Home » ویڈیو اسکینڈل کے بارے میں وزیراعظم کا یوٹرن

ویڈیو اسکینڈل کے بارے میں وزیراعظم کا یوٹرن

by ONENEWS

ماضی کے برعکس ویڈیو سے لاعلمی کا اظہار

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ماضی کے بیانات کے برعکس دعویٰ کیا ہے کہ ارکان کے ووٹ فروخت کرنے کی ویڈیو کا انہیں پہلے سے علم نہیں تھا۔ اگر پتہ ہوتا تو وہ اسے عدالت میں پیش کردیتے۔

دو دن قبل اے آر وائی نیوز نے ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے تحریک انصاف کے سابق ارکان اسمبلی بیگوں میں نوٹوں کی گڈیاں بھر رہے ہیں۔ ان ارکان پر 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے کا الزام ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ میں اوپن بیلٹ کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں اور اس ویڈیو کی بنیاد پر نیا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ویڈیو میں نظر آنے والے سابق ارکان کے انکشافات نے الٹا تحریک انصاف اور عمران خان کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے بعض بیانات اور فیصلوں کو ناقدین ’یوٹرن‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس ویڈیو اسکینڈل میں بھی وزیراعظم نے یوٹرن لیا ہے۔

عمران خان نے 2018 کے سینیٹ الیکشن کے بعد ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں آپ کو دکھاؤں گا کہ آپ نوٹ گن رہے ہیں۔ آپ نوٹ گنتے ہوئے اپنی ویڈیو دیکھیں گے۔

مگر ویڈیو میں نظر آنے والے ایک سابق ایم پی اے عبیداللہ مایار نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف نے دوسری پارٹیوں سے لوگوں کو بلاکر بھاری رقم کے عوض انہیں سینیٹ کے ٹکٹ دیے۔ پھر وہی رقم پرویز خٹک کے کہنے پر اسپیکر ہاؤس میں ارکان اسمبلی کو دی گئی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔

اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ تحریک انصاف کے پاس ویڈیو موجود تھی تو اس وقت سامنے کیوں نہیں لائی گئی۔

اس پر وزیراعظم عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ ووٹ فروخت کرنے پر ’جو ہم نے 20 لوگ نکالے تھے، ان میں سے دو نے میرے اوپر کیسز کیے تھے۔ میرے پاس اگر یہ ویڈیو ہوتی تو میں اس کو عدالت میں کیوں پیش نہ کرتا۔‘

پرویزخٹک کے کہنے پر ووٹ فروخت کیا، ارکان کا اعتراف

ووٹ فروخت کرنے والے تحریک انصاف کے ایک رکن نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پیسے وصول کیے مگر یہ رقم پرویز خٹک کے کہنے پر اسپیکر ہاؤس میں تقسیم کی گئی۔

گزشتہ شب سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے ویڈیو میں نظر آنے والے عبیداللہ مایار نے کہا کہ یہ ویڈیو بالکل ٹھیک ہے مگر پیسوں کی تعداد غلط بتائی گئی۔ اس میں ہر ایم پی اے کو ایک کروڑ روپے دیے گئے۔ یہ حکومت کے پیسے تھے اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے کہنے پر اسپیکر ہاؤس میں تقسیم کیے گئے۔

ندیم ملک نے سوال پوچھا کہ اپنے امیدوار کو ووٹ دینے کیلئے پرویز خٹک نے پیسے کیوں دیے۔ اس پر عبیداللہ مایار نے جواب دیا کہ سینیٹ انتخابات کے دوران تحریک انصاف نے ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیے جو نہ پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی وہ سیاسی کارکن ہیں۔

عبیداللہ مایار نے دو سینیٹرز کے نام بتائے اور یہ بھی بتایا کہ ان کو ملنے والی رقم سینیٹر فدا محمد خان اور سینیٹر ایوب آفریدی نے دی تھی۔ فدا محمد خان کا تعلق مسلم لیگ نواز سے تھا۔ ان کو سینیٹ انتخابات سے قبل تحریک انصاف میں شامل کروا کر ایک دن کے اندر ٹکٹ بھی دیا گیا جبکہ سینیٹر ایوب آفریدی کے خاندان میں بھی کوئی سیاست دان نہیں تھا پھر بھی ان کو ٹکٹ دیا گیا۔

ندیم ملک نے سوال پوچھا کہ ان سینیٹرز کو نامزد کس نے کیا تھا۔ عبیداللہ مایار نے جواب دیا کہ ظاہر ہے سینیٹ کے ٹکٹ کیلئے نام اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دیے تھے۔ پرویز خٹک نے اس وقت کہا تھا کہ یہ پیسے ہم نے سینیٹ کے امیدواران سے لیے ہیں۔ آپ 17، 17 ایم پی ایز کا گروپ بناکر اسپیکر کے گھر میں بیٹھیں۔ ان امیدواروں کو ووٹ دیں اور یہ پیسے لیکر اس پر اگلا الیکشن لڑیں، آپ کے ٹکٹ بھی کنفرم ہیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان ارکان نے پیپلز پارٹی کو ووٹ فروخت کیا تھا۔  عبیداللہ مایار نے ندیم ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شکر ہے، ہم سے بھی کسی نے پوچھا۔ ہم تو ہائیکورٹ میں بھی درخواست دے چکے ہیں۔ میرا اب بھی یہی موقف ہے کہ حکومت کے پیسے تھے۔ لوگ ڈریں گے اور چھپیں گے مگر میں نہ جھکتا ہوں نہ ڈرتا ہوں۔ پرویز خٹک اور اسد قیصر کی حیثیت اور قوم قبیلے کو بھی جانتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے نے خود پیسے دیے۔ جہاں پیسے دیے گئے وہ ان کا گھر ہے اور ویڈیو بھی انہوں نے بنائی۔

ندیم ملک نے پوچھا کہ جن لوگوں نے ان باہر کے لوگوں کو ٹکٹ دیے، ان کو کوئی فائدہ یا مراعات ملے۔ عبیداللہ مایار نے جواب دیا کہ سینیٹرز نے ایک ایم پی اے کیلئے ایک کروڑ روپے نہیں بلکہ زیادہ پیسے دیے تھے۔ اب یہ واضح نہیں کہ پارٹی کو کتنے گئے اور پرویز خٹک سمیت دیگر افراد نے کتنے وصول کیے۔

You may also like

Leave a Comment