Home » ٹویٹ نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے کپتان جی!

ٹویٹ نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے کپتان جی!

by ONENEWS

ٹویٹ نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے کپتان جی!

اب یہ حالات بھی آنے تھے کہ کپتان جی ٹویٹ کر کے عوام کو یہ خوشخبری دے رہے ہیں کہ چینی سستی ہو گئی ہے، اب انہیں دوسرا ٹویٹ یہ کرنا چاہئے کہ انڈے مہنگے ہو گئے ہیں، اپوزیشن نے چونکہ کئی دن سے چینی چور، چینی چور کی رٹ لگا رکھی ہے اس لئے شاید وزیر اعظم عمران خان کو چینی سستی ہونے کے بارے میں ٹویٹ کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ بازار میں چینی اب بھی کہیں 81 روپے کلو نہیں مل رہی تاہم وزیر اعظم کو خبر دینے والوں نے کم از کم انہیں یہ خوشخبری سنا دی ہے جو انہوں نے آگے عوام کو منتقل کی ہے۔ 52 روپے سے 81 روپے تک پہنچنا بھی کوئی معمولی بات نہیں مگر کیا کیا جائے کہ اب یہ بات بھی خوشخبری خیال کی جاتی ہے۔

گزشتہ سال سردیوں میں 10 روپے میں ملنے والا انڈہ اب بیس روپے میں مل رہا ہے۔ مرغی کا گوشت جو شاذو نادر ہی دو سو روپے کلو سے اوپر جاتا تھا اب کئی ہفتوں سے 340 روپے کلو بک رہا ہے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر یہ جھاڑو پھرا کیسے ہے؟ ہر ضروری شے عوام کی پہنچ سے دور کیوں ہوتی جا رہی ہے چینی سستی ہو کر بھی پہلے سے مہنگی مل رہی ہے لیکن وزیر اعظم اسے بھی اپنی کامیابی بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ کہاں کپتان جی نے اتنے بڑے اور حسین خواب دکھائے تھے اور کہاں وہ چینی آٹا سستا ہونے کی نوید سنا رہے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ انہیں ایک دن چینی سستی ہونے کے حوالے سے ٹویٹ کرنا پڑے گا۔ وہ تو ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی بات کرتے تھے۔ وہ تو یہ خوشخبری سناتے تھے کہ پاکستان میں باہر سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے وہ تو غریبوں کو اوپر اٹھانے کی بات کرتے تھے۔ تنخواہوں اور اُجرتوں میں اضافے کی ضرورت کو سمجھتے تھے۔

مگر یہاں تو مکمل طور پر ریورس گیئر لگ چکا ہے پوری کوشش کے بعد کپتان کے ہاتھ صرف یہی خوشخبری لگی ہے کہ 52 روپے سے ایک سو پندرہ روپے تک جانے والی چینی 81 روپے پر آ گئی ہے یعنی ایک شے کی قیمت میں فی کلو 31 روپے اضافہ بھی عوام کے لئے ایک خوشخبری بن گئی ہے۔ کپتان آہستہ آہستہ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی ٹیم سے غلطیاں ہوئی ہیں انہوں نے ایڈیٹرز اور کالم نگاروں سے ملاقات میں یہ تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف کے پاس تاخیر سے جا کر ہم نے ایک بڑی غلطی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ایک فیصلے نے ہمارے معاشی نظام کو اتھل پتھل کر دیا۔ ایک سیاسی نعرے میں پھنس کر وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر نے ایک بڑا جوا کھیلا، اتنی  تاخیر کی وجہ سے ڈالر کہاں سے کہاں پہنچ گیا، اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور سب سے خطرناک بات یہ ہوئی کہ ملک میں معاشی بے یقینی پیدا ہوئی، کاروباری طبقہ اس بے یقینی کی وجہ سے ناجائز منافع خوری پر لگ گیا۔ قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور حکومت بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئی، آٹا اس کے قابو میں رہا اور نہ چینی، سبزیاں اور پھل عوام کی دسترس میں رہے اور نہ دالیں گوشت، آج چینی کی قیمت میں کمی کو لے کر وزراء یہ فخریہ اعلان کر رہے ہیں کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کم ہو رہی ہے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان تو دور کی بات ہے وہ ایک جگہ ٹھہر بھی نہیں رہی اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

ایک عام آدمی کو بھی نظر آ رہا تھا کہ مہنگائی کے ذمہ دار عناصر کو کھلا چھوڑ کر حکومت اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے، کیونکہ اقتصادی ناکامی سے زیادہ کسی حکومت کی اور کوئی ناکامی نہیں ہوتی۔ سب نے دیکھا ہے کہ ایک عرصے تک حکومت نے اس مسئلے کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ بلکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ مہنگائی کو اپوزیشن کا پروپیگنڈہ کہا جاتا رہا اب بھی شاید کپتان اور ان کی ٹیم ہرا ہی ہرا کے راگ الاپ رہے ہوتے اگر پی ڈی ایم موقع سے فائدہ اٹھا کر حکومت کے خلاف تحریک شروع نہ کرتی۔ یہ موقع خود حکومت نے فراہم کیا کہ اپنی بُری اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے حالات ایسے پیدا کر دیئے کہ  عوام    واقعی اپوزیشن کی اس بات کو سچ سمجھنے لگے کہ اس حکومت کو مزید موقع دیا گیا تو یہ عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لے گی۔

شاعر نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ”بھوک بڑھتی ہے تو تخریب جنم لیتی ہے“ کپتان کو اس بات کا زعم تھا کہ عوام ان کے دیوانے ہیں اور اپوزیشن کی لوٹ مار کے اتنے زیادہ ثبوت اور قصے سامنے آ چکے ہیں کہ وہ اب اپوزیشن کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کریں گے مگر مہنگائی اتنی تیزی سے بڑھی، لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ جن پر قومی خزانہ لوٹنے کے الزامات ہیں ان کے دور میں تو ہر چیز سستی تھی بجلی، گیس، اشیائے خورو نوش حتیٰ کہ ڈالر بھی آدھی قیمت پر ملتا تھا۔ا گر وہ لٹیرے تھے تو یہ معجزہ کیسے دکھا رہے تھے۔ عوام کچھ عرصہ تو یہ بھی سنتے رہے کہ سابق لٹیرے حکمرانوں نے قرضے اتنے لئے کہ ان کے جاتے ہی مہنگائی بڑھ گئی، مگر آج جب وہ یہ سنتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے دو سال میں جو قرضے لئے ہیں اتنے بیس سال میں نہیں لئے گئے تو انہیں یہ حساب کتاب سمجھ نہیں آتا کہ اب لوٹ مار بھی ختم ہو گئی ہے، کرپشن کا بھی دور دورہ نہیں ہے، پھر یہ مہنگائی کیوں اتنی بڑھ گئی ہے اس ترقی معکوس کا ذمہ دار کون ہے۔؟

حکومت کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج ہر صبح اٹھ کر اپوزیشن والوں کو چور، لٹیرے، دغا باز، جعلساز حتیٰ کہ ملک دشمنوں کے آلہئ کار ثابت کرنے پر اپنا پورا زور صرف کر دیتی ہے، ان باتوں سے اب ان کروڑوں پاکستانیوں کو کیونکر مطمئن کیا جا سکتا ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں اور جن کے لئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ صنعتوں کو بجلی کم قیمت پر دے رہے ہیں، اچھی بات ہے تاہم غریبوں کو بھی کوئی ایسا ہی براہ راست ریلیف دیں ان کا بوجھ ہلکا کریں وزیر اعظم نے جب سے چینی کی 81 روپے کلو قیمت کا ٹویٹ کیا ہے گاہکوں اور دکانداروں کے درمیان جھگڑوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ لوگ 81 روپے کلو چینی مانگتے ہیں تو دکاندار ٹھینگا دکھا دیتے ہیں اگر کوئی کہے کہ ایسا وزیر اعظم نے کہا ہے تو وہ اسے بنی گالا کا راستہ دکھاتے ہیں۔ حقائق سے نظریں چرا کر عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ عوام اگر آج اپوزیشن کی بات سن رہے ہیں تو اس کی وجہ اپوزیشن سے محبت نہیں بلکہ حکومت سے وابستہ امیدوں کا ٹوٹنا ہے ان امیدوں کو جوڑنے کے لئے ٹویٹ کی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے کپتان جی!۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment