0

ویلے دی نماز کویلے دیاں ٹکراں

ویلے دی نماز، کویلے دیاں ٹکراں

حالیہ بارشوں نے کراچی میں جو تباہی مچائی ہے اس پر تمام سیاسی قیادتیں نوحہ کناں ہیں اور موجودہ صورت حال کی ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیتی ہیں۔ہر سیاستدان کے بڑے بڑے بیانات جو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اس کی پارٹی اور پارٹی ارکان تو ہمیشہ سے معصوم تھے اور ہیں مگر مخالفین نے کوئی کام نہیں کیا اور انہوں نے عوام کو بے دردی سے لوٹا ہے۔ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھا نکتا۔ اور اگر جھانک بھی لے تو شرم نام کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی۔موجودہ بارشوں میں کراچی کے نالے ابل پڑے۔ نالوں کی تمام غلاظت گلیوں اور بازاروں سے ہوتی لوگوں کے گھروں میں پہنچ گئی۔ بارشیں ختم ہوئیں تووقتی طور پر پانی اتر جائے گا۔ مگر جو غلاظت گھروں میں گھس چکی ہے اسے صاف کرنے میں کئی دن اور اس کی بدبو اور اثرات ختم ہونے میں کئی مہینے لگیں گے۔ بارش کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں درجنوں لوگ مارے گئے۔ جن کے پیارے اور گھر کے کفیل مارے گئے ان کے قتل کا مقدمہ اس لاپرواہی کے ذمہ داروں پر درج ہونا چائیے مگر ذمہ داروں کا تعین کون کرے گا۔ کہ تعین کرنے والے خود ہی قاتل ہیں۔غریب لوگوں کا محنت سے بنایا سامان اور فرنیچر سب اجڑ گیا۔ جس کا کوئی مداوہ نہیں۔

انگریز کے دور میں جب نکاسی آب کے لئے یہ برساتی نالے بنائے گئے تو دھانے میں اس کی چوڑائی پچاس فٹ سے بھی زیادہ تھی اور یہ عوام کی آئندہ سو سال سے زیادہ عرصے تک کی ضرورت کے لئے کافی تھے۔ آج وہ پچاس فٹ چوڑائی سمٹ کر پانچ چھ فٹ رہ گئی ہے۔

حکومت خود کہتی ہے کہ تین سو میٹر چوڑے نالے بعض جگہ تین میٹر ر ہ گئے ہیں بقیہ حصے پرمٹی ڈال کر اسے حکمران جماعتوں کے کارکنوں اور لیڈروں نے بڑی بے غیرتی سے بیچا ہے اور وہاں تجاوزات وجود میں آ چکی ہیں۔مکان ہیں دکانیں ہیں اور پھر ان مکانوں اور دکانوں کے تحفظ کے لئے وہاں ایک یونین بھی وجود میں آ چکی ہے۔بیچنے والے بھی در پردہ اس کی حمایت میں ہوتے ہیں۔یہ کام پاکستان کے تمام شہروں میں حکومتی سر پرستی میں پورے زور شور سے آج بھی جاری ہے۔ کیونکہ سرکاری زمیں کی اس ناجائز فروخت میں اوپر تک ہر نیک آدمی کا حصہ ہوتا ہے۔پنجاب کی اعلیٰ ترین قیادت کو پہیے لگنے کی داستانیں تو آج زبان زد عام ہیں۔ ایمانداری کے اگر عمران خان سے تعلقات خراب نہیں ہوئے تو اسی حوالے سے ایک تازہ کیس میں بتاتا ہوں۔ رائے ونڈ روڈ پر بھو پتیاں چوک کے قریب سے ایک نالہ گزرتا ہے، لاہور یونیورسٹی سے لے کر رائے ونڈ روڈتک اس میں مٹی ڈال کر اسے محدود کیا جا رہا ہے۔ وہ لمبا چوڑا نالہ اب ایک کمزور سی نالی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ایک مارکیٹ وجود میں آ چکی، بقیہ پر عمل جاری ہے۔مارکیٹ آباد ہونے کی دیر ہے وہاں ایک یونین یا انجمن تحفظ دکانداراں بھی وجود میں آ جائے گی۔ جب مارکیٹ پوری طرح وجود میں آ جائے گی تو علاقے کے منتخب لوگ جو اصل میں اس ساری واردات کے روح رواں ہیں، اپنے ووٹروں کے تحفظ کا نقاب اوڑھ کر سامنے آئیں گے اور کسی نہ کسی طرح اس مجرمانہ فعل کو قانونی شکل دینے کی سعی کریں گے۔ یہ قانونی شکل دینے والے سارے لوگ اس واردات میں پورے حصہ دار ہیں اور اپنا اپنا حصہ وصول کر چکے ہوتے ہیں اس لئے غریبوں کے ساتھ ہمدردی کی اوٹ میں اپنا کمال دکھا جائیں گے۔ اگلے پندرہ سال بعد اس علاقے کے مکین جب پانی کا نکاس نہ ہونے کے سبب اپنی قسمت کو روئیں گے تو یہ مگر مچھ بھی ان کے ساتھ آہ و زاری کرتے نظر آئیں گے۔ مگر سچ تو یہی ہے کہ”ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں“۔ایکشن لینے کا صحیح وقت یہی ہے۔آج اگر ایمانداری بغیر پہییوں کے ہی ہے جیسا کہ سب دعویٰ کرتے ہیں اور ایمانداری اگر ادھر کا رخ کر لے تو واسا کا انسپکٹر اور بہت سے افسر اسی جرم میں لٹکائے جا  سکتے ہیں۔ وہ عوامی نمائندے جو اس کام میں پوری طرح ملوث ہیں۔ ان کی نمائندگی اگر قائم رہے تو بھی ایمانداری پر حرف آئے گا۔ ان کے خلاف سخت کاروائی بہت ضروری ہے۔مگر یہ سب فیصلہ تو ایمانداری نے خود کرنا ہے۔

کراچی میں بارشوں سے بگڑی ہوئی بد ترین صورت حال کو یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ سول انتظامیہ کے لوگ نا اہل، نا قابل اصلاع  اور کرپٹ ہیں، فوج سے مدد طلب کی گئی ہے۔ فوج آج بھی ماں جیسے رویے کے ساتھ لوگوں کی خدمت کے لئے موجود ہے۔میں حیران ہوں ان لوگوں پر جو فوج کو برا بھلا کہتے اور ہر مسئلے کا فوج کو ذمہ دار مانتے ہیں۔یہ ایک لمبی بحث ہے جس پر کسی وقت تفصیل سے لکھوں گا۔مجھے بھی فوج سے کچھ نا کچھ گلے ہوتے ہیں مگر فخر کی بات یہ ہے کہ یہ میری اپنی فوج ہے۔ میرے ملک کے سپوتوں کی فوج ہے۔دنیا کے ہر خطہ زمین کو فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں کسی خطے کے لوگوں کی اپنی فوج نہیں ہوتی وہاں نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی دوسری فوج آ جاتی ہے۔مجھے فخر ہے کہ میری اپنی فوج اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی دوسرا آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔فوج کا اپنا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جہاں ہر طرح کے پیشہ ور موجود ہیں۔اصل خرابی ہماری سیاست میں ہے۔

ہم نا اہل، کم علم، کم ظرف، کم حوصلہ، نامرد اور سیاسی شعور سے نا بلد لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہمارے آدھے منتخب نمائندے سیاسی دانش تو دور کی بات، عام فہم عقل سے بھی بے بہرہ ہیں مگر وزیر بننا ان کی آرزو۔ حالانکہ وزارت کا مفہوم بھی نہیں جانتے۔زیادہ تر معاملات میں یہ بے بس ہو کر فوج کو پکارتے ہیں۔میں نے محلوں اور گلیوں میں دیکھا ہے کہ ایک شخص اپنی نا اہلی اور نالائقی کے سبب اپنے بیوی اور بچوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھ سکتا مگر لوگوں سے ہر دم یہ شکایت کرتا کہ فلاں ہمسایہ میرے گھرجھانکتا ہے۔فلاں میرے گھر والوں سے یوں ملتا ہے۔فلاں ان کا غیر ضروری خیال رکھتا ہے۔ یہ سب غلطکام کئی ہمسائے کرتے ہیں۔ محلے دار ہنس کر کہتے ہیں کہ الزام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو۔بالکل اسی طرح اصل مسئلہ ان دانشور سیاستدانوں کا فقدان ہے کہ جن میں غیرت ہو حمیت ہو اور جو کچھ کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا جانتے ہوں۔سیاستدان اگر اہل ہوں تو فوج کو کیا مصیبت ہے کہ اپنا کام چھوڑ کر عوامی معاملات میں ملوث ہو۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں