے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام بڑے بڑے اہل ِعلم قدیم زمانے میں پیداہوئے۔ موجودہ دورمیں بہت سے انجینئرز، ڈاکٹرز اور دوسرے تجارتی شعبوں کے ماہرین توموجود ہیں، مگر خالص علمی شعبے کے ماہرین موجودہ زمانے میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں علم کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ قدیم زمانے میں علم کو صرف شعور اور آگاہی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

علمی تاریخ کے اعتبار سے دیکھاجائے تومعلوم ہو گا بڑی بڑی دریافتیں کرنے والے اورعلمی کارنامے انجام دینے والے زیادہ ترماضی میں پیدا ہوئے اب موجودہ زمانے میں کوئی سقراط، ارسطو، گلیلیو اور نیوئن نظر نہیں آتا ہے۔ البتہ ٹیکنیکل شعبوں کے ماہرین لاکھوں کی تعداد میں ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورت حال بے حد تشویش ناک ہے۔اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ زندگی کے مادی شعبوں میں توبڑی نمائشی ترقی ہوئی ہے اورہو رہی ہے، مگرعلمی یادماغی ترقی کاعمل رک جاتا ہے،مگر اب ہم آج کے دور میں علم کی فضیلت کو دیکھیں تووہ عقل و شعور حاصل کرنے کی بجائے صرف پیسے کمانے کا ذریعہ بن گیاہے بہت سے لوگ توتعلیم صرف اسی لئے حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور تعلیم کااصل مقصد سمجھیں اور ترقی کریں۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment